یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
خیمے میں مسافر کا وہ آنا تھا قیامتایک ایک کو چھاتی سے لگانا تھا قیامتآنا تو غنیمت تھا یہ جانا تھا قیامتتھوڑا سا وہ رخصت کا زمانہ تھا قیامتواں بین ادھر صبر و شکیبائی کی باتیںافسانۂ ماتم تھیں بہن بھائی کی باتیں
About this couplet
This is couplet 90 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۰ / ۱۸۶