یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

یاں گوشۂ عزلت، خمِ شمشیر نے چھوڑاواں سہم کے چلے کو ہر ایک تیر نے چھوڑاکس قہر سے گھر موت کی تصویر نے چھوڑاساحل کو صفِ لشکرِ بے پیر نے چھوڑاعنقائے ظفر فتح کا در کھول کے نکلاشہباز اجل، صید کو، پر تول کے نکلا

About this couplet

This is couplet 133 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۳۳ / ۱۸۶