یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

شہ نے کہا، تا چند مسافر سے مَحبّتوہ تو نے کیا، ہوتا ہے جو حقِ رفاقتبتلا تو سنبھلنے کی بھلا کون ہے صورتنہ ہاتھ میں، نہ پاؤں میں نہ قلب میں طاقتبہتر ہے کہ اتروں، نہیں تیورا کے گروں گاپھٹ جائیں گے سب زخم جو غش کھا کے گروں گا

About this couplet

This is couplet 165 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۶۵ / ۱۸۶