آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

ہوں گے ہر رنج سے، محفوظ ترے تعزیہ دارسختیِٔ مرگ نہ ان کو ہے، نہ ایذائے فشاردمِ مردن نظر آوے گا علیؔ کا دیدارقبر سے گلشنِ فردوس کی دیکھیں گے بہاردار دنیا ہی میں ہیں جو سو انہیں ایذا ہےآنکھیں جب بند ہوئیں پھر، درِ جنت وا ہے

About this couplet

This is couplet 23 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۳ / ۵۵