نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

اک طرف اکبرِ مہرو سا جوانِ نایابکچھ جو بچپن تھا تو کچھ آمدِ ایام شبابروشنی چہرے پہ ایسی کہ خجل ہو مہتابآنکھیں ایسی کہ رہا، نرگسِ شہلا کو حجابجس نے ان گیسوؤں میں رخ کی ضیا کو دیکھاشبِ معراج میں، محبوبِ خدا کو دیکھا

About this couplet

This is couplet 32 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۲ / ۱۰۲