یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

غش میں جو سنی بانوئے مضطر نے یہ تقریرثابت ہو مرنے کو چلے حضرت شبیرسر ننگے اٹھی چھوڑ کے گہوارۂ بے شیرچلائی مجھے ہوش نہ تھا یا شہِ دل گیرجاں تن سے کوئی آن میں اب جاتی ہے آقایہ خادمہ رخصت کے لئے آتی ہے آقا

About this couplet

This is couplet 99 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۹ / ۱۸۶