یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

بیٹھے جو سوئے قبلہ دو زانو شہِ بے پرجھکتے تھے کبھی غش میں اٹھاتے تھے کبھی سرتھے ذکرِ خدا میں کہ لگا تیر دہن پریاقوت بنے ڈوب کے خوں میں لبِ اطہربہہ آیا لہو تا بہ زنخدانِ مبارکٹھنڈے ہوئے دو گوہرِ دندانِ مبارک

About this couplet

This is couplet 171 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۷۱ / ۱۸۶