نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
لہر وہ سبز پھریرے کی، وہ پنجے کی چمکشرم سے ابر میں چھپ جاتا تھا خورشید فلککہتے تھے صلِ علیٰ چرخ پہ اٹھ اٹھ کے ملکدنگ تھے سب وہ سماں سے تھا سماں تا بہ فلککہیے پستی اسے جو اوج ہما نے دیکھاوہ سماں پھر نہ کبھی ارض و سما نے دیکھا
About this couplet
This is couplet 27 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۷ / ۱۰۲