کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر
نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میریناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میریرنگ اڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میریشور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میریعمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میںپانچویں پشت ہے شبیرؔ کی مداحی میں
ایک قطرے کو جو دوں بسط تو قلزم کردوںبحر مواج فصاحت کا تلاطم کر دوںماہ کو مہر کروں ذروں کو انجم کردوںگنگ کو، ماہر انداز تکلم کر دوںدرد سر ہوتا ہے بے رنگ نہ فریاد کریںبلبلیں مجھ سے گلستاں کا سبق یاد کریں
اس ثنا خواں کے بزرگوں میں ہیں کیا کیا مداحجدّ اعلیٰ سے نہ ہوگا کوئی اعلیٰ مداحباپ مداح کا مداح ہے دادا مداحعم ذی قدر ثنا خوانوں میں یکتا مداحجو عنایات الٰہی سے ہوا نیک ہوانام بڑھتا گیا جب ایک کے بعد ایک ہوا
طبع ہر ایک کی موزوں قد زیبا موزوںصورت سرو ازل سے ہیں سراپا موزوںنثربے سجع نہیں، نظم معلیٰ موزوںکہیں سکتہ نہیں آ سکتا، کجا ناموزوںتول لے عقل کی میزاں میں جو فہمیدہ ہےبات جو منہ سے نکلتی ہے وہ سنجیدہ ہے
خلق میں مثل خلیق اور تھا خوش گو کوئی کبنام لے دھو لے زباں کوثر و تسنیم سے جببلبل گلشن زہرا و علی عاشق ربمتبع مرثیہ گوئی میں ہوئے جس کے سببہو اگر ذہن میں جودت ہے کہ موزونی ہےاس احاطے سے جو باہر ہے وہ بیرونی ہے
بھائی خوش فکرت و خوش لہجہ و پاکیزہ خصالجن کا سینہ گہر علم سے ہے مالا مالیہ فصاحت، یہ بلاغت، یہ سلاست یہ کمالمعجزہ گر نہ اسے کہیے تو ہے سحر حلالاپنے موقع پہ جسے دیکھیے لاثانی ہےلطف حضرت کا یہ ہے رحمت یزدانی ہے
کیوں نہ ہو بندۂ موروثیٔ مولا ہوں میںقلزم رحمت معبود کا قطرہ ہوں میںجس میں لاکھوں در و مرجاں ہیں وہ دریا ہوں میںمدح خوانِ پسرِ حضرتِ زہرا ہوں میںوصف جوہر کا کروں یا صفت ذات کروںاپنے رتبے پہ نہ کیوں آپ مباہات کروں
مبتدی ہوں مجھے توقیر عطا کر یاربشوقِ مداحیِٔ شپیر عطا کر یاربسنگ ہو موم وہ تقریر عطا کر یاربنظم میں رونے کی تاثیر عطاکر یا ربجد و آبا کے سوا اور کوئی تقلید نہ ہولفظ مغلق نہ ہوں گنجلک نہ ہوں تعقید نہ وہ
وہ مرقع ہو کہ دیکھیں اسے گر اہل شعورہر ورق میں کہیں سایہ نظر آئے کہیں نورغل ہو یہ ہے کششِ مو قلم طرۂ حورصاف ہر رنگ سے ہو صنعت صانع کا ظہورکوئی ناظر جو یہ نایاب نظیریں سمجھےنقشِ ارژنگ کو کاواک لکیریں سمجھے
قلمِ فکر سے کھینچوں جو کسی بزم کا رنگشمعِ تصویر پہ گرنے لگیں آ آ کے پتنگصاف حیرت زدہ مانیؔ ہو تو بہزادؔ ہو دنگخوں برستا نظر آئے جو دکھاؤں صفِ جنگرزم ایسی ہو کہ دل سب کے پھڑک جائیں ابھیبجلیاں تیغوں کی آنکھوں میں چمک جائیں ابھی
روزمرہ شرفا کا ہو سلامت ہو وہیلب و لہجہ وہی سارا ہو متانت ہو وہیسامعیں جلد سمجھ لیں جسے، صنعت ہو وہییعنی موقع ہو جہاں جس کا عبارت ہو وہیلفظ بھی چست ہوں مضمون بھی عالی ہووےمرثیہ درد کی باتوں سے نہ خالی ہووے
ہے کجی عیب مگر حسن ہے ابرو کے لیےتیرگی بد ہے مگر نیک ہے گیسو کے لیےسرمہ زیبا ہے فقط نرگسِ جادو کے لیےزیب ہے خالِ سیۂ چہرۂ گلرو کے لیےداند آنکس کہ فصاحت بہ کلامے داردہر سخن موقع و ہر نکتہ مقامے دارد
بزم کا رنگ جدا، رزم کا میداں ہے جدایہ چمن اور ہے زخموں کا گلستاں ہے جدافہم کامل ہو، تو ہر نامے کا عنواں ہے جدامختصر پڑھ کے رلا دینے کا ساماں ہے جدادبدبہ بھی ہو، مصائب بھی ہوں، توصیف بھی ہودل بھی محفوظ ہوں، رقت بھی ہو تعریف بھی ہو
ماجرا صبحِ شہادت کا بیان کرتا ہوںرنج و اندوہ و مصیبت کا بیاں کرتا ہوںتشنہ کاموں کی عبادت کا بیاں کرتا ہوںجاں نثاروں کی اطاعت کا بیاں کرتا ہوںجن کا ہمتا نہیں، ایک ایک مصاحب ایساایسے بندے نہ کبھی ہوں گے ، نہ صاحب ایسا
صبح صادق کا ہوا چرخ پہ جس وقت ظہورزمزمے کرنے لگے یادِ الٰہی میں طیورمثلِ خورشید برآمد ہوئے خیمے سے حضوریک بیک پھیل گیا چار طرف دشت میں نورشش جہت میں رخِ مولا سے ظہور حق تھاصبح کا ذکر ہے کیا، چاند کا چہرہ فق تھا
ٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں وہ بیاباں وہ سحردم بدم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجراوس نے فرشِ زمرد پہ بچھائے تھے گہرلوٹی جاتی تھی لہکتے ہوئے سبزے پہ نظردشت سے جھوم کے جب بادِ صبا آتی تھیصاف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آتی تھی
بلبلوں کی وہ صدائیں، وہ گلوں کی خوشبودل کو الجھاتے تھے، سنبل کے وہ پر خم گیسوقمریاں کہتی تھیں شمشاد پہ یاہو یاہوفاختہ کی یہ صدا سرو پہ تھی ، کو کو کووقت تسبیح کا تھا عشق کا دم بھرتے تھےاپنے معبود کی سب، حمد و ثنا کرتے تھے
آئے سجادۂ طاعت پہ امامِ دو جہاںاس طرف طبل بجا یاں ہوئی لشکر میں اذاںوہ مصلی کہ زباں جن کی حدیث و قرآںوہ نمازی کہ جو ایماں کے تنِ پاک کی جاںزاہد ایسے تھے کہ ممتاز تھے، ابراروں میںعابد ایسے تھے کہ سجدے کیے تلواروں میں
عرشِ اعظم کو ہلاتی تھیں دعائیں ان کیوجد کرتے تھے ملک، سن کے صدائیں ان کیوہ عمامے، وہ قبائیں، وہ عبائیں ان کیحوریں لیتی تھیں بصد شوق بلائیں ان کیذکرِ خالق میں لب ان کے جو ہلے جاتے تھےغنچے فردوس کے شادی سے کھلے جاتے تھے
کیا جوانانِ خوش اطوار تھے، سبحان اللہکیا رفیقانِ وفادار تھے، سبحان اللہصفدر و غازی و جرار تھے، سبحان اللہزاہد و عابد و ابرار تھے، سبحان اللہزن و فرزند سے فرقت ہوئی، مسکن چھوڑامگر احمد کے نواسے کا نہ دامن چھوڑا
اللہ اللہ عجب فوج عجب غازی تھےعجب اسوار تھے بے مثل، عجب تازی تھےلائقِ مدح و سزاوارِ سر افرازی تھےگو بہت کم تھے، پہ آمادۂِ جاں بازی تھےپیاس ایسی تھی کہ آ آ گئی جاں ہونٹوں پرصابر ایسے تھے کہ پھیری نہ زباں ہونٹوں پر
زہد میں حضرت سلماںؔ کے برابر کوئیدولتِ فقر و قناعت میں ابوذرؔ کوئیصدقِ گفتار میں عمارؔ کا ہمسر کوئیحمزۂؔ عصر کوئی مالکِ اشترؔ کوئیہوں گے ایسے ہی محمدؔ کے جو شیدا ہوں گےپھر جہاد ایسا نہ ہوگا، نہ وہ پیدا ہوں گے
گو مصیبت میں تلاطم میں، تباہی میں رہےسرکٹے پاؤں مگر راہِ الٰہی میں رہےیوں سرافراز، وہ سب لشکرِ شاہی میں رہےجس طرح تیغِ دو دم دستِ سپاہی میں رہےاس مصیبت میں نہ پایا کبھی شاکی ان کوآبرو ساقیِٔ کوثر نے عطا کی ان کو
وہ تخشع، وہ تضرع، وہ قیام اور وہ قعودوہ تذلل وہ دعائیں وہ رکوع اور وہ سجودیادِ حق دل میں، تو سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ درودیہ دعا خالقِ اکبر سے کہ اے ربِ ودودیوں لٹیں ہم کہ، نہ آل اور نہ اولاد رہےمگر احمدؔ کے نواسے کا گھر آباد رہے
موم فولاد ہو آوازوں میں وہ سوز و گدازاپنے معبود سے سجدوں میں عجب راز و نیازسر تو سجادوں پہ تھے عرش معلی پہ نمازشیر دل منتخبِ دہر وحید و ممتازچاند شرمندہ ہو، چہرے متجلی ایسےنہ امام ایسا ہوا پھر نہ مصلی ایسے
جب فریضے کو ادا کر چکے وہ خوش کردارکس کے کمروں کو بصد شوق لگائے ہتھیارجلوہ فرما ہوئے گھوڑے پہ شۂ عرش وقارعلمِ فوج کو عباس نے کھولا اک باردشت میں نکہتِ فردوس بریں آنے لگیعرش تک اس کے پھریرے کی ہوا جانے لگی
لہر وہ سبز پھریرے کی، وہ پنجے کی چمکشرم سے ابر میں چھپ جاتا تھا خورشید فلککہتے تھے صلِ علیٰ چرخ پہ اٹھ اٹھ کے ملکدنگ تھے سب وہ سماں سے تھا سماں تا بہ فلککہیے پستی اسے جو اوج ہما نے دیکھاوہ سماں پھر نہ کبھی ارض و سما نے دیکھا
اس طرح جب علمِ دلبرِ زہرا جائےکس سے پھر معرکۂ رزم میں ٹھہرا جائےسانپ دشمن کی نہ کیوں چھاتی پہ لہرا جائےلہر میں تا بہ فلک جس کا پھریرا جائےرفع شر کو، علم خیر بشر آیا تھاسورۂ نصر پئے فتح و ظفر آیا تھا
وہ علم دار کہ جو شیرِ الٰہی کا خلفگوہر بحرِ وفا، نیرِ دیں درِ نجففخرحمزہؔ سے نمودار کا جعفرؔ کا شرفکس طرح چاند کہوں، چاند میں ہے عیب کلفکس نے پایا وہ جو تھا جاہ و حشم ان کے لیےیہ علم کے لیے تھے اور علم ان کے لیے
سرو شرمائے، قد اس طرح کا، قامت ایسیاسد اللہ کی تصویر تھے، صورت ایسیشیر نعروں سے دہل جاتے تھے ، صولت ایسیجا کے پانی نہ پیا نہر پہ ہمت ایسیجان جب تک تھی اطاعت میں رہے بھائی کیتھے علم دار، مگر بچوں کی سقائی کی
وہ بہشتی نے کیا، جس کو وفا کہتے ہیںہم انہیں عاشقِ شاہِ شہدا کہتے ہیںان کو قبلہ تو انہیں قبلہ نما کہتے ہیںجو بہادر ہیں، وہ شمشیرِ خدا کہتے ہیںعشقِ سردار و علمدار کا افسانہ ہےوہ چراغِ رہِ دیں ہے تو یہ پروانہ ہے
اک طرف اکبرِ مہرو سا جوانِ نایابکچھ جو بچپن تھا تو کچھ آمدِ ایام شبابروشنی چہرے پہ ایسی کہ خجل ہو مہتابآنکھیں ایسی کہ رہا، نرگسِ شہلا کو حجابجس نے ان گیسوؤں میں رخ کی ضیا کو دیکھاشبِ معراج میں، محبوبِ خدا کو دیکھا
ؔاے خوشا حسنِ رخِ یوسفِ کنعانِ حسنؔراحتِ روحِ حسین، ابن علی، جانِ حسنؔجسم میں زورِ علی، طبع میں احسانِ حسنؔہمہ تن خلقِ حسن، حسنِ حسن، شانِ حسنتن پہ کرتی تھی نزاکت سے گرانی پوشاککیا بھلی لگتی تھی بچپن میں سہانی پوشاک
اللہ اللہ اسدِ حق کے نواسوں کا جلالچاند سے چہروں پہ بل کھائے ہوئے زلفوں کے بالنیمچے کاندھوں پہ رکھے ہوئے، مانندِ ہلالگرچہ بچپن تھا، پہ رستم کو سمجھتے تھے وہ زالصف سے گھوڑوں کو بڑھا کر جو پلٹ جاتے تھےمورچے لشکرِ کفار کے ہٹ جاتے تھے
آستینوں کو چڑھائے ہوئے آمادۂ جنگوہی سارا اسد اللہ کا نقشہ، وہی ڈھنگسرخ چہرے تھے کہ شیروں کا یہی ہوتا ہے رنگولولہ صف کے الٹنے کا، لڑائی کی امنگجسم پر تیر چلیں، نیزۂ خونخوار چلےشوق اس کا تھا کہ جلدی کہیں تلوار چلے
یک بیک طبل بجا فوج میں گرجے بادلکوہ تھراے، زمیں ہل گئی گونجا جنگلپھول ڈھالوں کے چمکنے لگے تلواروں کے پھلمرنے والوں کو نظر آنے لگی شکلِ اجلواں کے چاؤش بڑھانے لگے دل لشکر کافوجِ اسلام میں نعرہ ہوا یا حیدر کا
شور میدانیوں میں تھا، کہ دلیرو نکلو!نیزہ بازی کرو، رہواروں کو پھیرو نکلو!نہر قابو میں ہے، اب پیاسوں کو گھیرو نکلو!غازیو! صف سے بڑھو غول سے شیرو نکلو!رستمو! دادِ وغا دو، کہ یہ دن داد کا ہےسامنا حیدر کرار کی اولاد کا ہے
شور سادات میں تھا، یا شۂ مرداں مددےکعبۂ دیں مددے، قبلۂ ایماں مددےقوتِ بازوئے پیغمبرِ ذی شاں مددےدم تائید ہے، اے فخرِ سلیماں مددےتیسرا فاقہ ہے، طاقت میں کمی ہے مولا!طلب قوتِ ثابت قدمی ہے مولا!
پیاس میں حرف نہ شکوے کا زباں پر لائیںدم بدم سینوں پہ فاقوں میں سنانیں کھائیںدل نہ تڑپے، جو دمِ نزع نہ پانی پائیںتیرے فرزند کی تائید کریں، مرجائیںلاشے مقتل میں ہوں لاشِ شہ دلگیر کے پاسسر ہوں نیزے پہ سرِ حضرتِ شبیر کے پاس
سامنے بڑھ کے یکایک صفِ کفار آئیجھوم کر تیرہ گھٹا، تاروں پہ اک بار آئیروزِ روشن کے چھپانے کو شبِ تار آئیتشنہ کاموں کی طرف، تیروں کی بوچھار آئیہنس کے منہ بھائی کا شاہِ شہدا نے دیکھااپنے آقا کو بہ حسرت رفقا نے دیکھا
عرض عباسؔ نے کی جوش ہے جراروں کوتیر سب کھاتے ہیں، تولے ہوئے تلواروں کومیہمانوں کا نہیں پاس، ستمگاروں کومصلحت ہو تو رضا دیجیے، غمخواروں کورو سیاہوں کو مٹا دیں کہ بڑھے آتے ہیںہم جو خاموش ہیں وہ منہ پہ چڑھے آتے ہیں
یہی ہنگامہ رہا صبح سے، تا وقتِ زواللاش پر لاش گری، بھر گیا میدانِ قتالسرخرو خلق سے اٹھے، اسد اللہ کے لالمورچے سب تہہ و بالا تھے، پرے سب پامالکھیت ایسے بھی کسی جنگ میں کم پڑتے ہیںجو لڑا سب یہی سمجھے کہ علی لڑتے ہیں
قاسم و اکبر و عباس کا اللہ رے جہادغل ہر اک ضرب پہ تھا اب ، ہوئی دنیا بربادالاماں کا تھا کہیں شور کہیں تھی فریاددے گئے خلق میں مردانگیٔ حرب کی دادگو وہ دنیا میں نہیں، عرش مقام ان کا ہےآج تک عالمِ ایجاد میں نام ان کا ہے
دوپہر میں وہ چمن بادِ خزاں نے لوٹاپتا پتا ہوا تاراج تو بوٹا بوٹاباپ بیٹے سے چھٹا، بھائی سے بھائی چھوٹاابنِ زہراؔ کی کمر جھک گئی بازو ٹوٹاپھر سے نہ یاور، نہ وہ جاں باز نہ وہ شیدا تھےظہر کے وقت حسینؔ ابنِ علی تنہا تھے
ساتھ جو جو کہ بہادر تھے، وطن سے آئےسامنے سوتے تھے ریتی پہ سنائیں کھائےدھوپ میں پیاس سے مثلِ گلِ تر مرجھائےمرگئے پر نہ غریبوں نے کفن تک پائےدھوپ پڑتی تھی یہ دن چرخ نے دکھلایا تھانہ تو چادرتھی کسی لاش پہ نے سایا تھا
صاحبِ فوج پہ طاری تھا عجب رنج و ملالزرد تھا رنگ، تو آنکھیں تھیں لہو رونے سے لالکبھی بھائی کا الم تھا، کبھی بیٹے کا خیالکبھی دھڑکا تھا کہ لاشیں نہ کہیں ہوں پامالکبھی بڑھتے تھے وغا کو، کبھی رک جاتے تھےسیدھے ہوتے تھے کبھی، اور کبھی جھک جاتے تھے
بڑھ کے چلاتے تھے بے درد کہ اب آپ آئیںجوہر تیغِ شہنشاہِ نجف دکھلائیںمرنے والے نہیں جیتے جو سنائیں کھائیںکاٹ لیں آپ کا سر تن سے تو فرصت پائیںپسرِ سعد سے وعدہ ہے، صلا لینے کاحکم ہے خیمۂ اقدس کے جلا دینے کا
شہ نے فرمایا، مجھے خود ہے شہادت منظورنہ لڑائی کی ہوس ہے، نہ شجاعت کا غرورجنگ منظور نہ تھی ان سے پہ اب ہوں مجبورخیر، لڑ لو کہ ستاتے ہیں یہ بے جرم و قصورذبح کرنے کے لیے لشکرِ ناری آئےکہیں جلدی مرے سر دینے کی باری آئے
حکم پانا تھا کہ شیروں نے اڑائے تازیمثل شہباز گیا ایک کے بعد اک غازیواہ ری حرب، خوشا ضرب، زہے جانبازیاڑ گیا ہاتھ بڑھا جو پئے دست اندازیلوٹتے رن میں سر و جسم نظر آتے تھےایک حملے میں قدم فوج کے جم جاتے تھے
جس پہ غصہ میں گئے صید پہ شہباز گرایہ کماں کٹ کے گری، وہ قدر انداز گراجب گرا خاک پہ گھوڑے سے، تو ممتاز گرانہ اٹھا پھر کبھی، جو تفرقہ پرداز گراہاتھ منہ کٹ گئے، سر اڑ گئے جی چھوٹ گئےمورچے ہو گئے پامال، پرے ٹوٹ گئے
بعد غیروں کے عزیزوں نے کیا عزمِ نبردسر کو نہیوڑا کے بھرا سبطِ نبیؐ نے دم سردہوک اٹھی کبھی سینے میں، تو دل میں کبھی دردسرخ ہوتا تھا کبھی چاند سا چہرہ کبھی زردکوئی گل رو تو کوئی سرو سہی بالا تھاوہ بچھڑنے لگے، گودی میں جنہیں پالا تھا
زلفوں والا تھا کوئی، کوئی مرادوں والاکوئی بھائی کا پسر، کوئی بہن کا پالاچاند سا منہ جو کسی کا تھا تو گیسو ہالاکوئی قامت میں بہت کم کوئی قد میں بالانوجواں کون سا خوش رو و خوش انداز نہ تھاکتنے ایسے تھے کہ سبزہ ابھی آغاز نہ تھا
ہاتھ وہ بچوں کا، اور چھوٹی سی وہ تلواریںموم کردیتی تھیں فولاد کہ جن کی دھاریںآب ہو شیر کا زہرہ ہے، جسے وہ للکاریںبجلیاں کوند رہی ہیں کسے نیزہ ماریںکس بشاشت سے ہزاروں یہ، دلیر آتے ہیںبچے آتے ہیں کہ بپھرے ہوئے شیر آتے ہیں
شہ نے فرمایا کہ سر کاٹ لو، حاضر ہوں میںنہ تو لڑنے میں، نہ مرجانے میں قاصر ہوں میںفوج بھی اب نہیں بے یاور و ناصر ہوں میںشہر و صحرا بھی تمہارا ہے، مسافر ہوں میںلوٹ لو پھونک دو، تاراج کرو بہتر ہےکلمہ گویو! یہ تمہارے ہی نبی کا گھر ہے
کئی سیدانیاں خیمے میں ہیں پردے والیجن کا رتبہ ہے زمانے میں ہر اک پر حالیاب نہ وارث کوئی سر پر ہے، نہ کوی والیان کو دیجو! کوئی رہ جائے جو خیمہ خالییہ نبی زادیاں بے پردہ نہ ہوئیں جس میںایک گوشہ ہو کہ سب بیٹھ کے روئیں جس میں
سن کے ان باتوں کا اعدا نے دیا جو کہ جوابگر لکھوں اس کو تو ہو جائے جگر سنگ کا آبقلب تھرا گیا ہر گز نہ رہی ضبط کی تابدیکھ کر رہ گئے گردوں کو، شۂ عرش جناباشک خالی اسے کرتے ہیں جو دل بھر آئےآپ رونے کے لیے خیمے کے در پر آئے
تھم کے چلائے کہ اے زینبؑ و ام کلثومتم سے رخصت کو پھر آیا ہے حسینِ مظلومآ مرے قتل کے درپے ہے یہ سب لشکرِ شومہاں جگادو اسے غش ہو جو سکینہ معصومنہیں ملتا جو زمانے سے گزر جاتا ہےکہہ دو عابدؔ سے کہ مرنے کو پدر جاتا ہے
یہ صدا سن کے حرم خیمے سے، مضطر دوڑےشہ کی آواز پہ سب بے کس و بے پر دوڑےگر پڑیں سر سے ردائیں تو کھلے سر دوڑےبچے روتے ہوئے ماؤں کے برابر دوڑےرو کے چلائی سکینہ شہ والا آؤ!میں تمہیں ڈھونڈتی تھی، دیر سے بابا آؤ!
آؤ اچھے مرے بابا، میں تمہاری واریدیکھو تم بن ہیں گلے تک مرے آنسو جاریآج یہ کیا ہے کہ بھولے مرے خاطر داریہاتھ پھیلا کے کہو! آ مری بیٹی پیاریمنہ چھپانے کی ہے کیا وجہ نہ شرماؤ تماب میں پانی بھی نہ مانگوں گی، چلے آؤ تم
دیکھ کر پردہ سے یہ کہنے لگی، زینبِؑ زارابنِ زہراؔ تری مظلومی و غربت کے نثارآؤ چادر سے کروں پاک، میں چہرے کا غبارشہ نے فرمایا، بہن مر گئے سب مونس و یارتم نے پالا تھا جسے، ہم اسے رو آئے ہیںعلی اکبرؑ سے جگر بند کو کھو آئے ہیں
منہ دکھائیں کسے، سب سے ہے ندامت زینبؔگھر میں آنے کی نہیں، بھائی کو مہلت زینبؔکھینچ لائی ہے سکینہ کی محبت زینبؔبھائی جاتا ہے، دکھا دو ہمیں صورت زینبؔنہ تو سر کھولو، نہ منہ پیٹو، نہ فریاد کروبھول جاؤ ہمیں، اللہ کو اب یاد کرو
صبر سے خوش ہے خدا، اے مری غم خوار بہنسہل ہوجاتا ہے، جو امر ہو دشوار بہناپنی ماں کا ہے طریقہ، تمہیں درکار بہنپھر میں کہتا ہوں سکینہ سے خبردار بہنناز پرور ہے مرے بعد الم اس پہ نہ ہوبُندے کانوں سے اتارو کہ ستم اس پہ نہ ہو
کہیو عابد سے یہ پیغام مرا بعد سلامغش تھے تم پھر گئے دروازے تلک آ کے امامقید میں پھنس کے نہ گھبرائیو اے گل اندامکاٹیو صبر و رضا سے، سفرِ کوفہ و شامناؤ منجدھار میں ہے شور طلاطم جانو!نا خدا جاتا ہے، گھر جانے اور اب تم جانو!
کہہ کے یہ باگ پھرآئی طرفِ لشکرِ شامپڑ گیا خیمۂ ناموس نبی میں کہرامرن میں گھوڑے کو اڑاتے ہوئے آئے جو امامرعب سے فوج کے دل ہل گئے کانپے اندامسر جھکے ان کے جو کامل تھے زباں دانی میںاڑ گئے ہوش فصیحوں کے رجز خوانی میں
تھا یہ نعرہ کہ محمد کا نواسا ہوں میںمجھ کو پہچانو! کہ خالق کا شناسا ہوں میںزخمی ہونے سے نہ مرنے سے ہراسا ہوں میںتیسرا دن ہے یہ گرمی میں کہ پیاسا ہوں میںچین کیا چیز ہے، آرام کسے کہتے ہیں؟اس پہ شکوہ نہیں کچھ، صبر اسے کہتے ہیں
اس کا پیارا ہوں جو ہے ساقیِٔ حوضِ کوثراس کا بیٹا ہوں، جو ہے فاتحِ بابِ خیبراس کا فرزند ہوں کی جس نے مہم بدر کی سراس کا دلبر ہوں میں، دی جس کو نبی نے دخترصاحبِ تخت ہوئے، تیغ ملی، تاج ملادوش احمدؔ پہ انہیں رتبۂ معراج ملا
بے وطن ہوں نہ مسافر کو ستاؤ اللہقتل کیوں کرتے ہو تم، کون سا میرا ہے گناہاب نہ یاور ہے کوئی ساتھ نہ لشکر نہ سپاہتم کو لازم ہے غریبوں پہ ترحم کی نگاہہاتھ آئے گا نہ انعام، نہ زر پاؤگےیاد رکھو! مرا سر کاٹ کے پچھتاؤگے
نہ بھی ختم ہوئی تھی یہ مسلسل تقریرحجت اللہ کے فرزند پہ چلنے لگے تیرچوم کر تیغ کے قبضے کو پکارے شبیرلو خبردار! چمکتی ہے علیؔ کی شمشیرپسرِ فاتحِ صفین و حنین آتا ہےلو صفیں باندھ کے روکو تو حسینؔ آتا ہے
لو کھنچو تیغِ دوسر، فوج پہ آفت آئیلو ہلا، قائمۂ عرش، قیامت آئیفتح تسلیم کو، آداب کو نصرت آئیفخر سے غاشیہ برداری کو شوکت آئیچوم لوں پاؤں، جلال اس تگ و دو میں آیاہاتھ جوڑے ہوئے اقبال جلو میں آیا
آپ سیدھے جو ہوئے رخش نے بدلے تیوردونوں آنکھیں ابل آئیں کہ ڈرے بانیِٔ شرتھوتھنی مل گئی سینے سے کیا، دُم کو چنورمثلِ طاؤس اڑا، گاہ اِدھر، گاہ اُدھردم بدم گرد نسیمِ سحری پھرتی تھیجھوم کر پھرتا تھا، گویا کہ پری پھرتی تھی
ابر ڈھالوں کا اٹھا تیغِ دو پیکر چمکیبرق چھپتی ہے، یہ چمکی تو برابر چمکیسوئے پستی کبھی کوندی، کبھی سر پر چمکیکبھی انبوہ کے اندر، کبھی باہر چمکیجس طرف آئی وہ ناگن اسے ڈستے دیکھامینہ سروں کا صفِ دشمن میں برستے دیکھا
دھار ایسی کی رواں ہوتا ہے دھارا جیسےگھاٹ وہ گھاٹ کہ دریا کا کنارا جیسےچمک ایسی کہ حسینوں کا اشارا جیسےروشنی وہ کہ گرے ٹوٹ کے تارا جیسےکوندنا برق کا شمشیر کی ضو میں دیکھاکبھی ایسا نہیں دم خم مہ نو میں دیکھا
اک اشارے میں، برابر کوئی دو تھا کوئی چارنہ پیادہ کوئی بچتا تھا سلامت نہ سواربرق گرتی تھی کہ چلتی تھی صفوں پر تلوارغضب اللہ علیہم کے عیاں تھے آثارموت ہر غول کو برباد کیے جاتی تھیآگ گھیرے ہوئے دوزخ میں لیے جاتی تھی
تیغیں آری ہوئی ڈھالوں کے اڑے پرکالےبند سب بھول گئے خوف سے نیزوں والےجو بڑھے ہاتھ سرِ دست قلم کر ڈالےتیغ کہتی تھی، یہ سب ہیں مرے دیکھے بھالےصف بہ صف باندھ کے نیزوں کو عبث تولے ہیںایسے عقدے مرے ناخن نے بہت کھولے ہیں
جب کبھی جائزۂِ فوج ستم لیتی ہوںموت سے رحم نہ کرنے کی قسم لیتی ہوںدو زبانوں سے سدا کارِ قلم لیتی ہوںچہرے کٹ چکتے ہیں، لشکر کے تو دم لیتی ہوںہر طرف ہو کے، عدم کے سفری ہوتے ہیںطبقلیں کٹتی ہیں، چہرے نظری ہوتے ہیں
وہ برش وہ چمک اس کی وہ صفائی اس کیکسی تلوار نے تیزی نہیں پائی اس کیاس کا بازو جو اڑایا، تو کلائی اس کیمل گئی جس کے گلے سے اجل آئی اس کیصورتِ مرگ کسی نے بھی نہ آتے دیکھاسر پہ چمکی تو کمر سے اسے جاتے دیکھا
کبھی ڈھالوں پہ گری اور کبھی تلواروں پرپیدلوں پر کبھی آئی کبھی اسواروں پرکبھی ترکش پہ رکھا منہ، کبھی سوفاروں پرکبھی سر کاٹ کے آ پہنچی کمانداروں پرگر کے اس غول سے اٹھی تو اس انبوہ میں تھیکبھی دریا میں، کبھی بر میں، کبھی کوہ میں تھی
کبھی چہرہ کبھی شانہ، کبھی پیکر کاٹاکبھی در آئی جگر میں، تو کبھی سر کاٹاکبھی مغفر، کبھی جوشن، کبھی بکتر کاٹاطول میں راکب و مرکب کا برابر کاٹابرشِ تیغ کا غسل، قاف سے تا قاف رہاپی گئی خون ہزاروں کا، پہ منہ صاف رہا
نہ رکی خود پہ وہ، اور نہ سر پر ٹھہرینہ کسی تیغ پہ دم بھر، نہ سپر پر ٹھہرینہ جبیں پر نہ گلے پر، نہ جگر پر ٹھہریکاٹ کر زین کو، گھوڑے کی کمر پر ٹھہریجان گھبرا کے تنِ دشمنِ دیں سے نکلیہاتھ بھر ڈوب کے تلوار، زمیں سے نکلی
کٹ گئی، تیغ تلے جب صفِ دشمن آئییک بیک فصلِ فراقِ سر و گردن آئیبگڑی اس طرح لڑائی کہ نہ کچھ بن آئیتیغ کیا آئی کہ اڑتی ہوئی ناگن آئیغل تھا بھاگو کہ یہ ہنگام ٹھہرنے کا نہیںزہر اس کا جو چڑھے گا تو اترنے کا نہیں
وہ چمک اس کی، سروں کا وہ برسنا، ہرسوگھاٹ سے تیغ کے، اک حشر بپا تھا لبِ جوآب میں صورت آتش تھی، جلا دینے کی خواور دم بڑھتا تھا، پیتی تھی جو اعدا کا لہوکبھی جوشن، تو کبھی صدرِ کشادہ کاٹاجب چلی ضربتِ سابق سے زیادہ کاٹا
تنِ تنہا شۂ دیں لاکھ سواروں سے لڑےبے سپر برچھیوں والوں کی قطاروں سے لڑےصورتِ شیر خدا، ظلم شعاروں سے لڑےدو سے اک لڑ نہیں سکتا، یہ ہزاروں سے لڑےگر ہو غالب، تو ہزاروں پہ وہی غالب ہوجو دل و جانِ علیؔ ابن ابی طالبؔ ہو
تیسرے فاقے میں یہ جنگ، یہ حملے یہ جدالپیاس وہ پیاس کہ نیلم تھے سراسرلب لعلدھوپ وہ دھوپ کہ سوکھے ہوئے تھے تازہ نہاللُو وہ لُو جس کی حرارت سے پگھلتے تھے جبالسنگ ریزوں میں، تب و تاب تھی انگاروں کیسر پہ یا دھوپ تھی، یا چھاؤں تھی تلواروں کی
شیر سے تھے کبھی جنگل میں، ترائی میں کبھیڈھال کو چہرے پہ روکا نہ لڑائی میں کبھیتیغ حیدر نے کمی کی نہ صفائی میں کبھیفرق آیا نہ سر و تن کی جدائی میں کبھیکبھی ابرو کا بھی ایسا نہ اشارا دیکھاجس پہ اک وار کیا اس کو دوبارا دیکھا
آنکھ وہ آنکھ کہ شیروں کی جلالت جس میںرخش وہ رخش، کہ سب برق کی سرعت جس میںتیغ وہ تیغ، عیاں موت کی صورت جس میںہاتھ وہ ہاتھ، ید اللہ کی طاقت جس میںروک لے دار، جگر کیا کسی بے پیر کا ہےزور وہ، جس میں اثر فاطمہؔ کے شیر کا ہے
جنگ میں پیاس کا صدمہ شۂ دیں سے پوچھوتنِ تنہا کی وغا، لشکرِ کیں سے پوچھازلزلہ دشت پر آفت کا، زمیں سے پوچھوضربِ شمشیر دو سر، روحِ امیں سے پوچھوباپ اس فوج میں تنہا، پسر اس لشکر میںکربلا میں یہ تلاطم ہوا، یا خیبر میں
اسد اللہ کے صدقے، شہ والا کے نثاروہی حملے تھے، وہی زور، وہی تھی تلوارفتحِ حیدر نے کیا جنگ میں خیبر کا حصارمورچے فوج کے، حضرت نے بھی توڑے کئی بارکیوں نہ ہو احمدِ مرسل کے نواسے تھے حسینؔفرق اتنا تھا کہ دو روز کے پیاسے تھے حسینؔ
ہر طرف فوج میں غل تھا کہ دہای مولا!ہم نے دیکھی ترے ہاتھوں کی صفائی مولا!الاماں خوب سزا جنگ کی پائی مولا!آپ کرتے ہیں بروں سے بھی بھلائی مولا!ہاتھ ہم باندھتے ہیں پھینک کے شمشیروں کوبخشیے امتِ نا اہل کی تقصیروں کو
آتی ہاتف کی یہ آواز کہ اے عرشِ مقامیہ وغا تیسرے فاقے میں، بشر کا نہیں کاماے محمدؔ کے جگر بند، امام ابنِ اماملوحِ محفوظ پہ مرقوم ہے، صابر ترا ناماب نہیں حکم لعینوں سے وغا کرنے کاہاں! یہی وقت ہے وعدے کے وفا کرنے کا
آج ہے آٹھوں بہشتوں کی نئی تیارینخل سرسبز ہیں فردوس میں نہریں جاریشب سے حوریں ہیں مکلل بجواہر ساریخانۂ دوست میں ہے، دوست کی مہانداریپیشوائی کو رسول الثقلین آتے ہیںعرش تک شور یہی ہے کہ حسینؔ آتے ہیں
تھم گئے سن کے یہ آواز شۂ جن و بشرروک کر تیغ کو فرمایا کہ حاضر ہے یہ سرعید ہو جلد اگر ذبح کریں بانیِ شرشمرِؔ اظلم ہے کدھر؟ کھینچ کے آئے خنجرہے وہ عاشق جو فدا ہونے کو موجود رہےبس مری فتح یہی ہے کہ وہ خوشنود رہے
کہہ کے یہ میان میں مولا نے رکھی تیغِ دو دمہاتھ اٹھا کر یہ اشارہ کیا گھوڑے کو کہ تھمرہ گیا سر کو جھکا کر فرسِ تیز قدمچار جانب سے مسافر پہ چلے تیرِ ستمنیزے یوں گرد تھے جسے گلِ تر خاروں میںگھر گئے سبطِ نبی، ظلم کی تلواروں میں
پہلے تیروں سے کمانداروں نے چھاتی چھانینیزے پہلو پہ لگاتے تھے ستم کے بانیسر پہ تلواریں چلیں، زخمی ہوئی پیشانیخوں سے تر ہو گیا حضرت کا رخِ نورانیجسم سب چور تھا، پرزے تھے زرہ جامے کےپیچ کٹ کٹ کے کھلے جاتے تھے عمامے کے
برچھیاں مارتے تھے، گھاٹ پہ جو تھے پہرےکس طرف جائے، کہاں تیغوں میں بیکس ٹھہرےایک ہزار اور کوئی سو زخم تھے تن پر گہرےدیکھنے والوں کے ہو جاتے تھے، پانی زہرےخوں میں ڈوبا ہوا وہ مصحفِ رخ سارا تھاجزو ہر اک تن شبیر کا سی پارا تھا
ہاتھ سے باگ جدا تھی، تو رکابوں سے قدمغش میں سیدھے کبھی ہوتے تھے فرس پر کبھی خمبہتے تھے پہلوؤں سے، خوں کے دڑیڑے پیہمکوئی بیکس کا مددگار نہ تھا ہائے ستممارے تلواروں کے مہلت تھی نہ دم لینے کیکوششیں ہوتی تھیں کعبے کے گرادینے کی
دشت سے آتی تھی زہراؔ کی صدا ہائے حسینؔمیرے بیکس، میرے بے بس، مرے دکھ پائے حسینؔدر سے چلاتی تھی زینبؔ مرے ماں جائے حسینؔکون تیغوں سے بچا کر تجھے لے آئے حسینؔفاطمہؔ رو رہی ہیں، ہاتھوں سے پہلو تھامےحکم گر ہو تو بہن دوڑ کے بازو تھامے
ہائے سیدا ترا تن اور ستم کے بھالےکس کو چلاؤں کہ جیتے نہیں مرنے والےاس پہ یہ ظلم دکھوں سے جسے زہراؔ پالےکون سر سے ترے تلواروں کی آفت ٹالےکون فریاد سنے بے سر و سامانوں کییاں تو بستی بھی نہیں کوئی مسلمانوں کی
نہ رہا جب کہ ٹھہرنے کا فرس پر یاراگرپڑا خاک پہ، وہ عرش خدا کا تاراغش سے کچھ دیر میں چونکا جو علیؔ کا پیارانیزہ سینے پہ، سناں ابنِ انس نے ماراواں تو نیزے کی انی پشت سے باہر نکلییاں بہن خیمے کی ڈیوڑھی سے کھلے سر نکلی
کھینچ کر سینے سے نیزہ جو ہٹا دشمنِ دیںجھک کے حضرت نے رکھی خاک پہ سجدے میں جبیںتیز کرتا ہوا خنجر کو بڑھا شمر لعیںآسماں ہل گئے تھرا گئی مقتل کی زمیںکیا کہوں تیغ کو کس طرح گلے پر رکھاپاؤں قرآں پہ رکھا، حلق پہ خنجر رکھا
ڈھانپ کر ہاتھوں سے منہ بنتِ علی چلائیذبح ہوتے ہو مرے سامنے ہے ہے بھائیضربِ اول تھی کہ تکبیر کی آواز آئیگر پڑی خاک پہ غش کھا کے علی کی جائیآنکھ کھولی تھی کہ ہنگامۂ محشر دیکھاسر اٹھایا تو سرِ شہ کو سناں پر دیکھا
رو کے چلائی کہ ہے ہے ہمرے مظلوم حسینؔفوجِ اعدا میں، ترے قتل کی ہے دھوم حسینؔکچھ مجھے آنکھوں سے ہوتا نہیں معلوم حسینؔہائے میں رہ گئی دیدار سے محروم حسینؔمڑ کے دیکھو کہ مصیبت میں پڑی ہوں بھائیننگے سر بلوۂ اعدا میں کھڑی ہوں بھائی
بس انیسؔ آگے نہ لکھ زینبِ ناشاد کے بینقتل ہو جانے پہ بھی دھوپ میں تھی لاشِ حسینؔقبر میں بھی نہ ملا احمدِؔ مختار کو چینگھر جلا، قید ہوئی، آلِ رسول الثقلینکتنے گھر شاہ کے مر جانے سے برباد ہوئےلٹ گئے یوں کہ نہ سادات پھر آباد ہوئے
۸۸ / ۹۰