یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
کیا ہو گئے وہ جو ہریانِ سخن اک بارہر وقت جو اس جنس کے رہتے تھے طلب گاراب ہے کوئی طالب نہ شناسا نہ خریدارہے کون دکھائیں کسے یہ گوہرِ شہوارکس وقت یہاں چھوڑ کے ملکِ عدم آئےجب اٹھ گئے بازار سے گاہک تو ہم آئے
About this couplet
This is couplet 16 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۶ / ۱۸۶