آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
میں تری راہ میں مظلومی سے ہوتا ہوں فداتو ہے آگاہ کہ دو دن کا ہوں بھوکا پیاساچاہتا ہوں میں یہی، اپنی شہادت کا صلامغفرت امتِ عاصی کی ہو اے بارِ خداہے گوارا مجھے جو کچھ کہ اذیت ہووےان کو دنیا میں بھی عقبیٰ میں بھی راحت ہووے
About this couplet
This is couplet 19 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۹ / ۵۵