آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
ابھی مولا نے سرِ عجز اٹھایا نہ تھا آہنیزہ اک چھاتی پہ مارا جو کسی نے ناگاہغش میں گرنے لگے گھوڑے سے امامِ ذی جاہآئی خاتونِ قیامت کی صدا بسم اللہتھامنے آئے علیؔ خلد سے گھبرائے ہوئےدوڑے محبوبِ خدا ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے
About this couplet
This is couplet 27 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۷ / ۵۵