آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

تخت کے سامنے روتے ہوئے آئے جو اسیردیکھ کر سیدِ سجادؔ کو بولا وہ شریرسرکشی کر کے نہ سربر ہوئے مجھ سے شبپرشکر کرتا ہوں کہ خالق نے کیا تم کو حقیربیٹھنے کا کہیں دنیا میں سہارا نہ رہاپنجتن اٹھ گئے اب زور تمہارا نہ رہا

About this couplet

This is couplet 23 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۳ / ۴۰