یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

ہر شخص کو ہے یوں تو سفر خلق سے کرنادشوار ہے اک آن مسافر کا ٹھہرناان آنکھوں سے دیکھا ہے بزرگوں کا گزرناہے سب سے سوا ہائے یہ مظلومی کا مرناصدقے گئی یوں رن کبھی پڑتے نہیں دیکھااک دن میں بھرے گھر کو اجڑتے نہیں دیکھا

About this couplet

This is couplet 93 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۳ / ۱۸۶