یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

پہونچی جو سپر تک تو کلائی کو نہ چھوڑاہر ہاتھ میں ثاب کسی گھائی کو نہ چھوڑاشوخی کو، شرارت کو، لڑائی کو نہ چھوڑاتیزی کو، رکھائی کو، صفائی کو نہ چھوڑااعضائے بدن قطع ہوئے جاتے تھے سب کےقینچی سی زباں چلتی تھی فقرے تھے غضب کے

About this couplet

This is couplet 144 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۴۴ / ۱۸۶