یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
ہے اس پہ ازل سے نظرِ رحمتِ معبودیہ پیشتر آدم سے بھی تھا عرش پہ موجودہے ذاتِ خدا صاحبِ فیض و کرم وجودتھا خلق دو عالم سے یہی مطلب و مقصودمظلومی و غربت ہے عجب نام پہ اس کےسب روتے ہیں اور روئیں گے انجام پہ اس کے
About this couplet
This is couplet 56 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۶ / ۱۸۶