یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
اترا یہ سخن کہہ کے وہ کونین کا والیخاتم سے نگیں گر گیا، زیں ہو گیا خالیاس دکھ میں نہ یاور تھے، نہ مولا کے موالیخود ٹیک کے تلوار کو سنبھلے شہِ عالیکپڑے تنِ پُر نور کے سب خوں میں بھرے تھےاک ہاتھ کو راہوار کی گردن پہ دھرے تھے
About this couplet
This is couplet 167 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۶۷ / ۱۸۶