آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

سختیاں مرگ کی کر اپنے کرم سے آساںلب پہ تکبیر ہو، جب خلق پہ خنجر ہو رواںدل میں ہو یاد تری، بند ہو جس وقت زباںدم بھروں تیرا ہی تن سے جو نکلنے لگے جاںبعدِ چہلم جو مجھے قبر میسر ہووےزخمی تن پر نہ فشار اے مرے داور ہووے

About this couplet

This is couplet 16 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۶ / ۵۵