یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
ریتی یہ عزیزوں کا مرقع تو ہے ابترشہ کا ہے یہ نقشہ کہ میں تصویر سے ششدرفرزند نہ ملسم کے نہ ہمشیر کے دلبرقاسم ہیں نہ عباس نہ اکبر ہیں نہ اصغرسب نذر کو دربار پیمبر میں گئے ہیںرخصت کو اکیلے شہہ دیں گھر میں گئے ہیں
About this couplet
This is couplet 88 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۸ / ۱۸۶