نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
گو مصیبت میں تلاطم میں، تباہی میں رہےسرکٹے پاؤں مگر راہِ الٰہی میں رہےیوں سرافراز، وہ سب لشکرِ شاہی میں رہےجس طرح تیغِ دو دم دستِ سپاہی میں رہےاس مصیبت میں نہ پایا کبھی شاکی ان کوآبرو ساقیِٔ کوثر نے عطا کی ان کو
About this couplet
This is couplet 23 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۳ / ۱۰۲