یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
میرے نہیں، بندے ہیں ترے اے مرے خالقبستی ہو کہ جنگل توہی حافظ تو ہی رازقباندھے ہیں کمر ظلم و تعدی پہ منافقنے دوست ہے دنیا، نہ زمانہ ہے موافقحرمت ہے ترے ہاتھ امامِ ازلی کیدو بیٹیاں، دو بہوئیں ہیں اس گھر میں علی کی
About this couplet
This is couplet 111 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱۱ / ۱۸۶