آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

آلِ احمد کو حقارت سے نہ دیکھ او مقہورسب پہ روشن ہے کہ ہم لوگ ہیں اللہ کے نورمار کر سبطِ پیمبر کو یہ نخوت یہ غرورخیر ہم دور نہ تو دور نہ محشر ہے دورحق کا دریائے غضب جوش میں جب آئے گاباندھنا ہاتھ کا سادات کے کھل جائے گا

About this couplet

This is couplet 30 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۰ / ۴۰