یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
ساقی کے کرم سے ہو وہ دور اور چلیں جامجس میں عوضِ نشہ ہو کیفیت انجامہر مست، فراموش کرے گردشِ ایامصوفی کی زباں بھی نہ رہے فیض سے ناکامہاں بادہ کشو پوچھ لو میخانہ نشیں سےکوثر کی یہ موج آ گئی ہے خلدِ بیرں سے
About this couplet
This is couplet 7 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷ / ۱۸۶