کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر
یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کراے ابرِ کرم خشک زراعت پہ کرم کرتو فیض کا مبدا ہے توجہ کوئی دَم کرگمنام کو اعجاز بیانوں میں رقم کرجب تک یہ چمک مہر کے پر تو سے نہ جائےاقلیم سخن میرے قلم رَو سے نہ جائے
اس باغ میں چشمے ہیں ترے فیض کے جاریبلبل کی زباں پر ہے تری شکر گزاریہر نخل برومند ہے یا حضرتِ باریپھل ہم کو بھی مل جائے ریاضت کا ہماریوہ کل ہوں عنایت چمن طبعِ نِکو کوبلبل نے بھی سونگھا نہ وہ جن پھولوں کی بو کو
غواص طبیعت کو عطا کر وہ لالیٰہو جن کی جگہ تاجِ سرِ عرش پہ خالیایک ایک لڑی نظمِ ثریا سے ہو عالیعالم کی نگاہوں سے گرے قطبِ شمالیسب ہوں دریکتا نہ علاقہ ہو کسی سےنذر ان کی یہ ہوں گے جنہیں رشتہ ہے نبی سے
بھر دے درِ مقصود سے اس درجِ وہاں کودریائے معانی سے بڑھا طبع رواں کوآگاہ کر اندازِ تکلم سے زباں کوعاشق ہو فصاحت بھی وہ دے حسن بیاں کوتحسیں کا سموت سے غل تابہ سمک ہوہرگوش بنے کانِ ملاحت وہ نمک ہو
تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دوںقطرے کو جو دوں آپ تو گوہر سے ملا دوںذرے کی چمک مہرِ منور سے ملا دوںخاروں کو نزاکت میں گلِ تر سے ملا دوںگلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوںاک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں
گر بز کی جانب ہو توجہ دمِ تحریرکھنچ جائے ابھی گلشنِ فردوس کی تصویردیکھے نہ کبھی صحبت انجم فلک پیرہوجائے ہوا بزمِ سلیماں کی بھی توقیریوں تختِ حسینان معانی اتر آئےہر چشم کو پریوں کا اکھاڑا نظر آئے
ساقی کے کرم سے ہو وہ دور اور چلیں جامجس میں عوضِ نشہ ہو کیفیت انجامہر مست، فراموش کرے گردشِ ایامصوفی کی زباں بھی نہ رہے فیض سے ناکامہاں بادہ کشو پوچھ لو میخانہ نشیں سےکوثر کی یہ موج آ گئی ہے خلدِ بیرں سے
آؤں طرفِ رزم ابھی چھوڑ کے جب بزمخیبر کی خبر لائے مری طبعِ اولو العزمقطعِ سرِ اعداد کا ارادہ ہو جو بالجزمدکھلائے یہں سب کو زباں معرکۂ رزمجل جائیں عدد آگ بڑھکتی نظر آئےتلوار پہ تلوار چمکتی نظر آئے
مصرع ہوں صف آرا سفتِ لشکرِ جرارالفاظ کی تیزی کو نہ پہونچے کوئی تلوارنقطے ہوں جو ڈھالیں تو الفِ خنجر خونخوارمَد آگے بڑھیں برچھیوں کو تول کے اک بارغل ہو کبھی یوں فوج کو لڑتے نہیں دیکھامقتل میں رن ایسا کبھی پڑتے نہیں دیکھا
ہو ایک زباں ماہ سے تامسکن ماہیعالم کو دکھا دے برشِ سیفِ الہٰیجرأت کا دھنی تو ہے یہ چلائیں سپاہیلاریب ترے نام پہ ہے سکۂ شاہیہر دم یہ اشارہ ہو دوات اور قلم کاتو مالک و مختار ہے اس طبل و علم کا
تائید کا ہنگام ہے یا حیدرؑ صفدرامداد ترا کام ہے یا حیدرؑ صفدرتو صاحبِ اکرام ہے یا حیدرؑ صفدرتیرا بھی کرم عام یا حیدرؑ صفدرتنہا ترے اقبال سے شمشیر بکف ہوںسب ایک طرف جمع ہوں میں ایک طرف ہوں
نا قدریئ عالم کی شکایت نہیں مولاکچھ دفترِ باطل کی حقیقت نہیں مولاباہم گل و بلبل میں محبت نہیں مولامیں کیا ہوں کسی روح کو راحت نہیں مولاعالم ہے مکدر، کوئی دل صاف نہیں ہےاس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے
نیک و بدِ عالم کا تامل نہیں کرتےعارف کبھی اتنا بھی تجاہل نہیں کرتےخاروں کے لئے رخ طرفِ گل نہیں کرتےتعریف خوش الحانی بلبل نہیں کرتےخاموش ہیں، گو شیشہ دل چور ہوئے ہیںاشکوں کے ٹپک پڑنے سے مجبور ہوئے ہیں
الماس سے بہتر یہ سمجھتے ہیں خذف کودر کو تو گھٹاتے ہیں، بڑھاتے ہیں صدف کواندھیر یہ ہے چاند بتاتے ہیں کلف کوکھو دیتے ہیں شیشے کے لئے درِ نجف کوضائع ہیں درو لعل بد خشاں و عدن کےمٹی میں ملاتے ہیں جواہر کو سخن کے
ہے لعل و گہر سے یہ دہن کانِ جواہرہنگامِ سخن کھلتی ہے، دکانِ جواہرہیں بد مرضع تو ورق خواں جواہردیکھے اسے، ہاں ہے کوئی خواہانِ جواہربینائے رقومات ہنر چاہئے اس کوسودا ہے جواہر کا، نظر چاہئے اس کو
کیا ہو گئے وہ جو ہریانِ سخن اک بارہر وقت جو اس جنس کے رہتے تھے طلب گاراب ہے کوئی طالب نہ شناسا نہ خریدارہے کون دکھائیں کسے یہ گوہرِ شہوارکس وقت یہاں چھوڑ کے ملکِ عدم آئےجب اٹھ گئے بازار سے گاہک تو ہم آئے
خواہاں نہیں یا قوتِ سخن کا کوئی، گو آجہے آپ کی سرکا تو یا صاحبِ معراجاے باعثِ ایجادِ جہاں، خلق کے سرتاجہوجائے گا دم بھر میں غنی بندۂ محتاجامید اسی گھر کی، وسیلہ اسی اسی گھر کادولت یہی میری، یہی توشہ ہے سفر کا
میں کیا ہوں مری طبع ہے کیا اے شبہ ساہانحسان و فرزدق ہیں یہاں عاجز وحیراںشرمندہ زمانے سے گئے وامل و سحباںقاصر ہیں سخن فہم و سخن سنج و سخن داںکیا مدح کفِ خاک سے ہو نور خدا کیلکنت یہیں کرتی ہیں زبایں فصحا کی
لا یعلم ولا علم کی کیا سحر بیانیحضرت پہ ہویدا ہے، مری ہیچ مدانینہ ذہن میں جودت، نہ طبیعت میں روانیگویا ہوں، فقط ہے یہ تری فیض رسانیمیں کیا ہوں فرشتوں کی طلاقت ہے تو کیا ہےوہ خاص یہ بندے ہیں کہ مداح خدا ہے
تھا جوش کچھ ایسا ہی جو دعویٰ کیا میں نےخود سربہ گریباں ہوں کہ، یہ کیا کیا میں نےاک قطرۂ نا چیز کو دریا کیا میں نےتقصیر بحل کیجئے، بے جا کیا میں نےہاں سچ ہے کہ اتنی بھی تعلّی نہ روا تھیمولا یہ کلیجے کے پھپھولوں کی دوا تھی
مجرم ہوں، کبھی ایسی خطا کی نہیں میں نےبھولے سے بھی آپ اپنی ثنا کی نہیں میں نےدل سے کبھی مدحِ اُمرا کی نہیں میں نےتقلید کلامِ جہلا کی نہیں میں نےنازاں ہوں محبت پہ امامِ ازلی کیساری یہ تعلّی ہے حمایت سے علیؑ کی
ہر چند زباں کیا مری اور کیا مری تقریردن رات وظیفہ ہے ثنا خوانئ شبیرؑمنظور ہے اک باب میں دو فصل کی تحریرمولا کی مدد کا متمنی ہے یہ دل گیریہ فصل نئے رنگ سے کاغذ پہ رقم ہواک بزم ہو شادی کی تو اک صحبتِ غم ہو
شعباں کی ہے تاریخِ سویم روزِ ولادتاور ہے دہم ماہِ عزا یوم شہادتدونوں میں بہر حال ہے تحصیلِ سعادتوہ بھی عملِ خیر ہے یہ بھی ہے عبادتمدّاح ہوں کیا کچھ نہیں اس گھر سے ملا ہےکوثر ہے صلا اس کا بہشت اس کا صلا ہے
مقبول ہوئی غرض، گنہ عفو ہوئے سبامید بر آئی مرا حاصل ہوا مطلبشامل ہوا افضالِ محمدؐ کرمِ ربہوتے ہیں علم فوجِ مضامیں کے نشاں ابپستی پہ ہیں سب رکنِ رکیں دینِ متیں کےڈنکے سے ہلا دیتا ہوں طبقوں کو زمیں کے
نازاں ہوں عنایت پہ شہنشاہِ زمن کیبخشی ہے رضا جائزہ فوجِ سخن کیچہرے کی بحالی سے قبا چست ہے تن کیلو برطرفی پڑ گئی مضمون کہن کیاک فرد پرائی نہیں دفتر میں ہمارےبھرتی ہے نئی فوج کی لشکر میں ہمارے
ہاں اے فلکِ پیر نئے سر سے جواں ہواے ماہِ شبِ چار دہم نور فشاں ہواے ظلمتِ غم دیدۂ عالم سے نہاں ہواے روشنیِ صبح شبِ عید عیاں ہوشادی ہے ولادت کی یداللہ کے گھر میںخورشید اترتا ہے شہنشاہ کے گھر میں
اے شمس و قمر، اور قمر ہوتا ہے پیدانخلِ چمنِ دیں کا ثمر، ہوا ہے پیدامخدومۂ عالم کا پسر، ہوتا ہے پیداجو عرش کی ضو ہے، وہ گہر ہوتا ہے پیداہر جسم میں جاں آتی ہے مذکور سے جس کےنو نورِ خدا ہوں گے عیاں، نور سے جس کے
اے کعبۂ ایماں، تری حرمت کے دن آئےاے رکنِ یمانی، تری شوکت کے دن آئےاے بیتِ مقدس، تری عزت کے دن آئےاے چشمۂ زمزم، تری چاہت کے دن آئےاے سنگِ حرم، جلوہ نمائی ہوئی تجھ میںاے کوہِ صفا، اور صفائی ہوئی تجھ میں
اے یثرب و بطحا، ترے والی کی ہے آمداے رتبۂ اعلیٰ، شہہ عالی کی ہے آمدعالم کی تغیری پہ بحالی کی ہے آمدکہتے ہیں چمن، ماہِ جلالی کی ہے آمدیہ خانۂ کعبہ کے مباہات کے دن ہیںیعقوبؑ سے یوسفؑ کی ملاقات کے دن ہیں
اے ارضِ مدینہ، تجھے فوق اب ہے فلک پررونق جو سما پر ہے، وہ اب ہوگی سمک پرخورشید ملا، تیرا ستارہ ہے، چمک پرصدقے گلِ تر ہے تری پھولوں کی مہک پرپر جس پہ فرشتوں کے بچھیں فرش وہی ہےجس خاک پہ ہو نورِ خدا عرش وہی ہے
یا ختمِ رسل گوہرِ مقصود مبارکیا نورِ خدا رحمتِ معبود مبارکیا شاہِ نجف شادیِ مولود مبارکیا خیرالنساؑ ، اخترِ مسعود مبارکرونق ہو سدا نور دوبالا رہے گھر میںاس ماہِ دو ہفتہ کا اجالا رہے گھر میں
اے امتیو ہے یہ دم شکر گزاریہر بار کرو سجدۂ شکریہِّ باریاللہ نے حل کردیا مشکل کو تمہاریفردیں عملِ زشت کی اب چاک ہیں ساریلکھے گئے بندوں میں ولی ابن ولی کےناجی ہوئے صدقے سے حسینؓ ابن علیؓ کے
اے ماہِ معظم ترے اقبال کے صدقےشوکت کے فدا عظمت و اجلال کے صدقےاتری برتک، فاطمہ کے لال کے صدقےجس سال یہ پیدا ہوئے اس سال کے صدقےقرباں سحر عید آگر ہو تو بجا ہےنو روز بھی اس شب کی بزرگی پر فدا ہے
قربان شبِ جمعہ، شعبانِ خوش انجامپیدا ہوا جس شب کو محمدؐ کا گل اندامقائم ہوا دیں اور بڑھی رونقِ اسلامہم پلّۂ صبحِ شبِ معراج تھی وہ شامخورشید کا اجلال و شرف بدر سے پوچھوکیا قدر تھی اس شب کی شبِ قدر سے پوچھو
وہ نورِ قمر اور در افشانیئ انجمتھے جس کے سبب روشنی دیدۂ مردموہ چہچہے رضواں کے، وہ حوروں کا تبسمآپس میں وہ ہنس ہنس کے فرشتوں کا تکلممیکال شگفتہ ہوئے جاتے تھے خوشی سےجبریل تو پھولوں نہ سماتے تھے خوشی سے
روشن تھا مدینے ک اہر اک کوچہ و بازارجو راہ تھی خوشبو، جو محلہ تھا وہ گلزارکھولے ہوئے تھا آہوئے شب نافۂ تاتارمعلوم یہ ہوتا تھا کہ پھولو کا ہے انبارگردوں کو بھی اک رشک تھا زینت پہ زمیں کیہر گھر میں ہوا آتی تھی فردوس بریں کی
کیا شب تھی وہ سعود و ہمایون و معظمرخ رحمتِ معبود کا تھ جانبِ عالمجبریل و سرافیل کو مہلت نہ تھی اک دمبالائے زمیں آتے تھے اور جاتے تھے باہمباشندوں کی یثرب کے خبر تھی نہ گھروں کیسب سنتے تھے آواز فرشتوں کے پروں کی
تھیں فاطمہؓ بے چین ادھر دردِ شکم سےمنہ فق تھا اور آنسو تھے رواں دیدۂ نم سےوابستہ تھی راحت جو اسی بی بی کے دم سےمضطر تھے علیؓ بنتِ پیمبرؐ کے الم سےآرام تھا اک دم نہ شہِ قلعہ شکن کوپھرتے تھے لگائے ہوئے چھاتی سے حسنؑ کو
کرتے تھے دعا بادشہِ یثرب و بطحاراحم ہے تری ذاتِ مقدس مرے مولازہرا ہے کنیز اور مرا بچہ ترا بنداآسان کر اے بار خدا مشکل زہرانادار ہے اور فاقہ کش و زار و حزیں ہےمادر بھی تشفی کے لئے پاس نہیں ہے
ناگاہ درِ حجرہ ہوا مطلع انواردکھلانے لگے نو تجلی در و دیواراسما نے علی سے یہ کہا دوڑ کے اک بارفرزند مبارک تمہیں یا حیدر کراراسپند کرو فاطمہ کے ماہِ جبیں پرفرزند نہیں چاند یہ اترا ہے زمیں پر
دیکھا نہیں اس طرح کا چہرا کبھی پیارانقشہ ہے محمدؐ سے شہنشاہ کا ساراماتھے پہ چمکتا ہے جلالت کا ستارااللہ نے اس گھر میں عجب چاند اتاراتصویرِ رسولِ عربیؐ دیکھ رہے ہیںآنکھوں کی ہے گردش کہ بنی دیکھ رہے ہیں
مژدہ یہ سنا احمدؐ مختار نے جس دمپس شکر کے سجدے کو گرے قبلۂ عالمآئے طرفِ خانۂ زہرا خوش و خرمفرمایا مبارک پسرائے ثانیِ مریمچہرہ مجھے دکھلادو مرے نورِ نظر کاٹکڑا ہے یہ فرزندِ محمدؐ کے جگر کا
کی عرض یہ اسما نے کہ اے خاصۂ داورنہلا لوں تو لے آؤں اسے حجرے سے باہرارشاد کیا احمدِؐ مختار نے ہنس کرلے آ کہ نواسا ہے مرا طاہر و اطہراس چاند کو تاجِ سرِ افلاک کیا ہےیہ وہ ہے، خدا نے جسے خود پاک کیا ہے
میں اس سے ہوں اور مجھ سے ہے یہ تو نہیں باہریہ نورِ الہٰی ہے یہ ہے طیب و طاہراسرار جو مخفی ہیں وہ اب ہوئیں گے ظارہیہ آیتِ ایماں ہے یہ ہے حجتِ باہِربڑھ کر مدد سید لولاک کرے گاکفار کے قصے کو یہی پاک کرے گا
جس دم یہ خبر مخبر صادق نے سنائیاسما اسے اک پارچۂ نرم پہ لائیبو اس گلِ تازہ کی محمدؐ نے جو پائیہنسنے لگ، سرخی رخِ پرنور پہ آئیمنہ چاند سا دیکھا جو رسولِؐ عربی نےلپٹا لیا چھاتی سے نواسے کو نبیؐ نے
جاں اغئی یعقوبؑ نے یوسفؑ کو جو پایاقرآں کی طرح رحلِ دو زانو پہ بٹھایامنہ ملنے لگے منہ سے بہت پیار جو آیابوسے لئے اور ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایادل ہل گیا کی جب کہ نظر سینہ و سر پرچوما جو گلا، چل گئی تلوار جگر پر
جوش آیا تھا رونے کا مگر تھام کے رقتاس کان میں فرمائی اذاں اس میں اقامتحیدر سے یہ فرمایا کہ اے شاہِ ولایتکیوں تم نے بھی دیکھی مرے فرزند کی صورتپر نور ہے گھر، تو کو ملا ہے قمر ایسادنیا میں کسی نے نہیں پایا پسر ایسا
کیوں کر نہ ہو تم سا پدر اور فاطمہؓ سی ماںدو شمس و قمر کا ہے یہ اک نیر تاباںکی عرض یہ حیدر نے کہ اے قبلۂ ایماںحق اس پہ رکھے سایۂ پیغمبر ذی شاںاعلیٰ ہے وہ سب سے جو مقامِ شہ دیں ہےبندہ ہوں میں اور یہ بھی غلامِ شہ دیں ہے
عالم میں ہے یہ سب برکت آپ کے دم سےسرسبزی دنیا ہے اسی ابر کرم سےتا عرش پہونچ جاتا ہے سر فیضِ قدم سےعزت ہے غلاموں کی شہنشاہ امم سےکچھ اس میں نہ زہرا کا ہے باعث نہ علی کاسب ہے یہ بزرگی کہ نواسا ہے نبی کا
فرمانے لگے ہنس کے شہِ یثرب و بطحابھائی کہو فرزند کا کچھ نام بھی رکھاکی عرض یہ حیدر نے کہ اے سید والاسبقت کروں میں حضرت پہ، یہ مقدور ہے میرافرمایا کہ موقوف ہے یہ ربِّ عُلا پرمیں بھی سبقت کر نہیں سکتا ہوں خدا پر
بس اتنے میں نازل ہوئے جبریل خوش انجامکی عرض کہ فرماتا ہے یہ خالقِ علامپیارا ہے نہایت ہمیں زہرا کا گل اندامیا ختمِ رسل ہم نے ’’حسین‘‘ اس کا رکھا نامیہ حسن میں سردار حسینانِ زمن ہےمشتق ہے تو احسان سے تصغیر حسن ہے
ح سے یہ اشارہ کہ یہ ہے حامیِ امتسمجھیں گے اسی سین کو سب سینِ سعادتیَ اس کی بزرگی میں یٰسین کی آیتہے نون سے ظاہر کہ یہ ہے نورِ نبوتناجی ہے وہ اس نام کو لےیہ حسن میں دس حصے زیادہ ہے حسن سے
دو نور کے دریا کو جو ہم نے کیا اک جاتب اس سے ہوا گوہرِ نایاب یہ پیداتوقیر میں بے مثل، شجاعت میں ہے یکتااب اور نہ ہو گا کوئی اس حسن کا لڑکاہم جانتے ہیں جو نہیں ظاہر ہے کسی پرکام اس سے جو لینا ہے وہ ہے ختم اسی پر
فیاض نے کونین کی دولت اسے دی ہےدی ہے جو علیؓ کو وہ شجاعت اسے دی ہےصبر اس کو عنایت کیا، عزت اسے دی ہےان سب کے سوا اپنی محبت اسے دی ہےاعلیٰ ہے، معظم ہے، مکرم ہے، ولی ہےہادی ہے، وفادار ہے، زاہد ہے سخی ہے
جب کر چکے ذکرِ کرم مالکِ تقدیرجبریلؑ نے پاس آن کے دیکھا رخِ شپیرؐکی صلِّ علیٰ کہہ کے محمدؐ سے یہ تقریریا شاہ، یہ مہرو تو ہے صاف آپ کی تصویرجب کہ ہے زیارت پئے تسلیم جھکے ہیںاس نور کو ہم عرش پہ بھی دیکھ چکے ہیں
ہے اس پہ ازل سے نظرِ رحمتِ معبودیہ پیشتر آدم سے بھی تھا عرش پہ موجودہے ذاتِ خدا صاحبِ فیض و کرم وجودتھا خلق دو عالم سے یہی مطلب و مقصودمظلومی و غربت ہے عجب نام پہ اس کےسب روتے ہیں اور روئیں گے انجام پہ اس کے
یہ ہے سبب تہنیت و تعزیت اس دمہے شادی و غم گلشن ایجاد میں تواملپٹائے ہیں چھاتی سے جسے قبلۂ عالمبے جرم و خطا ذبح کریں گے اسے اظلمگر حشر بھی ہوگا تو یہ آفت نہ ٹلے گیسجدے میں چھری حلقِ مبارک پہ چلے گی
ہوگا یہ محرم میں ستم اے شہہ ذی جاہچھپ جائے گا آنکھوں سے اسی چاند میں یہ ماہتاریخ دہم جمعہ کے دن عصر کے وقت آہنیزے پہ چڑھائیں گے سرِ پاک کو گمراہکٹ جائے جب سر تو ستم لاش پہ ہوں گےگھوڑوں کے قدم سینۂ صد پاش پہ ہوں گے
چلائے محمد کہ میں بسمل ہوا بھائیاے وائے اخی کیا یہ خبر مجھ کو سنائیدل ہل گیا برچھی سی کلیجے میں در آئییہ واقعہ سن کر نہ جئے گی مری جائیممکن نہیں دنیا میں دوا زخمِ جگر کیکیوں کر کہوں زہرا سے خبر مرگِ پسر کی
جس وقت سنی فاطمہؓ نے یہ خبرِ غمشادی میں دلادت کی بپا ہوگیا ماتمچلاتی تھی سرپیٹ کے وہ ثانیِ مریمبیٹی پہ چھری چل گئی یا سیدِ عالمخنجر کے تلے چاندسی تصویر کی گردنکٹ جائے گی ہے ہے مرے شپیر کی گردن
ہے ہے کئی دن تک نہ ملے گا اسے پانیہے ہے یہ سہے گا تعبِ تشنہ دہانیہو جائیں گے اِک جان کے سب دشمنِ جانیہے ہے مرا محبوب، مرا یوسفِ ثانیپیراہنِ صد چاک کفن ہووے گا اس کاسر نیزہ پہ اور خاک پہ تن ہوے گا اس کا
صبر اپنا دکھانے کو یہ آئے ہیں جہاں میںیوں خلق سے جانے کو یہ آئے ہیں جہاں میںجنگل کے بسانے کو یہ آئے ہیں جہاں میںاماں کے رلانے کو یہ آئے ہیں جہاں میںہم چاند سی صورت پہ نہ شیدا ہوئے ہوتےاے کاش مرے گھر میں نہ پیدا ہوئے ہوتے
دنیا مجھے اندھیر ہے اس غم کی خبر سےشعلوں کی طرح آہ نکلتی ہے جگر سےدامن پہ ٹپکتا ہے لہو دیدۂ تر سےبس آج سفر کر گئی شادی مرے گھر سےجس وقت تلک جیتی ہوں ماتم میں رہوں گیمظلوم حسینؓ آج سے اس کو میں کہوں گی
بیٹی کو یہ معلوم نہ تھا یا شہِ عالمبچھے گی زچہ خانے کے اندر صفِ ماتماب دن ہے چھٹی کا مجھے عاشورِ محرمتارے بھی نہ دیکھے تھے کہ ٹوٹا فلک غمپوشاک نہ بدلوں گی نہ سر دھوؤں گی باباچلے میں بھی چہلم کی طرح روؤں کی بابا
حیدر ہے کہاں آ کے دلاسا نہیں دیتےزہراؓ کا برا حال ہے سمجھا نہیں دیتےاس زخم کا مرہم مجھے بتلا نہیں دیتےہے ہے مجھے فرزند کا پرسا نہیں دیتےحجرے میں الگ بیٹھے ہیں کیوں چھوڑ کے گھر کوآواز تو سنتی ہوں کہ روتے ہیں پس کو
پھر دیکھ کے فرزند کی صورت یہ پکاریاے میرے شہید اے مرے بیکس ترے واریہاں بعد مرے ذبح کریں گے تجھے ناریبنتی ہوں ابھی سے میں عزادار تمہاریدل اور کسی شغل میں مصروف نہ ہو گابس آج سے رونا مرا موقوف نہ ہو گا
مرجائیگا تو تشنہ دہن ہائے حسیناہو جائے گا ٹکڑے یہ بدن ہاے حسینااک جان پپہ یہ رنج و محن ہائے حسیناکوئی تجھے دے گا نہ کفن ہائے حسیناگاڑیں گے نہ ظالم تنِ صد پاش کو ہے ہےرہواروں سے روندیں گے تری لاش کو ہے ہے
فرمایا محمدؐ نے کہ اے فاطمہؓ زہراکیا مرضیِ معبود سے بندے کا ہے چارہخالق نے دیا ہے اسے تہ رتبۂ اعلیٰجبریل سوا کوئی نہیں جاننے والامیں بھی ہوں فدا اس پہ کہ یہ فدیۂ رب ہےیہ لال ترا بخشش امت کا سبب ہے
اس بات کا غم ہے اگر اے جانِ پیمبرؐبے دفن و کفن رن میں رہے گا ترا دلبرجب قید سے ہووے گا رہا عابدِ مظطرتگربت میں اسے دفن کرے گا وہی آ کرارواحِ رسولانِ زمن روئیں گی اس کوسر پیٹ کے زینب سی بہن روئیں گی اس کو
جب چرخ پہ ہوئے گا عیاں ماہِ محرمہر گھر میں بپا ہوے گی اک مجلسِ ماتمآئیں گے ملک عرش سے داں رونے کو باہمماتم یہ وہ ماتم ہے کہ ہوگا نہ کبھی کمپر نور سدا اس کا عزا خانہ رہے گاخورشید جہاں گرد بھی پروانہ رہے گا
کیا اوج ہے، کیا رتبہ ہے اس بزمِ عزا کاغل عرش سے ہے فرش تلک صلِّ علیٰ کامشتاق ہے فردوزِ بریں یاں کی فضا کاپانی میں بھی ہے یاں کی مزا آبِ بقا کادربارِ معلّیٰ ہے ولی ابنِ ولی کاجاری ہے یہ سب فیض حسینؓ ابن علی کا
لوریاں سے بس اب مجلسِ ماتم کا بیاں ہےوہ فصل خوشی ختم ہوئی غم کا بیاں ہےمظلومیِ سلطانِ دو عالم کا بیاں ہےہنگامۂ عاشورِ محرم کا بیاں ہےہاں دیکھ لے مشتاق جو ہو فوجِ خدا کالوبزم میں کھلتا ہے مرقع شہدا کا
اے خضرِ بیابانِ سخن راہبری کراے نیرِ تابانِ خرد جلوہ گری کراے درد عطا لذتِ زخمِ جگری کراے خوفِ الٰہی مجھے عصیان سے بری کربندوں میں لکھا جاؤں امامِ ازلی کےآزاد ہوں صدقے میں حسینؓ ابن علیؓ کے
قدسی کو نہیں بار، یہ دربار ہے کس کافردوس کو ہے رشک یہ گلزار ہے کس کاسب جنسِ شفاعت ہے، یہ بازار ہے کس کاخود بکتا ہے یوسفؑ یہ خریدار ہے کس کاملتی ہے کہاں مفت متاعِ حسن ایسیدیکھی نہیں انجم نے کبھی انجمن ایسی
مجلس کا زہے نور خوشا محفلِ عالیحیدر کے محبوں سے کوئی جا نہیں خالیعاشق ہیں سب اس کے جو ہے کونین کا والیاثنا عشری، پنجتنی، شیعۂ غالیششدر نہ ہو کیوں چرخ عجب جلوہ گری ہےیہ بزمِ عزا آج ستاروں سے بھری ہے
ان میں جو مسن ہیں وہ پیمبر کے ہیں مہماںاور جو متوسط ہیں، وہ حیدر کے ہیں مہماںجو تازہ جواں ہیں، علی اکبر کے ہیں مہماںشیعوں کے پسر سب علی اصغر کے ہیں مہماںہر خورد و کلاں عاشقِ شاہِ مدنی ہیںپانچ انگلیوں کی طرح یہ سب پنجتنی ہیں
ارشادِ نبیؐ ہے کہ مددگار ہیں میرےفرماتے ہیں حیدر کہ یہ غم خوار ہیں میرےحضرت کا سخن ہے کہ عزادار ہیں میرےمیں ان کا ہوں طالب یہ طلب گار ہیں میرےیہ آج اگر رو کے ہمیں یاد کریں گےہم قبر میں ان لوگوں کی امداد کریں گے
غم میں مرے بچوں کے یہ سب کرتے ہیں فریاداللہ سلامت رکھے ان لوگوں کی اولادبستی مرے شیعوں کی رہے خلق میں آبادیہ حشر کے دن آتشِ دوزخ سے ہوں آزادمرتا ہے کوئی گر تو بکا کرتا ہوں میں بھیان کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہوں میں بھی
مردم کے لئے واجب عینی ہے یہ زاریرونا ہی وسیلہ ہے شفاعت کا ہماریہے وقتِ معین پہ ادا طاعتِ بارییہ خیر ہے وہ خیر جو ہر وقت ہے جاریرو لو کہ یہ وقت اور یہ صحبت نہ ملے گیجب آنکھ ہوئی بند تو مہلت نہ ملے گی
مہلت جو اجل دے تو غنیمت اسے جانوآمادہ ہو رونے پہ، سعادت اسے جانوآنسو نکل آئیں تو عبادت اسے جانوایذا ہو جو محفل میں تو راحت اسے جانوفاقے کئے ہیں دھوپ میں لب تشنہ رہے ہیںآقا نے تمہارے لئے کیا ظم سہے ہیں
تکلیف کچھ ایسی نہیں سایہ ہے ہوا ہےپانی ہے خنک مروحہِ کش بادِ صبا ہےکچھ گرمیِ عاشورہ کا بھی حال سنا ہےسر پیٹنے کا وقت ہے ہنگامِ بکا ہےگذری ہے بیابان میں وہ گرمی شہِ دیں پربھن جاتا تھا دانہ بھی جو گرتا تھا زمیں پر
لوں چلتی تھی ایسی کہ جلے جاتے تھے اشجارتھا عنصرِ خاکی پہ گمانِ کرۂ نارپانی پہ دو دوام گرے پڑتے تھے ہر بارسب خلق تو سیراب تھی پیاسے شہِ ابرارخاک اڑ کے جمی جانی تھی زلفوں پہ قبا پراس دھوپ میں سایہ بیھ نہ تھا نورِ خدا پر
قطرے جو پسینے کے ٹپک پڑتے تھے ہر بارثابت یہی ہوتا تھا کہ ہیں اخترِ سیارشاہد المِ فاقہ سے ہے زردیِ رخساربے آبی سے اودے تھے لبِ لعل گہر باررنیا میں ترستے رہے وہ آب رواں کوجن ہونٹوں نے چوما تھا محمدؐ کی زباں کو
دنیا بھی عجب گھر ہے کہ راحت نہیں جس میںوہ گل ہے یہ گل بوئے محبت نہیں جس میںوہ دوست ہے یہ دوستِ مروت نہیں جس میںوہ شہد ہے یہ شہد حلاوت نہیں جس میںبے درد و الم شامِ غریباں نہیں گزریدنیا میں کسی کی کبھی یکساں نہیں گزری
گودی ہے کبھی ماں کی کبھی قبر کا آغوشکل پیرہن اکثر نظر آتے ہیں کفن پوشسرگرمِ سخن ہے کبھی انساں کبھی خاموشگہہ تخ ہے اور گاہ جنازہ بسرِ دوشاک طور پہ دیکھا نہ جواں کو نہ مسن کوشب کو تو چھپر کھٹ میں ہیں تابوت مین دن کو
شادی ہو کہ اندوہ ہو آرام ہو یا جوردنیا میں گزر جاتی ہے انساں کو بہر طورماتم کی کبھی فصل ہے، عشرت کا کبھی دورہے شادی و ماتم کا مرقع جو کرو غورکس باغ پہ آسیبِ خزاں آ نہیں جاتاگل کون سا کھلتا ہے جو مرجھا نہیں جاتا
ہے عالمِ فانی کی عجب صبح عجب شامگہہ غم کبھی شادی کبھی ایذا کبھی آرامنازوں سے پلا فاطمہ زہراؓ کا گل انداموا حسرت و دردا کہ وہ آغاز یہ انجامراحت نہ ملی گھر کے تلاطم سے دہم تکمظلوم نے فاقے کئے ہفتم سے دہم تک
ریتی یہ عزیزوں کا مرقع تو ہے ابترشہ کا ہے یہ نقشہ کہ میں تصویر سے ششدرفرزند نہ ملسم کے نہ ہمشیر کے دلبرقاسم ہیں نہ عباس نہ اکبر ہیں نہ اصغرسب نذر کو دربار پیمبر میں گئے ہیںرخصت کو اکیلے شہہ دیں گھر میں گئے ہیں
منظور ہے پھر دیکھ لیں ہمشیر کی صورتپھر لے گئی ہے گھر میں سکینہ کی محبتسجاد سے کچھ کہتے ہیں اسرار امامتبانووے دو عالم سے بھی ہے آخری رخصتمطلوب ہے یہ زیبِ بدن رختِ کہن ہوتا بعد شہادت وہی ملبوسِ کفن ہو
خیمے میں مسافر کا وہ آنا تھا قیامتایک ایک کو چھاتی سے لگانا تھا قیامتآنا تو غنیمت تھا یہ جانا تھا قیامتتھوڑا سا وہ رخصت کا زمانہ تھا قیامتواں بین ادھر صبر و شکیبائی کی باتیںافسانۂ ماتم تھیں بہن بھائی کی باتیں
حضرت کا وہ کہنا کہ بہن صبر کرو صبرامت کے لئے والدہ صاحب نے سہے جبروہ کہتی تھی کیوں کر نہ میں روؤں صفتِ ابرتم پہنو کفن اور نہ بنے ہائے مری قبرلٹتے ہوئے اماں کا گھر ان آنکھوں سے دیکھوںہے ہے تہِ خنجر تمہیں کن آنکھوں سے دیکھوں
اس عمر میں تھوڑے غمِ جانکاہ اٹھائےاشک آنکھوں سے اماں کے جنازے پہ بہائےآنسو نہ تھمے تھے کہ پدر خوں میں نہائےٹکڑے دلِ شبیر کے لگن میں نظر آئےحضرت کے سوا اب کوئی سر پر نہیں بھائیانساں ہوں کلیجہ مرا پتھر نہیں بھائی
ہر شخص کو ہے یوں تو سفر خلق سے کرنادشوار ہے اک آن مسافر کا ٹھہرناان آنکھوں سے دیکھا ہے بزرگوں کا گزرناہے سب سے سوا ہائے یہ مظلومی کا مرناصدقے گئی یوں رن کبھی پڑتے نہیں دیکھااک دن میں بھرے گھر کو اجڑتے نہیں دیکھا
ہے ہے تمہیں لے کے میں کہاں چھپ رہوں بھائیلٹتی ہے مرے چار بزرگوں کی کمائیکس دشتِ پر آشوب میں قسمت مجھے لائییارب کہیں مر جائے ید اللہ کی جائیزہراؓ کا پسر وقتِ جدائی مجھے روئےسب کو تو میں روئی ہوں یہ بھائی مجھے روئے
زینب کی وہ زاری وہ سکینہ کا بلکناوہ ننھی سی چھاتی میں کلیجے کا دھڑکناوہ چاند سا منہ اور وہ بندے کا چمکناحضرت کا وہ بیٹی کی طرف یاس سے تکناحسرت سے یہ ظاہر تھا کہ معذور ہیں بی بیپیدا تھا نگاہوں سے کہ مجبور ہیں بی بی
وہ کہتی تھی بابا ہمیں چھاتی سے لگاؤفرماتے تھے شہ آؤ نہ جانِ پدر آؤہم کڑھتے ہیں لو آنکھوں سے آنسو نہ بہاؤخوشبو تو ذرا گیسوئے مشکیں کو سنگھاؤکوثر یہ ہے، تم بن نہیں آرام چچا کوہم جاتے ہیں کچھ دیتی ہو پیغام چچا کو
بی بی کہو کیا حال ہے اب ماں کا تمہاریکس گوشے میں بیٹھی ہیں کہاں کرتی ہیں زاریجب سے سوئے جنت گئی اکبر کی سواریدیکھا نہ انہیں گھر میں ہم آئے کئی باریتھی سب کی محبت انہیں بیٹے ہی کے دم تککیا آخری رخصت کو بھی آئیں گی نہ ہم تک
کس جا ہیں طلب ہم کو کریں یا وہی آئیںممکن نہیں اب وہ ہمیں یا ہم انہیں پائیںکچھ ہم سے سنیں کچھ ہمیں حال اپنا بتائیںاک دم کے مسافر ہیں ہمیں دیکھ تو جائیںبعد اپنے یہ لوٹا ہوا گھر اور کٹے گاافسوس کہ اک عمر کا ساتھ آج چھٹے گا
غش میں جو سنی بانوئے مضطر نے یہ تقریرثابت ہو مرنے کو چلے حضرت شبیرسر ننگے اٹھی چھوڑ کے گہوارۂ بے شیرچلائی مجھے ہوش نہ تھا یا شہِ دل گیرجاں تن سے کوئی آن میں اب جاتی ہے آقایہ خادمہ رخصت کے لئے آتی ہے آقا
یہ سن کے بڑھے چند قدم شاہِ خوش اقبالقدموں پہ گری دوڑ کے وہ کھولے ہوئے بالتھا قبلۂ عالم کا بھی اس وقت عجب حالروتے تھے غضب آنکھوں پہ رکھے ہوئے رومالفرماتے تھے جانکاہ جدائی کا الم ہےاٹھو تمہیں روحِ علی اکبر کی قسم ہے
وہ کہتی تھی کیوں کر میں اٹھوں اے مری سرتاجوالی انہیں قدموں کی بدولت ہے مرا راجسر پر جو نہ ہوگا پسرِ صاحبِ معراجچادر کے لئے خلق میں جاؤں گی محتاجچھوٹے جو قدم مرتبہ گھٹ جائے گا میراقربان گئی تخت الٹ جائے گا میرا
یاں آئی میں جب خانۂ کسریٰ ہوا بربادوہ پہلی اسیری کی اذیت ہے مجھے یادکی عقدہ کشائے دو جہاں نے مری امدادحضرت کے تصدق میں ہوئی قید سے آزادلونڈی تھی، بہو ہو گئی زہراؓ و علیؓ کیقسمت نے بٹھایا مجھے مسند پہ نبیؐ کی
چھبیس برس تک نہ چھٹا آپ کا پہلواب ہجر ہے تقدیر میں یا سید خوش خوشب بھر رہے تکیہ سرِ اقدس کا جو بازوہے ہے اسے اب رسی سے باندھیں گے جفا جوسر پر نہ ردا ہوگی تو مر جاؤں گی صاحبچھپنے کو میں جنگل میں کدھر جاؤں گی صاحب
حضرت نے کہا کس کا سدا ساتھ رہا ہےہر عاشق و معشوق نے یہ داغ سہا ہےدارِ محن اس دار کو داور نے کہا ہےہر چشم سے خونِ جگر اس غم میں بہا ہےفرقت میں عجب حال تھا خالق کے ولی کاساتھ آٹھ برس تک رہا زہراؓ و علیؓ کا
سو سو برس اس گھر میں محبت سے رہے جواس موت نے دم بھر میں جدا کر دیا ان کوکچھ مرگ سے چارہ نہیں اے بانوئے خوش خوہے شاق فلک کو کہ رہیں ایک جگہ دوکس کس پہ زمانے نے جفا کی نہیں صاحباچھوں سے کبھی اس نے وفا کی نہیں صاحب
لازم ہے خدا سے طلبِ خیر بشر کوتھامے گا تباہی میں وہی رانڈ کے گھر کوآنا ہے تمہیں بھی وہیں جاتے ہیں جدھر کووارث کی جدائی میں پٹکتے نہیں سر کوکھولے گا وہی رسی بندھے ہاتھ تمہارےسجاد سا بیٹا ہے جواں ساتھ تمہارے
زینب کو تو دیکھو کہ ہیں کس دکھ میں گرفتارایسا کوئی اس گھر میں نہیں بے کس و ناچارتنہا ہیں کہ بے جاں ہوے دو چاند سے دلداردنیا سے گیا اکبرِ ناشاد ساغم خواربیٹے بھی نہیں گود کاپالا بھی نہیں ہےان کو تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے
یہ کہہ کے کچھ آہستہ کہا گوشِ پسر میںبیمار کے رونے سے قیامت ہو گئی گھر میںاندھیر زمانہ ہوا بانو کی نظر میںغش ہو گئی زینبؓ یہ اتھا درد جگر میںٹھہر نہ گیا واں، شہِ والا نکل آئےتنہا گئے روتے ہوئے تنہا نکل آئے
کچھ پڑھ کے پھرے جانبِ قبلہ شہہ بے پرکج کی طرفِ دوشِ یمیں گردنِ انورتھراتے ہوئے ہاتھوں پہ عمامے کو رکھ کرکی حق سے مناجات کہ اے خالقِ اکبرحرمت ترے محبوب کی دنیا میں بڑی ہےکر رحم کہ آل ان کی تباہی میں پڑی ہے
یارب یہ ہے سادات کا گھر تیرے حوالےرانڈیں ہیں کئی کستہ جگر تیرے حوالےبیکس کا ہے بیمار پسر تیرے حوالےسب ہیں ترے دریا کے گہر تیرے حوالےعالم ہے غربت میں گرفتاری بلا ہوںمیں تیری حمایت میں انہیں چھوڑ چلا ہوں
میرے نہیں، بندے ہیں ترے اے مرے خالقبستی ہو کہ جنگل توہی حافظ تو ہی رازقباندھے ہیں کمر ظلم و تعدی پہ منافقنے دوست ہے دنیا، نہ زمانہ ہے موافقحرمت ہے ترے ہاتھ امامِ ازلی کیدو بیٹیاں، دو بہوئیں ہیں اس گھر میں علی کی
میں یہ نہیں کہتا کہ اذیت نہ اٹھائیںیا اہلِ ستم آگ سے خیمے نہ جلائیںناموس لٹیں قید ہوں اور شام میں جائیںمہلت مرے لاشے پہ بھی رونے کی نہ پائیںبیڑی میں قدم طوق میں عابد کا گلا ہوجس میں ترے محبوب کی امت کا بھلا ہو
یہ کہہ کے گریبانِ مبارک کو کیا چاکاور ڈال لی پیراہن پر نور پہ کچھ خاکمیت ہونے شبیر کفن بن گئی پوشاکبس فاتحۂ خیر پڑھا بادلِ غم ناکمڑکر نہ کسی دوست نہ غم خوار کو دیکھاپاس آئے تو روتے ہوئے رہوار کو دیکھا
گردان کے دامن علی اکبر کو پکارےتھامو مرے گھوڑے کا رکاب اے مرے پیارےلختِ دلِ شبیر کدھر اس وقت سدھارےبھائی ہیں کہاں ہاتھ میں دیں ہاتھ ہمارےآتے نہیں مسلم کے جگر بند کہاں ہیںدونوں مری ہمشیر کے فرزند کہاں ہیں
تنہائی میں اک ایک کو حضرت نے پکاراکون آئے کہ فردو میں تھا قافلہ ساراگھوڑے پہ چھڑا خود اسد اللہ کا پیارااونچا ہوا افلاکِ امامت کا ستاراشوخی سے فرس پاؤں نہ رکھتا تھا زمیں پرغل تھا کہ چلا قطبِ زماں عرشِ بریں پر
شبدیز نے چھل بل میں عجب ناز دکھایاہر گام پہ طاؤس کا انداز دکھایازیور نے عجب حسنِ خداداد دکھایافتراک نے اوجِ پرِ پرواز دکھایاتھا خاک پہ اک پاؤں تو اک عرشِ بریں پرغل تھا کہ پھر اترا ہے براق آج زمیں پر
اعداد کی زبانوں پر یہ حیرت کی تھی تقریرحضرت یہ رجز پڑھتے تھے تولے ہوئے شمشیردیکھوں نہ مٹاؤ مجھے اے فرقۂ بے پیرمیں یوسفِ کنعانِ رسالت کی ہوں تصویرواللہ تعلّی نہیں یہ کلمۂ حق ہےعالم کے مرقعے میں حسین ایک ورق ہے
واللہ جہاں میں مرا ہمسر نہیں کوئیمحتاج ہوں پر مجھ سا توانگر نہیں کوئیہاں میرے سوا شافعِ محشر نہیں کوئییوں سب ہیں مگر سبطِ پیمبر نہیں کوئیباطل ہے اگر دعویٰ اعجاز کرے گاکس بات پہ دنیا میں کوئی ناز کرے گا
ہم وہ ہیں کہ اللہ نے کوثر ہمیں بخشاسرداریِ فردوس کا افسر ہمیں بخشااقبالِ علی خلق پیمبر ہمیں بخشاقدرت ہمیں دی، زور ہمیں، زر ہمیں بخشاہم نور ہیں گھر طورِ تجلا ہے ہماراتختِ بنِ داؤد مصلا ہے ہمارا
نانا وہ کہ ہیں جن کے قدم عرش کے سرتاجقوسینِ مکان، ختمِ رسل، صاحبِ معراجماں ایسی کہ سب جس کی شفاعت کے ہیں محتاجباپ ایسا صنم خانوں کو جس نے کیا تاراجلڑنے کو اگر حیدر صفدر نہ نکلتےبت گھر سے خدا کے کبھی باہر نہ نکلتے
کس جنگ میں سینے کو سپر کر کے نہ آئےکس مرحلۂ صعف کو سر کر کے نہ آئےکس فوج کی صف زیر و زبر کر کے نہ آئےتھی کون سی شب جس کو سحر کر کے نہ آئےتھا کون جو ایماں تہِ صمصام نہ لایااس شخص کا سر لائے جو اسلام نہ لایا
اصنام نہ کچھ کم تھے، نہ کفار تھے تھوڑےطاقت تھی کہ عزیٰ کو کوئی لات سے توڑےبد کیشوں نے سجدے بھی کئے ہاتھ بھی جوڑےبے توڑے وہ بت حیدر صفدر نے نہ چھوڑےکعبے کو صفا کردیا خالق کے کرم سےنکلے اسد اللہ اذاں دے کے حرم سے
اس عہد میں مالک اسی تلوار کے ہم ہیںجرار پسر، حیدر کرار کے ہم ہیںفرزند محمدؐ سے جہاں دار کے ہم ہیںوارثِ شہِ لولاک کی سرکار کے ہم ہیںکچھ غیر کفن ساتھ نہیں لے کے گئے ہیںتابوت سکینہ بھی ہمیں دے کے گئے ہیں
یہ فرق یہ عمامۂ سردارِ زمن ہےیہ تیغِ علی ہے یہ کمر بندِ حسن ہےیہ جوشنِ داؤد ہے جو حافظ تن ہےیہ پیراہنِ یوسفِ کنعانِ محن ہےدکھلائیں سند دستِ رسول عربیؐ کییہ مہر سلیماں ہے، یہ خاتم ہے نبی کی
دیکھو تو یہ ہے کون سے جرار کی تلوارکس شیر کے قبضے میں ہے کرار کی تلواردریا نے بھی دیکھی نہیں اس دھار کی تلواربجلی کی تو بجلی ہے یہ، تلوار کی تلوارقہر و غضب اللہ کا ہے کاٹ نہیں ہےکہتے ہیں اسے موت کا گھر گھاٹ نہیں ہے
دم لے کہیں رک کر وہ روانی نہیں اس میںچلنے میں سبک تر ہے، گرانی نہیں اس میںجز حرفِ ظفر اور نشانی نہیں اس میںجل جاؤ گے سب آگ ہے پانی نہیں اس میںچھوڑے گی نہ زندہ اسے جو دشمن دیں ہےنابیں نہیں، غصے سے اجل چیں بہ جبیں ہے
سب قطرے ہیں گر فیض کے دریا ہیں تو ہم ہیںہر نقطۂ قرآں کے شناسا ہیں تو ہم ہیںحق جس کا ہے جامع وہ ذخیرہ ہیں تو ہم ہیںافضل ہیں تو ہم، عالم و دانا ہیں تو ہم ہیںتعلیم ملک عرش پہ تھا ورد ہماراجبریل سا استاد ہے شاگرد ہمارا
گر فیض ظہورِ شہِ لولاک نہ ہوتابالائے زمیں گنبدِ افلاک نہ ہوتاکچھ خاک کے طبقے میں، بجز خاک نہ ہوتاہم پاک نہ کرتے تو جہاں پاک نہ ہوتایہ شور اذاں کا سحر و شام کہاں تھاہم عرش پہ جب تھے تو یہ اسلام کہاں تھا
محسن سے بدی ہے یہی احساں کا عوض واہدشمن کے ہوا خواہ ہوئے دوست کے بد خواہگمراہ کے بہکانے سے روکو نہ مری راہلو اب بھی مسافر کو نکل جانے دو لِلّٰلہمل جائے گی اک دم میں اماں رنج و بلا سےمیں ذبح سے بچ جاؤں گا، تم قہر خدا سے
بستی میں کہیں مسکن و ماوا نہ کروں گایثرب میں بھی جانے کا ارادہ نہ کروں گاصابر ہوں کسی کا کبھی شکوا نہ کروں گااس ظلم کا میں ذکر بھی اصلا نہ کروں گارونا نہ چھٹے گا کہ عزیزوں سے چھپا ہوںجو پوچھے گا کہہ دوں گا کہ جنگل میں لٹا ہوں
اعدا نے کہا قہرِ خدا سے نہیں ڈرتےناری تو ہیں دوزخ کی جفا سے نہیں ڈرتےفریاد رسولِؐ دوسرا سے نہیں ڈرتےخاتونِ قیامت کی بکا سے نہیں ڈرتےہم لوگ جدھر دولتِ دنیا ہے ادھر ہیںاللہ سے کچھ کام نہیں بندۂ زر ہیں
حضرت نے کہا خیر خبردار صفوں سےآیا غضب اللہ کا ہشیار صفوں سےبجلی سا گزر جاؤں گا ہر بار صفوں سےکب پنجتنی رکتے ہیں دو چار صفوں سےعربت کے چلن دیکھ چکے، حرب کو دیکھولو بندۂ زر ہو، تو مری ضرب کو دیکھو
یاں گوشۂ عزلت، خمِ شمشیر نے چھوڑاواں سہم کے چلے کو ہر ایک تیر نے چھوڑاکس قہر سے گھر موت کی تصویر نے چھوڑاساحل کو صفِ لشکرِ بے پیر نے چھوڑاعنقائے ظفر فتح کا در کھول کے نکلاشہباز اجل، صید کو، پر تول کے نکلا
جلوہ کیا بدلی سے نکل کر مہِ نونےدکھلائے ہوا میں دوسر، اک شمع کی لو نےتڑپا دیا بجلی کو فرس کی تگ و دَو نےتاکاسپر مہر کو شمشیر کی ضو نےاعدا تو چھپانے لگے ڈھالوں پہ سروں کوجبریل نے اونچا کیا گھبرا کے پروں کو
بالا سے جو آئی وہ بلا جانبِ پستیبس نیست ہوئی دم میں ستم گاروں کی بستیچلنے لگی یک دست جو شمشیر دو دستیمعلوم ہوا لٹ گئی سب کفر کی بستیزور ان کے ہر اک ضرب میں اللہ نے توڑےٹوٹیں جو صفیں بت اسد اللہ نے توڑے
بجلی سی جو گِر کر صفِ کفار سے نکلیآواز بزن تیغ کی جھنکار سے نکلیگہہ ڈھال میں ڈوبی کبھی تلوار سے نکلیدر آئی جو پیکاں میں تو سو فار سے نکلیتھے بند خطا کاروں پہ دا امن و اماں کےچلے بھی چھپے جاتے تھے گوشوں میں کماں کے
افلاک پہ چمکی کبھی، سر پر کبھی آئیکوندی کبھی جوشن پی، سپر پر کبھی آئیگہہ پڑھ گئی سینہ پہ، جگر پر کبھی آئیتڑپی کبھی پہلو پہ، کبھی کمر پر کبھی آئیطے کر کے پھر کون سا قصہ تھا فرس کاباقی تھا جو کچھ کاٹ، وہ حصہ تھا فرس کا
بے پاؤں جدھر ہاتھ سے چلتی ہوئی آئیندی ادھر اک خوں کی ابلتی ہوئی آئیدم بھر میں سو سورنگ بدلتی ہوئی آئیپی پی کے لہو لعل اگلتی ہوئی آئیہیرا تھا بدن، رنگ زمرد سے ہرا تھاجوہر نہ کہو پیٹ جواہر سے بھرا تھا
زیبا تھا دمِ جنگ پر ی وش اسے کہنامعشوقِ بنی سرخ لباس اس نے جو پہنااس اوج پہ وہ سر کو جھکائے ہوئے رہناجوہر تھے کہ پہنے تھی دلہن پھولوں کا گہناسیب چمنِ خلد کی بو باس تھی پھل میںرہتی تھی وہ شبیر سے دولہا کی بغل میں
سر ٹپکے تو موج اس کی روانی کو نہ پہونچےقلزم کا بھی دھارا ہو تو پانی کو نہ پہونچےبجلی کی تڑپ شعلہ فشانی کو نہ پہونچےخنجر کی زباں تیغ زبانی کو نہ پہونچےدوزخ کی زبانوں سے بھی آنچ اس کی بری تھیبرچھی تھی، کٹاری تھی، سر وہی تھی، چھری تھی
موجود بھی ہر غول میں اور سب سے جدا بھیدم خم بھی، لگاوٹ بھی، صفائی بھی، ادا بھیاک گھاٹ پہ تھی آگ بھی، پانی بھی، ہوا بھیامرت کا بھی، ہلاہل بھی، مسیحا بھی، قضا بھیکیا صاحب جوہر تھی عجب ظرف تھا اس کاموقع تھا جہاں جس کا وہیں صرف تھا اس کا
ہرڈھال کے پھولوں کو اڑاتا تھا پھل اس کاتھا لشکرِ باغی میں ازل سے عمل اس کاڈر جاتی تھی منہ دیکھ کے ہر دم اجل اس کاتھا قلعۂ چار آئینہ، گویا عمل اس کااس در سے گئی کھول کے وہ در نکل آئیگہہ صدر میں بیٹھی، کبھی باہر نکل آئی
نیزوں پہ گئی برچھیوں والوں کی طرف سےجا پہونچی کماں داروں پہ پھالوں کی طرف سےپھر آئی سواروں کے رسالوں کی طرف سےمنہ تیغوں کی جانب کیا ڈھالوں کی طرف سےبس ہو گیا دفتر نظری، نام و نسب کالاکھوں تھے، تو کیا دیکھ لیا جائزہ سب کا
پہونچی جو سپر تک تو کلائی کو نہ چھوڑاہر ہاتھ میں ثاب کسی گھائی کو نہ چھوڑاشوخی کو، شرارت کو، لڑائی کو نہ چھوڑاتیزی کو، رکھائی کو، صفائی کو نہ چھوڑااعضائے بدن قطع ہوئے جاتے تھے سب کےقینچی سی زباں چلتی تھی فقرے تھے غضب کے
چار آئینہ والوں کو نہ تھا جنگ کا یاراچو رنگ تھے سینے تو کلیجہ تھا دو پاراکہتے تھے زرہ پوش نہیں جنگ کا یارابچ جائیں تو جانیں کہ ملی جان دوبارہجوشن کو سنا تھا کہ حفاظت کا محل ہےاس کی نہ خبر تھی کہ یہی دامِ اجل ہے
بد کشی لڑائی کا چلن بھول گئے تھےنادک فگنی تیر فگن بھول گئے تھےسب حیلہ گری، عہد شکن بھول گئے تھےبے ہوشی میں ترکش کا دہن بھو گئے تھےمعلوم نہ تھا جسم میں جاں ہے کہ نہیں ۃےچلاتے تھے قبضے میں کماں ہے کہ نہیں ہے
ڈر ڈر کے قدِ راست سنانوں نے جھکائےدب دب کے سرِ عجز کمانوں نے جھکائےہٹ ہٹ کے علم، رن میں جوانوں نے جھکائےسر خاک پہ گرگر کے نشانوں نے جھکائےغل تھا کہ پناہ، اب ہمیں یا شاہِ زماں دوپھیلائے تھے دامن کو، پھریرے، کہ اماں دو
شہ کہتے تھے ہے باڑھ پہ دریا نہ رکے گااس موج پہ آفت کا طمانچہ نہ رکے گابے فتح و ظفر، دلبر زہرا نہ رکے گاتاغرق نہ فرعون ہو، موسیٰؑ نہ رکے گاہے بحرِ غضب نام ہے قہر صمد اس کارکنے کا نہیں شام تلک جزر و مد اس کا
اس صف سے گئے بیچ سے اس غول کے نکلےجو فوج چھڑی منہ پہ اسے رول کے نکلےانبوہ سے یوں تیغِ دوسر تول کے نکلےگویا درِ خیبر کو، علی کھول کے نکلےدنیا جو بچی، روحِ محمدؐ کا سبب تھاشبیر اگر رحم نہ کرتے تو غضب تھا
لڑتے تھے مگر غیظ سے رحمت تھی زیادہشفقت بھی نہ کم تھی جو شجاعت تھی زیادہنانا کی طرح خاطرِ امّت تھی زیادہبیٹوں سے غلاموں کی محبّت تھی زیادہتلوار نہ ماری جسے منہ موڑتے دیکھاآنسو نکل آئے جسے دم توڑتے دیکھا
فرماتے تھے اعدا کو ترائی سے بھگا کرکیوں چھوڑ دیا گھاٹ کو، روکو ہمیں آ کردعوت یونہی کرتے ہیں مسافر کو بلا کر؟ہم چاہیں تو پانی بھی پئیں نہر میں جا کرپر صبر کے دریا میں ہمیں پیاس نہیں ہےاب زہر یہ پانی ہے کہ عبّاس نہیں ہے
بھولی نہیں اکبر کی ہمیں تشنہ دہانیوہ چاند سا رخ، وہ قد و قامت، وہ جوانیوہ سوکھے ہوئے ہونٹ، وہ اعجاز بیانیدکھلا کے زباں مانگتے تھے نزع میں پانیکس سے کہیں جو خونِ جگر ہم نے پیا ہےبعد ایسے پسر کے بھی، کہیں باپ جیا ہے؟
یہ کہہ کے سکینہ کے بہشتی کو پکارےالفت ہمیں لے آئی ہے پھر پاس تمھارےلڑتے ہوئے آ پہنچے ہیں دریا کے کنارےعبّاس، غش آتا ہے ہمیں پیاس کے مارےاِن سوکھے ہوئے ہونٹوں سے ہونٹوں کو ملا دوکچھ مشک میں پانی ہو تو بھائی کو پلا دو
لیٹے ہوئے ہو ریت میں کیوں منہ کو چھپائےاٹھو کہ سکینہ کو یہاں ہم نہیں لائےغافل ہو، برادر تمھیں کس طرح جگائےہے عصر کا وقت، اے اسداللہ کے جائےخوش ہوں گا میں، آگے جو عَلم لے کے بڑھو گےکیا بھائی کے پیچھے نہ نماز آج پڑھو گے؟
کہہ کر یہ سخن رونے لگا بھائی کو بھائیتلوار سے مہلت ستم ایجادوں نے پائیجس فوج نے رن چھوڑ دیا تھا وہ پھر آئیدو روز کے پیاسے یہ، گھٹا شام کی چھائیبارش ہوئی تیروں کی ولی ابنِ ولی پرسب ٹوٹ پڑے ایک حسین ابنِ علی پر
کی شہ نے جو سینے پہ نظر پونچھ کے آنسوسب چھاتی سے تھے پہلوؤں تک تیر سہ پہلوہر سمت سے تیغیں جو لگاتے تھے جفا جوسالم نہ کلائی تھی، نہ شانہ تھا، نہ بازوبرگشتہ زمانہ تھا شہِ تشنہ گلُو سےپھل برچھیوں کے سرخ تھے سیّد کے لہو سے
زخموں سے جو وہ دستِ مبارک ہوئے بیکارہرنے پہ دھری شاہ نے سپر، میان میں تلواربس کعبۂ ایماں کے قریب آ گئے کفّارمظلوم کو تیغیں جو لگانے لگے اک باریوں شاہ کو گھیرے تھے پرے فوجِ ستم کےجس طرح صف آرا تھے صنم گرد حرم کے
سجدے کی جگہ چھوڑی نہ تیروں نے جبیں پرتقدیر نے لکھّے کئی نقش ایک نگیں پرکثرت تھی جراحت کی رخِ قبلۂ دیں پرہر جا خطِ شمشیر تھی قرآنِ مبیں پرتلواروں کے ٹکڑے تھے ہر اک جزوِ بدن پرمجموعہ پریشان تھا، سی پار تن پر
حضرت کی یہ صورت تھی، فرس کا تھا یہ احوالمنہ تیغوں سے زخمی تھا بدن تیروں سے غربالگھائل تھی جبیں، خون میں ڈوبی ہوئی تھی یالگردن کا وہ کینڈا نہ وہ شوخی تھی نہ وہ چالہر سمت سے تیروں کا جو مینہ اس پہ پڑا تھاپر کھولے ہوئے دھوپ میں طاؤس کھڑا تھا
جھک جاتے تھے ہرنے پہ جو غش میں شہِ ابرارمنہ پھیر کے آقا کی طرف تکتا تھا راہوارچمکار کے فرماتے تھے شبیّرِ دل افگاراب خاتم جنگ ہے اے اسپِ وفاداراتریں گے بس اب تجھ سے چھٹا ساتھ ہمارانہ پاؤں ترے چلتے ہیں، نہ ہاتھ ہمارا
زخمی ہے، نہیں اب تری تکلیف گواراگرتے ہیں سنبھلنے کا ہمیں بھی نہیں یاراکیا بات تری، خوب دیا ساتھ ہماراآ پہنچا ہے منزل پہ ید اللہ کا پیاراتو جس میں پلا ہے وہ گھر اک دم میں لٹے گابچپن کا ہمارا ترا اب ساتھ چھٹے گا
گھیرے ہیں عدو، خیمے تلک جا نہیں سکتےکھوئی ہے جو طاقت اسے اب پا نہیں سکتےمشکل ہے سنبھلنا، تجھے دوڑا نہیں سکتےپہلو ترے مجروح ہیں، ٹھکرا نہیں سکتےحیواں کو بھی دکھ ہوتا ہے زخموں کے تعب کامیں درد رسیدہ ہوں، مجھے درد ہے سب کا
کس طرح دکھاؤں کہ ترے زخم ہیں کاریمیں نے تو کسی دن تجھے قمچی نہیں ماریگھوڑے نے سنی درد کی باتیں جو یہ ساریدو ندّیاں اشکوں کی ہوئیں آنکھوں سے جاریحیواں کو بھی رقّت ہوئی اس لطف و کرم پرمنہ رکھ دیا مڑ کر شہِ والا کے قدم پر
گردن کو ہلایا کہ مسیحا، نہ اُتریےدم ہے ابھی مجھ میں مرے آقا، نہ اُتریےتلواریں لیے گرد ہیں اعدا، نہ اُتریےسب فوج چڑھی آتی ہے مولا، نہ اُتریےاے وائے ستم صدر نشیں خاک نشیں ہوحسرت ہے کہ مر جاؤں تو خالی مری زیں ہو
شہ نے کہا، تا چند مسافر سے مَحبّتوہ تو نے کیا، ہوتا ہے جو حقِ رفاقتبتلا تو سنبھلنے کی بھلا کون ہے صورتنہ ہاتھ میں، نہ پاؤں میں نہ قلب میں طاقتبہتر ہے کہ اتروں، نہیں تیورا کے گروں گاپھٹ جائیں گے سب زخم جو غش کھا کے گروں گا
ہے عصر کا ہنگام، مناسب ہے اترنااس خاک پہ ہے شکر کا سجدہ ہمیں کرناگو مرحل صعب ہے دنیا سے گزرناسجدے میں کٹے سر کہ سعادت ہے یہ مرناطاعت میں خدا کی نہیں صرفہ تن و سر کاذی حق ہیں ہمیں اس کے کہ ورثہ ہے پدر کا
اترا یہ سخن کہہ کے وہ کونین کا والیخاتم سے نگیں گر گیا، زیں ہو گیا خالیاس دکھ میں نہ یاور تھے، نہ مولا کے موالیخود ٹیک کے تلوار کو سنبھلے شہِ عالیکپڑے تنِ پُر نور کے سب خوں میں بھرے تھےاک ہاتھ کو راہوار کی گردن پہ دھرے تھے
منہ یال پہ رکھ رکھ کے یہ فرماتے تھے ہر بارجا ڈیوڑھی پہ اے صاحبِ معراج کے راہواراب ذبح کریں گے ہمیں اک دم میں ستمگارزینب سے یہ کہنا کہ سکینہ سے خبرداررہنا وہیں جب تک مرا سر تن سے جدا ہولے جائیو بانو کو جدھر حکمِ خدا ہو
یہ کہہ کے جو سرکا اسداللہ کا جایااک تیر جبیں پر بنِ اشعث نے لگایافریاد نے زہرا کی دو عالم کو ہلایاپیکانِ سہ پہلو عقبِ سر نکل آیاتڑپے نہ، زہے صبر امامِ دو جہاں کاسوفار نے بوسہ لیا سجدے کے نشاں کا
حضرت نے جبیں سے ابھی کھینچا نہ تھا وہ تیرجو سر پہ لگی تیغِ بنِ مالکِ بے پیرابرو تک اتر کر جو اٹھی ظلم کی شمشیرسر تھام کے بس بیٹھ گئے خاک پہ شبّیرچلّائے ملک دیکھ کے خوں سبطِ نبی کاتھا حال یہی مسجدِ کوفہ میں علی کا
بیٹھے جو سوئے قبلہ دو زانو شہِ بے پرجھکتے تھے کبھی غش میں اٹھاتے تھے کبھی سرتھے ذکرِ خدا میں کہ لگا تیر دہن پریاقوت بنے ڈوب کے خوں میں لبِ اطہربہہ آیا لہو تا بہ زنخدانِ مبارکٹھنڈے ہوئے دو گوہرِ دندانِ مبارک
نیزے کا بنِ وہب نے پہلو پہ کیا وارکاندھے پہ چلی ساتھ زرارہ کی بھی تلوارناوک بنِ کامل کا کا کلیجے کے ہوا پاربازو میں در آیا تبرِ خولیِ خونخوارتلوار سے وقفہ نہ ملا چند نَفَس کادم رک گیا نیزہ جو لگا ابنِ انَس کا
تھرّا کے جھکے سجدۂ حق میں شہِ ابرارشورِ دہلِ فتح ہوا فوج میں اک بارخوش ہو کے پکارا پسرِ سعد جفا کاراے خولی و شیث و بنِ ذی الجوشنِ جرّارآخر ہے بس اب کام امامِ ازلی کاسر کاٹ لو سب مل کے حسین ابنِ علی کا
لکھتا ہے یہ راوی کہ بپا ہو گیا محشربارہ ستم ایجاد بڑھے کھینچ کے خنجراک سیّدہ نکلی درِ خیمہ سے کھلے سربرقع تھا، نہ مقنع تھا، نہ موزے تھے نہ چادرچلّائے لعیں خوف سے ہاتھ آنکھوں پہ دھر کےلو فاطمہ آتی ہے بچانے کو پسر کے
ہلتا تھا فلک، ہاتھوں سے جب پیٹتی تھی سربجلی کی طرح کوندتے تھے کانوں کے گوہرفرماتی تھیں، فِضّہ جو اڑھا دیتی تھی مِعجَرفریادی ہوں، فریادی کو زیبا نہیں چادرسر ننگے یونہی جاؤں میں روضے پہ نبی کےپردہ تو گیا ساتھ حسین ابنِ علی کے
اُس بھیڑ میں آ کر وہ ضعیفہ یہ پکاریاے سبطِ نبی، ابنِ علی، عاشقِ باریگھوڑا تو ہے کوتل، کدھر اتری ہے سواریبھیّا، بہن آئی ہے زیارت کو تمھاریمر جاؤں گی حضرت کو جو پانے کی نہیں میںبے آپ کے دیکھے ہوئے جانے کی نہیں میں
اُس وقت شہِ دیں نے سنی زاریِ خواہرجس وقت کہ تھا حلقِ مبارک تہِ خنجرفرمایا اشارے سے کہ اے شمرِ ستم گرزینب نکل آئی ہے، ٹھہر جا ابھی دم بھرآخر تو سفر ہوتا ہے اس دارِ محن سےدو باتیں تو کر لینے دے بھائی کو بہن سے
منہ پھیر لیا شمر نے خنجر کو ہٹا کےدی شہ نے یہ زینب کو صدا اشک بہا کےتڑپاتی ہو بھائی کو بہن بلوے میں آ کےدیکھو گی کِسے، ہم تو ہیں پنجے میں قضا کےاٹھ سکتے نہیں جسم پہ تلواریں پڑی ہیںگھبراؤ نہ، امّاں مرے پہلو میں کھڑی ہیں
جاؤ صفِ ماتم پہ کرو گریہ و زاریگھر سے نکل آئے نہ سکینہ مری پیاریفردوس سے آ پہنچی ہے نانا کی سواریبس اب نہ سنو گی بہن آواز ہماریرونا ہے تو رو لیجو مرے لاشے پہ آ کےہٹ جاؤ کہ سر کٹتا ہے سجدے میں خدا کے
دوڑی یہ صدا سن کے ید اللہ کی جائیچلّائی کہ دیدار تو میں دیکھ لوں بھائیپر ہائے، بہن بھائی تلک آنے نہ پائییاں ہو گئی سیّد کے تن و سر میں جدائیقاتل کو نہ گردن کو نہ شمشیر کو دیکھاپہنچیں تو سناں پر سرِ شبّیر کو دیکھا
سر دیکھ کے بھائی کا وہ بے کس یہ پکاریدکھ پائی بہن آپ کی مظلومی کے واریخنجر سے یہ گردن کی رگیں کٹ گئیں ساریتم مر گئے پوچھے گا خبر کون ہماریآفت میں پھنسی آل رسولِ عَرَبی کیاب جائیں کہاں بیٹیاں زہرا و علی کی
ہے ہے، پسرِ صاحبِ معراج حُسیناپردیس میں بیووں کا لٹا راج حُسیناگویا کہ علی قتل ہوئے آج حُسیناہے ہے، کفن و گور کے محتاج حُسیناپرسا بھی ترا دینے کو آتا نہیں کوئیلاشا بھی زمیں پر سے اٹھاتا نہیں کوئی
قربان بہن، اے مرے سرور، مرے سیّدمذبوحِ قفا کشت خنجر، مرے سیّداے فاقہ کش و بیکس و بے پر، مرے سیّدپنجے میں ہے قاتل کے ترا سر، مرے سیّددیتے ہو صدا کچھ، نہ بلاتے ہو بہن کوکس یاس سے تکتے چلے جاتے ہو بہن کو
بھیّا، مرا کوئی نہیں، تم خوب ہو آگاہاحمد ہیں، نہ زہرا، نہ حَسن ہیں نہ یداللہڈھارس تھی بڑی آپ کی اے سیّدِ ذی جاہچھوڑا مجھے جنگل میں یہ کیا قہر کیا، آہچلتے ہوئے کچھ مجھ سے نہ فرما گئے بھائیبھینا کو نجف تک بھی نہ پہنچا گئے بھائی
اے میرے شہید اے مرے ماں جائے برادرکس سے ترا لاشہ بہن اٹھوائے برادرکس طرح مرے دل کو قرار آئے برادرپانی بھی نہ قاتل نے دیا ہائے برادرانساں پہ ستم یہ کبھی انساں نہیں کرتاحیواں کو بھی پیاسا کوئی بے جاں نہیں کرتا
خاموش انیس اب کہ ہے دل سینے میں بے چینلکھّے نہیں جاتے جو زینب نے کیے بیناب حق سے دعا مانگ کہ اے خالقِ کونینحاسد ہیں بہت، دل کو عطا کر مرے تو چینناحق ہے عداوت انھیں اس ہیچ مداں سےبے تیغ کٹے جاتے ہیں شمشیرِ زباں سے
۸۷ / ۹۰