یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

دم لے کہیں رک کر وہ روانی نہیں اس میںچلنے میں سبک تر ہے، گرانی نہیں اس میںجز حرفِ ظفر اور نشانی نہیں اس میںجل جاؤ گے سب آگ ہے پانی نہیں اس میںچھوڑے گی نہ زندہ اسے جو دشمن دیں ہےنابیں نہیں، غصے سے اجل چیں بہ جبیں ہے

About this couplet

This is couplet 126 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۶ / ۱۸۶