کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر

آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

۱

آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہےظلم کی چاند پہ زہراؔ کی گھٹا چھائی ہےاس طرف لشکرِ اعدا میں صف آرائی ہےیاں نہ بیٹا نہ بھتیجا نہ کوئی بھائی ہےبرچھیاں کھاتے چلے جاتے ہیں تلواروں میںمار لو پیاسے کو ہے شور ستمگاروں میں

۲

زخمی بازو ہیں کمرخم ہے بدن میں نہیں تابڈگمگاتے ہیں نکل جاتی ہے قدموں سے رکابپیاس کا غلبہ ہے لب خشک ہیں آنکھیں ہیں پر آبتیغ سے دیتے ہیں ہر وار کا اعدا کو جوابشدتِ ضعف میں جس جا پہ ٹھہر جاتے ہیںسیکڑوں تیر ستم تن سے گذر جاتے ہیں

۳

گیسو آلودۂ خوں لپٹے ہیں رخساروں سےشانے کٹ کٹ کے لٹک آئے ہیں تلواروں سےتیرہ پیوست ہیں خوں بہتا ہے سوفاروں سےلاکھ آفت میں ہے اک جان دل آزاروں سےفکر ہے سجدۂ معبود ہیں سر دینے کیدار سے تیغوں کے فرصت نہیں، دم لینے کی

۴

خون سے تر پیچ عمامے کے ہیں سر زخمی ہےہے جبیں چاند سی پر نور مگر زخمی ہےسینہ سب برچھیوں سے تا بہ کمر زخمی ہےتیرِ بیداد سے دل زخمی، جگر زخمی ہےضربِ شمشیر سے بیکار ہیں بازو دونوںظلم کے تیروں سے مجروح ہیں پہلو دونوں

۵

برچھی آ کر کوئی پہلو میں لگا جاتا ہےمارتا ہے کوئی نیزہ تو غش آجاتا ہےبڑھتے ہیں زخمِ بدن، زور گھٹا جاتا ہےبند آنکھیں ہیں، سرِ پاک جھکا جاتا ہےگردِ زہراؔ و علیؔ گریہ کناں پھرتے ہیںغل ہے گھوڑے سے امام دو جہاں گرتے ہیں

۶

گرتے ہیں قطرۂ خوں زخمِ جبیں سے پیہمدستِ مجروح سے کھنچ سکتے نہیں تیرِ ستمفکر ہے بخششِ امت کی کچھ اپنا نہیں غمکرتے ہیں شکرِ خدا خشک زباں سے ہر دمہے عبا تیروں سے غرباں قبا گلگوں ہےہونٹ یا وقت سے زخمی ہیں دہن پر خوں ہے

۷

زیں سے ہوتا ہے جدا دوشِ محمد کا مکیںچمنِ فاطمہ کا سرو ہے مائل بہ زمیںبرچھیاں گرد ہیں اور بیچ میں ہیں سرورِ دیںہے یہ نزدیک گرے مہرِ نبوت کا نگیںپاؤں ہر بار رکابوں سے نکل جاتے ہیںیا علیؔ کہتی ہے زینبؔ تو سنبھل جاتے ہیں

۸

لاکھ تلواریں ہیں اورایک تنِ اطہر ہےایک مظلوم ہے اور ظالموں کا لشکر ہےسیکڑوں خنجرِ فولاد ہیں اور اک سر ہےنہ کوئی یار، نہ ہمدم، نہ کوئی یاور ہےباگ گھوڑے کی لٹکتی ہے، اٹھا سکتے نہیںسامنے اہلِ حرم روتے ہیں، جا سکتے ہیں

۹

کوئی سید کا نہیں آہ، بچانے والاحربے لاکھوں ہیں، اور اک زخم اٹھانے والاپیاس میں کوئی نہیں، پانی پلانے والاسنبھلے کس طرح بھلا، برچھیاں کھانے والاچرخ سے آگ برستی ہے زمیں جلتی ہےمارے گرمی کے زباں خشک ہے، لُو چلتی ہے

۱۰

کہیں دم لینے کو سایہ نہیں، ہے وقت زوالاینٹھی جاتی ہے زباں پیاس کی شدت ہے کمالکبھی زینبؔ کا ہے غم گاہ سکینہؔ کا خیالدن جو ڈھلتا ہے تو حضرت ہوئے جاتے ہیں نڈھالمثلِ خورشید، بدن ضعف سے تھراتا ہےنیر برجِ امامت پہ زوال آتا ہے

۱۱

کہتے ہیں ظالموں سے، خشک زباں دکھلا کربہرِ حق پانی کا، اک جام پلادو لا کراہلِ کیں کہتے ہیں یہ تیغِ ستم چمکا کرآبِ شمشیر پیو برچھیوں کے پھل کھا کریہ سخن سن کے بھی غصہ نہیں فرماتے ہیںیاس سے سوئے فلک دیکھ کے رہ جاتے ہیں

۱۲

عرض کرتے ہیں یہ خالق سے کہ اے لبِ غفور!تو ہے عالم کہ نہیں کچھ ترے بندے کا قصورکرتے ہیں یہ مجھے بے جرم و خطا تیغوں سے چورہاتھ امت پہ اٹھانا نہیں مجھ کو منظورجانتے ہیں کہ محمدؔ کا نواسا ہوں میںپانی دیتے نہیں دو روز کا پیاسا ہوں میں

۱۳

تو نے بچپن سے مرے ناز اٹھائے یاربوہ عنایت کیا جو تجھ سے کیا میں نے طلبتیرا محبوب بنا عید کو میرا مرکبروزہ رکھا تو چھپا مہر نمایاں ہوئی شببھوک میں خلد کا کھانا مجھے امداد کیابھیج کر ہرنی کا بچہ مرا دل شاد کیا

۱۴

اب اگر ہے یہ تری مصلحت اے ربِّ قدیرہو رواں حلق پہ اس پیاسے کے آبِ شمشیرمیرے مولا بہ سر و چشم ہے حاضر شبیرحکمِ حاکم میں یہ طاقت ہے کروں میں تاخیرجلد گردن پہ رواں، خنجرِ برّآں ہووےاے خوشا وہ، جو تری راہ میں قرباں ہووے

۱۵

غم نہیں کچھ مجھے گو بیکس و بے یار ہوں میںزیرِ شمشیر گلا رکھنے کو تیار ہوں میںتو مددگار ہے، مختار ہے لاچار ہوں میںوقتِ مشکل ہے، عنایت کا طلبگار ہوں میںتیرے سجدے میں یہ سر تن سے جدا ہو جاوےعہدِ طفلی کا جو وعدہ ہے، وفا ہو جاوے

۱۶

سختیاں مرگ کی کر اپنے کرم سے آساںلب پہ تکبیر ہو، جب خلق پہ خنجر ہو رواںدل میں ہو یاد تری، بند ہو جس وقت زباںدم بھروں تیرا ہی تن سے جو نکلنے لگے جاںبعدِ چہلم جو مجھے قبر میسر ہووےزخمی تن پر نہ فشار اے مرے داور ہووے

۱۷

رحم کر رحم کر شرمندہ ہوں اے یارِ خدابندگی کا ترے جو حق تھا ادا ہو نہ سکاخوفِ محشر سے، بدن کانپتا ہے، سرتاپاہوگی اعمال کی پرسش تو، کہوں گا میں کیا؟کوئی تحفہ ترے لائق نہیں پاتا ہے حسینؔہاتھ خالی ترے دربار میں آتا ہے حسینؔ

۱۸

تقویت دل کو کرم سے ہے ترے یا رحماںنہیں مایوس کہ رحمت ہے تری بے پایاںمشکلیں بندوں کی کر دیتا ہے دم میں آساںشکر الطاف و عنایات میں قاصر ہے زباںعاصیوں سے بھی محبت نہیں کم کرتا ہےجرم وہ کرتے ہیں تو لطف و کرم کرتا ہے

۱۹

میں تری راہ میں مظلومی سے ہوتا ہوں فداتو ہے آگاہ کہ دو دن کا ہوں بھوکا پیاساچاہتا ہوں میں یہی، اپنی شہادت کا صلامغفرت امتِ عاصی کی ہو اے بارِ خداہے گوارا مجھے جو کچھ کہ اذیت ہووےان کو دنیا میں بھی عقبیٰ میں بھی راحت ہووے

۲۰

عرض کرتے تھے یہ خالق سے شۂ بندہ نوازیک بیک عالمِ بالا سے یہ آئی آوازاے مرے شیر کے فرزند، نبی کے دمسازتجھ سے ہم خوش ہیں پذیرا ہے ترا عجر و نیازمرد ہے عاشقِ کامل ہے، وفادار ہے توجو کہا وہ ہی کیا صادق الاقرار ہے تو

۲۱

تو بھی مقبول ہے اور تیری عبادت بھی قبولیہ اطاعت بھی ہے مقبول، یہ طاعت بھی قبولعاجزی بھی تری مقبول، شہادت بھی قبولتیری خاطر سے ہمیں بخششِ امت بھی قبولہم نے خیل شہدا کا تجھے سردار کیاامتِ احمد مختار کا مختار کیا

۲۲

دوست داروں کا ترے گلشنِ جنت ہے مقامتاابد سایۂ طوبیٰ میں کریں گے آرامہوں گے محشور ترے ساتھ عزادار تمامتجھ کو جو روئیں گے آنچ ان پہ ہے دوزخ کی حرامغم نہ کھا! اہلِ جہاں تیرے محب سارے ہیںتو ہے پیارا، ترے پیارے میں بھی ہمیں پیارے ہیں

۲۳

ہوں گے ہر رنج سے، محفوظ ترے تعزیہ دارسختیِٔ مرگ نہ ان کو ہے، نہ ایذائے فشاردمِ مردن نظر آوے گا علیؔ کا دیدارقبر سے گلشنِ فردوس کی دیکھیں گے بہاردار دنیا ہی میں ہیں جو سو انہیں ایذا ہےآنکھیں جب بند ہوئیں پھر، درِ جنت وا ہے

۲۴

تجھ سا عابد نہ ہوا ہے، نہ کوئی ہووے گاتیر کھا کھا کے کسی نے بھی ہے یوں شکر کیاطاعتِ خلق سے اک سجدہ ہے افضل تیراعرشِ اعظم پہ، ملائک تری کرتے ہیں ثناسارا گھر میری محبت میں، فنا تو نے کیابندگی کا تھا جو کچھ حق وہ ادا تو نے کیا

۲۵

حشر تک روئے گا مظلومی پہ تیری عالمتیرا ماتم نہیں ہووے گا جہاں میں کبھی کمروضۂ پاک کو تیرے یہ شرف بخشیں گے ہمآئیں گے جس کی زیارت کو ملک ہو کے بہمیہ زمیں عرش سے رتبے میں سوا ہووے گیخاک تربت کی تری خاکِ شفا ہووے گی

۲۶

یہ صدا سن کے ہوئے شاد شۂ ہر دوسراآ گئی از سرِ نو جسم میں طاقت گویاجھک کے سجدے کی طرف عجز سے رو کر یہ کہامیرے مولا میں تری بندہ نوازی کے فداکیوں نہ ممتاز ہو وہ تو جسے رتبہ بخشےاس کفِ خاک کو کیا رتبۂ اعلیٰ بخشے

۲۷

ابھی مولا نے سرِ عجز اٹھایا نہ تھا آہنیزہ اک چھاتی پہ مارا جو کسی نے ناگاہغش میں گرنے لگے گھوڑے سے امامِ ذی جاہآئی خاتونِ قیامت کی صدا بسم اللہتھامنے آئے علیؔ خلد سے گھبرائے ہوئےدوڑے محبوبِ خدا ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے

۲۸

اک جفا کیش نے پھر پہلو پہ نیزہ ماراچھد گیا توڑ کے چھاتی کو کلیجہ ساراپشتِ تازی پہ، سنبھلنے کا نہ پایا یاراگر پڑا خاک پہ، وہ عرشِ خدا کا تاراگرد آلود قبائے شۂ پرنور ہوئیریت زخموں کے لیے مرہم کافور ہوئی

۲۹

خاک و خوں میں جو تڑپتے تھے ، شہنشاہِ زمنگل کے مانند کھلے جاتے تھے سب زخمِ بدنطلبِ آب میں کھولے ہوئے تھے خشک دہنگرد کھینچے ہوئے تلواریں کھڑے تھے دشمنغمِ ناموس بھی تھا، پیاس کی بھی شدت تھیپھر سکینہؔ کو نہ دیکھ آئے یہی حسرت تھی

۳۰

کان میں آتی تھی زینبؔ کے صدائے جاںکاہدل تڑپ جاتا تھا کرتے تھے عجب درد سے آہراہ روکے ہوئے خیمے کی، کھڑے تھے گمراہنیم وا چشم سے کرتے تھے سوئے خیمہ نگہتنِ زخمی پہ جو پیکانِ ستم گڑتے تھےخاک سے اٹھتے تھے اور کانپ کے گر پڑتے تھے

۳۱

کہتا تھا فوج میں سب سے عمر بد اخترکھنچے کیوں تیغوں کو ہاتھوں میں کھڑے ہو ششدرریگِ تفتیدہ پہ ہے غش میں، علیؔ کا دلبرجاؤ کیا دیر ہے ، کاٹو شۂ مظلوم کا سرتیغ سے فاطمہؔ زہرا کا گلا چاک کروجلد ہاں خاتمۂ پنجتن پاک کرو

۳۲

ایسے مظلوم کا، سر کاٹنا کیا ہے دشوارجس کا کوئی بھی مددگار، نہ ہمدرد، نہ یارعورتیں ہیں کئی خیمے میں غریب و ناچارمر چکے پہلے ہی جو خون کے تھے دعویدارخوں بہا بھی نہ کوئی مانگنے کو آوے گااک پسر ہے سو وہ بیمار ہے مرجاوے گا

۳۳

کانپ کر کہتے تھے سب ہم سے نہ ہوگا یہ ستمذبح فرزندِ محمدؔ کو نہیں کرنے کے ہمایسے مظلوم کی چھاتی پہ جو رکھے گا قدمپاؤں جل جائے گا تھرائے گا عرشِ اعظمپیٹتے قبر سے محبوب خدا آویں گےبخدا فاطمہ کی آہ سے جل جاویں گے

۳۴

کون بے کس کو بھلا ذبح کرے بے تقصیرپھرتا ہے کوئی پیاسے کے گلے پر شمشیر؟گو کہ بے کس ہے پہ آساں نہیں، قتلِ شبیرؔحشر میں ہوئیں گے محبوبِ خدا دامن گیرتو سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی خوں خواہ نہیںبنتِ احمدؔ نہیں، حیدر نہیں، اللہ نہیں

۳۵

تھا جو دمساز عمر ابن نمیر اظلمبڑھ کے تیغ اس نے سرِ شاہ پہ ماری اس دمتا جبیں ہو گیا مجروح سرِ شاہِ اممتھام کر سر کو پکارے یہ امامِ عالمنہ میسر تجھے اس ہاتھ سے کھانا ہووےتو تہی دست جہنم کو روانہ ہووے

۳۶

چاہا ظالم نے کہ پھر شۂ پہ کرے تیغ کا واردیکھا انگشت بدنداں ہیں رسولؐ مختارخشک اس وقت ہوئے دستِ ستمگر اک بارہاتھ سے تیغ گری خوف سے بھاگا، خوں خواریاں سرِ پاک سے حضرت کے لہو جاری تھاخم سوئے قبلہ تھے، بند آنکھیں تھیں غش طاری تھا

۳۷

جب تڑپنے کی بھی طاقت نہ رہی سرور کوغل ہوا یہ کہ غش آیا، خلفِ حیدر کوفوج سے شمر بڑھا کھینچے ہوئے خنجر کوسب سے کہتا تھا کہ اب کاٹو سرِ سرور کوخلفِ احمدِ مختار کا قاتل ہوں میںکام میرا ہے، اسی کام کے قابل ہوں میں

۳۸

مجھ کو حیدرؔ سے غرض ہے نہ محمدؔ سے ہے کامرو دیں محبوبِ خدا ہووے خوشی حاکمِ شامدولتِ فاطمہؔ لے جاؤں میں پاؤں انعامروح حیدرؔ کی ہو بے چین، مجھے ہو آراممنہ نہ میں دولتِ دنیا سے کبھی پھیروں گاآج زہراؔ کے کلیجے پہ چھری پھیروں گا

۳۹

تیز کرتا ہوا خنجر کو گیا شہ کے قریںآسماں ہل گیا تھرا گئی مقتل کی زمیںرو رو چلانے لگی زینبِؔ ناشادِ حزیںغش میں بھی گھیرے ہیں، ہے ہے مرے بھائی کو لعیںرحم زہراؔ کے پسر پر نہیں کھاتا کوئیخاک سے بھی نہیں زخمی کو اٹھاتا کوئی

۴۰

کس سے فریاد کروں، جا کے میں دکھیا ہے ہےنہ محمدؔ ہیں نہ حیدرؔ ہیں نہ زہرا ہے ہےلاکھ دشمن ہیں مرا بھائی ہے تنہا ہے ہےتیغوں سے کٹتا ہے، زہراؔ کا کلیجا ہے ہےسروِ گلزارِ رسالت کو قلم کرتے ہیںہائے سید پہ، مسافر پہ ستم کرتے ہیں

۴۱

گرد زینب کے تھا ناموس پیمبر کا ہجومبانو روتی تھی، کھڑی پیٹتی تھی سر، کلثومکہتی تھی دیکھ کے میداں کو سکینہ معصوماے پھوپھی! نرغۂ اعدا میں ہیں شاہِ مظلومجاؤں گی اب میں ٹھہرنے کی نہیں آپ کے پاسشمرؔ خنجر لیے جاتا ہے ، مرے باپ کے پاس

۴۲

باپ کے پاس سے ، جا کر اسے سرکاؤں گیجوڑ کر ہاتھوں کو منت سے میں سمجھاؤں گیاپنے بابا کی میں چھاتی سے لپٹ جاؤں گیخیمے تک ان کو سنبھالے ہوئے لے آؤں گیبھوکے پیاسے، مرے بابا کو نہ مارے کوئیان کے بدلے، مرا سر تن سے اتارے کوئی

۴۳

کتنا روکا اسے بانو نے پہ ہرگز نہ رکیچھوٹے سے ہاتھون سے سر پیٹتی میداں کو چلیپیچھے سر کھولے ہوئے خیمے سے زینبؔ نکلیپہونچی رن میں تو سکینہؔ یہ عمر سے بولیاو لعیں حیدرِؔ کرار کی پوتی ہوں میںرحم کر! مجھ پہ کہ بِن باپ کی ہوتی ہوں میں

۴۴

دیکھ غربت کو مری کر مرے بچپن پہ نظرباپ مارا گیا میرا تو جیوں گی کیوں کر؟سر پہ آوے گی یتیمی تو میں جاؤں گی کدھر؟میں تو ہوں باپ کی شیدا مرا عاشق ہے پدرباپ بن ایک دم آرام نہ آوے گا مجھےکون پھر رات کو چھاتی پہ سلاوے گا مجھے

۴۵

ہنسلیاں اپنی گلے سے تجھے دیتی ہوں اتارلے مرے کان کا دُر، پر مرے بابا کو نہ مارہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں ترے آگے ناچارمنع کردے کوئی بیکس کو نہ مارے تلوارگھر میں جو کچھ زر و زیور ہے، وہ لادوں گی میںجان بابا کی بچے گی تو دعا دوں گی میں

۴۶

بھیڑ میں مجھ کو نظر آتے نہیں بابا جاںاتنا کہہ دے کہ سرک جائیں یہ سب بے ایماںگرد پھر پھر کے، میں ہوں اپنے پدر کے قرباںجا کے دیکھوں گی، بدن پر ہیں لگے زخم کہاںدمِ آخر تو بھلا کام میں آؤں ان کےاپنے کرتے سے لہو منہ کا چھڑاؤں ان کے

۴۷

کتنا کہتی رہی وہ بنتِ شۂ عرشِ جناباس ستمگر نے دیا کچھ نہ سکینہؔ کو جوابپیٹ کر سر کہا زینبؔ نے کہ او خانہ خرابتجھ کو آتا نہیں کچھ روحِ پیمر سے حجابظلم مت کر اسد اللہ کی جائی ہوں میںننگے سر پردے سے باہر نکل آئی ہوں میں

۴۸

میری اماں کا ہے مشہور جہاں میں پردابعدِ رحلت بھی جنازہ نہ کسی نے دیکھااس کی بیٹی ہوں، ترے ظلم سے ، یہ وقت پڑاسر برہنہ ہوں، گریباں بھی ہے کرتے کا پھٹامنہ کو اللہ و پیمبر سے چھپاتا ہے تومیں تو فریادی ہوں، اور آنکھ چراتا ہے تو

۴۹

مارا جاتا ہے ترے سامنے زہراؔ کا پسردیکھتا ہے تو یہ تلواریں ہیں پڑتی کس پرتیر کس کو لگے غربال ہوا کس کا جگرذبحِ کرنے کو کسے کھینچے ہے ظالم خنجردلِ زہرا، جگر شیرِ خدا، کٹتا ہےظلم سے تیرے، محمدؔ کا گلا کٹتا ہے

۵۰

قتل مظلوم کو کیوں کرتا ہے، بے جرم و گناہاب تلک میں نے بہت صبر کیا ہے واللہدل جلی ہوں میں ابھی سینے سے کھینچوں گر آہتو بی جل جائے، تری فوج بھی ہو خاک سیاہبد دعا دوں میں تو نازل ابھی آفت ہووےسر کے بالوں کو جو کھولوں تو قیامت ہووے

۵۱

غش میں حضرت نے سنے جبکہ یہ زینبؔ کے سخنکھول کر دیدۂ پرخوں کو اٹھائی گردندیکھا سر ننگے کھڑی روتی ہیں مقتل میں بہنبنتِ زہراؔ کو پکارے یہ شہنشاہِ زمنکیا کیا تم نے کہ پردے سے کھلے سر نکلیںجیتے جی میرے سر پردے سے باہر نکلیں

۵۲

کس کو سمجھاتی ہو، کوئی نہ سنے گا فریادباز آئے گا نہیں، قتل سے میرے جلادجتنا تم پیٹتی ہو، اور لعیں ہوتے ہیں شادحشر کے روز خدا دیوے گا اس خون کی دادشوق مرنے کا ہے، سر تن سے جدا ہونے دوجاؤ گھر میں، مجھے امت پہ فدا ہونے دو

۵۳

گود میں میری سکینہؔ کو اٹھاؤ ہمشیرکوئی اصغر کی طرح مار نہ بیٹھے اسے تیرپھر یہ بیٹی کو پکارے ترے صدقے شبیرؔتو بھی جا ساتھ پھوپھی جان کے اب اے دلگیروقتِ طاعت ہے ذرا یادِ خدا کر لیویںہم بھی اب آتے ہیں، سجدے کو ادا کر لیویں

۵۴

کہہ کے یہ غش ہوئے پھر رن میں شہنشاہ اممشمرِ اظلم نے رکھا، سینۂ اقدس پہ قدمجگرِ فاطمہؔ زہرا پہ چلی تیغِ دو دمآگے زینبؔ کے ہوئے ذبح حسینؔ آہ ستمپیٹ کر بنت شہنشاہِ زمن رونے لگیباپ کو بیٹی، برادر کو بہن رونے لگی

۵۵

فتح کا فوج مخالف میں بجا نقاراغل ہوا قتل ہوا شیر خدا کا پیارابس انیسؔ اب نہیں گویائی کا مجھ کو یاراغم سے خوں ہو گیا سینہ میں کلیجا ساراکس سے اس درد و مصیبت کا بیاں ہوتا ہےآنکھیں روتی ہیں قلم روتا ہے دل روتا ہے

۸۶ / ۹۰