یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

یہ کہہ کے کچھ آہستہ کہا گوشِ پسر میںبیمار کے رونے سے قیامت ہو گئی گھر میںاندھیر زمانہ ہوا بانو کی نظر میںغش ہو گئی زینبؓ یہ اتھا درد جگر میںٹھہر نہ گیا واں، شہِ والا نکل آئےتنہا گئے روتے ہوئے تنہا نکل آئے

About this couplet

This is couplet 108 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۰۸ / ۱۸۶