یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

تنہائی میں اک ایک کو حضرت نے پکاراکون آئے کہ فردو میں تھا قافلہ ساراگھوڑے پہ چھڑا خود اسد اللہ کا پیارااونچا ہوا افلاکِ امامت کا ستاراشوخی سے فرس پاؤں نہ رکھتا تھا زمیں پرغل تھا کہ چلا قطبِ زماں عرشِ بریں پر

About this couplet

This is couplet 115 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۱۵ / ۱۸۶