یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
افلاک پہ چمکی کبھی، سر پر کبھی آئیکوندی کبھی جوشن پی، سپر پر کبھی آئیگہہ پڑھ گئی سینہ پہ، جگر پر کبھی آئیتڑپی کبھی پہلو پہ، کبھی کمر پر کبھی آئیطے کر کے پھر کون سا قصہ تھا فرس کاباقی تھا جو کچھ کاٹ، وہ حصہ تھا فرس کا
About this couplet
This is couplet 137 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳۷ / ۱۸۶