کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر

آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

۱

آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہےصبح سے جشن کا غل شام کے بازار میں ہےصحبتِ عیشِ طرب مجلس غدار میں ہےشور و فریاد و بکا عترتِ اظہار میں ہےنوبتیں بجتی ہیں دشمن تو خوشی ہوتے ہیںفاطمہؔ پیٹتی ہیں، شیرِ خداروتے ہیں

۲

آگے آگے تو ہیں سجادؔ جھکائے گردنپاؤں بیڑی میں، گلا طوق میں گردن میں رسنمثلِ خورشیدِ فلک شرم سے لرزاں ہے بدنچاک ہے غم میں گریبانِ قبا تا دامنبیٹھ جاتے ہیں تو جھنجھلا کے اٹھاتے ہیں لعیںبوڑیاں نیزوں کی، شانوں میں چھپاتے ہیں لعیں

۳

پنڈلیاں سوجی ہیں، اور طوق سے چھلتا ہے گلاسخت ایذا میں ہے ، فرزند شۂ کرب و بلاخار تلووں میں ہیں، مقتل سے جو پیدل ہے چلادھجیاں پاؤں میں باندھے ہے، وہ نازوں کا پلااس کی مظلومی پہ بیتاب حرم ہوتے ہیںدیدۂ حلقۂ زنجیر لہو روتے ہیں

۴

پیچھے بیمار کے ہے قافلۂ اہلِ حرمچپ ہیں تصویر سے گویا کہ کسی میں نہیں دمدخترِ فاطمہؔ زہرا کا عجب ہے عالمتھرتھری جسم میں ہے اٹھ نہیں سکتے ہیں قدمرو کے فرماتی ہیں کس گوشے میں جائے زینبؔہاتھ کھل جائیں تو منہ اپنا چھپائے زینبؔ

۵

کبھی سجادؔ سے کہتی ہیں، بہ آہ و زاریمجھ کو دربار کی آفت سے بچاؤ داریکر کے زاری وہ بیاں کرتا ہے وہ آزاریصبر فرماؤ جو مرضیِٔ جنابِ باریکم نہ کچھ مرتبۂ آلِ عبا ہوئے گاعاصیوں کا اسی پردہ میں بھلا ہوئے گا

۶

گردنیں بارہ اسیروں کی ہیں اور ایک رسنجس طرح ہوتے ہیں گلدستے ہیں گلہائے چمنرشتہ دارانِ علیؔ سب ہیں گرفتارِ محنشرم کے مارے موئی جاتی ہے اک شب کی دلہندم بدم ساس بھی سر پیٹتی ہے ساتھ اس کےابھی کنگنا نہ کھلا تھا کہ بندھے ہاتھ اس کے

۷

ہے اس رسی میں ننہا سا سکینہ کا گلودم گھٹا جاتا ہے آنکھوں سے رواں ہیں آنسوچاک کرتے کا گریباں ہے، پریشاں گیسوسوجے تو گال ہیں کانوں سے ٹپکتا ہے لہوآہ ہر گام پہ سینے سے نکل جاتی ہےجب گھرکتے ہیں ستمگر تو دہل جاتے ہے

۸

ماں سے کرتی ہے اشارہ وہ گرفتارِ ستمرسی کھلوا دو نہیں گھٹ کے نکل جائے گا دمرو کے وہ کہتی ہے مجبور ہوں میں کشتۂ غمہائے بچی تری قسمت میں تھا یہ درد و المصدقے امّاں یہ گرہ عقد کشا کھولے گابی بی اس عقدۂ مشکل کو خدا کھولے گا

۹

ماں سے رو رو کے وہ نادان یہ کرتی ہے بیاںکس کا دربار ہے، اس حال سے جاتی ہو کہاںیہ تو کہہ دو کہیں بابا بھی ملیں گے اماںکئی دن گذرے ہیں وہ ہیں مری آنکھوں سے نہاںبھول جائے گایہ سب دکھ جو انہیں پاؤں گیدوڑ کر چاند سی چھاتی سے لپٹ جاؤں گی

۱۰

کہیں دربار میں اماں وہ اگر مجھ کو ملےدیکھنا کرتی ہوں کیسے شۂ والا سے گلےوہ خبر لیویں نہ گردن مری رسی سے چلےاس کو یوں بھولتے ہیں باپ سے بچہ جو پلےوجہ کیا کون سی تفصیر پہ منہ موڑا ہے؟سیلیاں کھانے کو اعدا میں مجھے چھوڑا ہے

۱۱

کان زخمی ہوئے اور لی نہ خبر واہ رے پیارخوب بھولے مجھے بابا کی محبت کے نثاردن میں چھاتی سے لگاتے تھے مجھے سو سو بارمجھ پہ یہ ظلم ہیں آیا انہیں کس طرح قرارمنہ دکھاتے نہیں شفقت سے بلانا کیساخواب میں آئے نہ چھاتی پہ سلانا کیا

۱۲

روتے تھے سن کے سکینہؔ کا بیاں سارے امیرہر قدم پر تھا یہی شور کہ ہے ہے شبیراس طرف ہوتی تھی آرائشِ دربارِ شریرتخت پر آپ تھا اور کرسیوں پر سارے امیراک طرف لوٹ کا سب زیور و زر رکھا تھااور تلے فاطمہ کے لعل کا سر رکھا تھا

۱۳

نذریں ہاتھوں پہ لیے آتے تھے سب درباریپڑھتے تھے تہنیت فتح کو باری باریجمع دربار میں تھی، شہر کی خلفت سارییاں تو تھا جشن کا غل، اور ادھر تھی زاریاس طرف تو دف و نے کی صدا آتی تھیاور اس سمت سے ہے ہے کی صدا آتی تھی

۱۴

دم بدم تخت سے اٹھ اٹھ کے یہ کہتا تھا شریرقیدی کیوں جلد نہیں آتے ہیں کیا ہے تاخیربڑھ کے کرتے تھے خبردار یہ اُس دم تقریرضعف سے پاؤں کو تھم تھم کے اٹھاتے ہیں اسیرمارے دہشت کے لہو ان کا گھٹا جاتا ہےہر قدم ایک ضعیفہ کو غش آجاتا ہے

۱۵

بولا وہ کون سی عورت ہے وہ محبوسِ ستمعرض کی اس نے کہ ہمشیرِ شہنشاہِ اممباپ جس کا ہے علیؔ پشت و پناہِ عالمجس کی ماں فاطمہؔ ہے فخر جناب مریمہے جو سلطانِ عرب اس کی نواسی ہے وہکلمہ گو جس کے ہیں سب اس کی نواسی ہے وہ

۱۶

ہے وہی حضرتِ جعفرؔ کی بہو سینہ فگاروہی زینبؔ ہے جو شبیرؔ کی تھی عاشقِ زارلاش شہ پر، وہی اُشتر سے گری تھی کئی باربعد مرنے کے بھی ہے بھائی بہن میں وہی پیارقافلہ یوں تو سبھی شام و سحر روتا ہےپر وہ روتی ہے تو شبیر کا سر روتا ہے

۱۷

بولا وہ کیا ہے پھر اوروں کے نہ آنے کا سببعرض کی ایک ہی رسی میں ہیں جکڑے ہوئے سبخاک پہ گرتی ہے جب بنتِ شہنشاہِ عربشور ہوتا ہے اسیروں میں کہ ہے ہے زینبؔہوش میں آن کے، بھائی کو وہ جب روتی ہےدیر تک قیدیوں میں سینہ زنی ہوتی ہے

۱۸

انہیں رانڈوں مین ہے اک دخترِ فرزند نبیخوگرِ سینۂ دلبند، رسولِ عربیآفتِ فاقہ کشی، بے پدری تشنہ لبیدم بہ دم لب پہ یہ ہے این ابی این ابیچھاتیاں پھٹتی ہیں اس درد سے وہ روتی ہےشمرؔ جب آنکھ دکھاتا ہے تو چپ ہوتی ہے

۱۹

ذکرِ یہ تھا کہ وہ قیدی سرِ دربار آئےسب پکارے کہ وہ حاکم کے گنہگار آئےآگے روتے ہوئے سجادِؔ دل افگار آئےسر برہنہ حرم احمد مختار آئےصاف خورشید سی شکلیں جو نظر آتی ہےآنکھیں سب ظالموں کی بند ہوئی جاتی ہے

۲۰

گو کہ اس روز تھیں سیدانیاں کھولے ہوئے بالمنہ چھپانے کو کسی پاس نہ تھا اک رومالبیٹیوں کا اسد اللہ کی، اللہ رے جلالآنکھ اٹھا کر کوئی دیکھے، یہ کسی کی تھی مجالجلوۂ رشنیِ طور نظر آتا تھاکچھ نہ آنکھوں کو بجز نور نظر آتا ہے

۲۱

پردۂ چشم سے باہر نہ نکلتی تھی نظرایک سے پوچھتا تھا ایک کہ قیدی ہیں کدھر؟بیٹیاں فاطمہؔ زہرا کی جو تھیں ننگے سردست حیدرؔ تھا تماشائیوں کی آنکھوں پرتھا جو منظورِ خدا آلِ عبا کا پردہفاطمہؔ روکتی تھی، اپنی ردا کا پردہ

۲۲

کہا ظالم نے کہ ہاں قیدیوں کو لاؤ قریبحکم یہ سنتے ہی دوڑے گئے دو چار نقیبشرم کے مارے ہوا، بیبیوں کا حال عجباپنا سر پیٹ کے بانو نے کہا وائے نصیبکھینچ کر سب کو ستمگار جو لے جانے لگےحضرتِ زینب و کلثوم کو غش آنے لگے

۲۳

تخت کے سامنے روتے ہوئے آئے جو اسیردیکھ کر سیدِ سجادؔ کو بولا وہ شریرسرکشی کر کے نہ سربر ہوئے مجھ سے شبپرشکر کرتا ہوں کہ خالق نے کیا تم کو حقیربیٹھنے کا کہیں دنیا میں سہارا نہ رہاپنجتن اٹھ گئے اب زور تمہارا نہ رہا

۲۴

ہاں کہو آج حمایت کو پیمبر ہیں کہاں؟کیا ہوئے ابنِ علیؔ حیدر صفدر ہیں کہاں؟قید میں ان کی بہو آتی ہے شبّر ہیں کہاں؟ننگے سر زینبِ دلگیر ہے سرور ہیں کہاں؟ذبح خنجر سے ہوا جو وہ پدر کس کا ہے؟اک ذرا غور سے دیکھو تو یہ سر کس کا ہے؟

۲۵

کس کے ناموس لٹے کس کا ہوا گھر تاراج؟کون بے سر ہوا، اور کون ہوا صاحبِ تاج؟ایک چادر کے لیے کس کی بہن ہے محتاج؟کون کمزور ہے، اور کون زبردست ہے آج؟خلق میں کس کے لیے مرتبۂ عالی ہے؟کس کا اقبال ہے، اور کس کی بد اقبالی ہے؟

۲۶

نہر پر بازوئے شبیرؔ کو مارا کس نے؟جنگ میں اکبرؔ دلگیر کو مارا کس نے؟تیر سے اصغرِؔ بے شیر کو مارا کس نے؟شاہ سے صاحبِ شمشیر کو مارا کس نے؟فوج بے سر ہوئی سلطانِ حجازی نہ رہےجن کی تلوار کا شہرہ تھا وہ غازی نہ رہے

۲۷

سن کے یہ آگیا بنتِ شہ مرداں کو جلالتھرتھرا کر کہا کیا بکتا ہے او بد اقبالصاحبِ عزت و توقیر محمد کی ہے آلکبھی ہم لوگوں کی عزت پہ نہ آئے گا زوالہم کو بے قدر جو سمجھا تو خطا کرتا ہےدیکھ مصحف میں خدا کس کی ثنا کرتا ہے

۲۸

ہاں بتا آیۂ تطہیر کسے آیا ہے؟دوست اپنا کسے اللہ نے فرمایا ہے؟ہل اتیٰ کس کے لیے روح امیں لایا ہے؟کس نے معراج کا دنیا میں شرف پایا ہے؟قرب ایسا کسے اللہ کی درگاہ میں ہے؟فرقِ قوسین بتا کس میں اور اللہ میں ہے؟

۲۹

زور اپنا کسے اللہ نے امداد کیا؟خانۂ کفر کو کس شیر نے برباد کیا؟حق نے قرآن کے سورۃ میں کسے یاد کیا؟کس کو اکملت لکم دینکم ارشاد کیا؟کس سے ہر جنگ میں عاجز صفِ کفار آئی؟بدر میں کس کے لیے عرش سے تلوار آئی؟

۳۰

آلِ احمد کو حقارت سے نہ دیکھ او مقہورسب پہ روشن ہے کہ ہم لوگ ہیں اللہ کے نورمار کر سبطِ پیمبر کو یہ نخوت یہ غرورخیر ہم دور نہ تو دور نہ محشر ہے دورحق کا دریائے غضب جوش میں جب آئے گاباندھنا ہاتھ کا سادات کے کھل جائے گا

۳۱

فخر کیونکر نہ کرے تو کہ یہ ہے فخر کی جاتو نے اللہ کے محبوب کا کاٹا ہے گلاہو گئے سرخ لہو میں حسنِ سبز قبافاطمہؔ ذبح ہوئی، شیر خدا قتل ہواآگ دی خیمہ کو اور زیور و زر لوٹ لیاجس کے درباں تھے ملک، تو نے وہ گھر لوٹ لیا

۳۲

ترے ناموس تو ہیں پردہ نشیں او اظلمبال بکھرائے کھڑے ہیں، ترے دربار میں ہمہائے بے پردہ ہے بانوئے امامِ عالمہے سکینہؔ پہ وہ ظلم اور یہ کبراؔ پہ ستمننگے سر قید میں اک رات کی بیاہی آئیتجھ کو شادی ہوئی اور ہم پہ تباہی آئی

۳۳

کیے زینبؔ نے فصاحت سے یہ جس وقت کلامکانپے سینوں میں جگر رونے لگے لوگ تمامتخت کے نیچے دھرا تھا جو سرِ پاکِ اماممتوجہ ہوا شرما کے ادھر حاکمِ شاماور ان ظلم رسیدوں پہ جفا کرنے لگالبِ فرزند پیمبر پہ چھری دھرنے لگا

۳۴

کھول کر چوب سے لب ہائے شہنشاہِ عربکہتا تھا پارۂ یاقوت سے بہتر ہیں لبدرِ دنداں ہیں یہ تاباں کہ خجل ہیں کوکبپیٹ کر سینے کو زینبؔ نے کہا ہائے غضبنہ محمدؔ سے نہ حیدرؔ سے حیا کرتا ہےقطع ہو جائے ترا ہاتھ، یہ کیا کرتا ہے

۳۵

اس چھڑی کو مرے بھائی کے لبوں سے سرکابوسے لیتے تھے انہیں ہونٹوں کے محبوب خدابہر امت انہیں ہونٹوں سے دعا کی ہے سداانہیں دانتوں پہ گہر کرتی تھی صدقے زہراؔتجھ کو پیارے نہیں گو، ہم کو تو پیارے ہیں یہعرش تک جن کا ہے شہرہ وہ ستارے ہیں یہ

۳۶

یہ ستم بھائی پہ کن آنکھوں سے دیکھے ہمشیرارے ظالم سرِ بے تن کی بھلا کیا تفصیریہ چھڑی ہائے غضب اور لبِ پاک شبیرؔنہ ستا مجھ کو میں ہوں بنتِ شۂ خیبر گیران کھلے بالوں کو اب ہاتھوں پہ دھرتی ہوں میںلے شکایت تری اللہ سے کرتی ہوں میں

۳۷

کہہ کے یہ غیظ میں آئی جو علیؔ کی جائیآسماں آ گئے جنبش میں زمیں تھرائیسر شبیر سے ناگاہ صدا یہ آئیتھام لے غصے کو زینبؔ ترے صدقے بھائینہ تلاطم میں کہیں قہر الٰہی آ جائےکہیں امت کی نہ کشتی پہ تباہی آ جائے

۳۸

تم تو آگاہ ہو، شبیر نے جو دکھ پائےپر نہیں حرف شکایت کے ، زباں پر لائےسر کو نیوڑا لیا جب ذبح کو قاتل آئےہم نے امت کے لیے چھاتی پہ نیزے کھائےاتنی سی بات پہ مصروفِ بکا ہوتی ہوتم چھڑی ہونٹوں پہ رکھنے سے خفا ہوتی ہو

۳۹

برچھیاں کھانے سے کیا اس میں کچھ ایذا ہے پڑیچپ رہے تن پہ جو تلوار یہ تلوار پڑیجانے دو رکھی تو رکھی مرے ہونٹوں پہ چھڑیاے بہن یہ بھی گذر جائے گی آفت کی گھڑیچپ ہیں جو ہم پہ ستم راہِ خدا میں ہوگااس کا انصاف تو دربارِ خدا میں ہوگا

۴۰

سرِ شبیر نے زینبؔ سے جو یہ کی تقریرآ کے غصے میں لگا کانپنے وہ حاکم بے پیرشمرؔ سے بولا کہ بس اس کی یہی ہے تعزیرسب کو لے جا کے تو کر سخت خرابے میں اسیربس انیسؔ اب جگر و قلب پھنکا جاتا ہےحال زنداں کا نہیں منہ سے کہاجاتا ہے

۸۵ / ۹۰