نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
شور میدانیوں میں تھا، کہ دلیرو نکلو!نیزہ بازی کرو، رہواروں کو پھیرو نکلو!نہر قابو میں ہے، اب پیاسوں کو گھیرو نکلو!غازیو! صف سے بڑھو غول سے شیرو نکلو!رستمو! دادِ وغا دو، کہ یہ دن داد کا ہےسامنا حیدر کرار کی اولاد کا ہے
About this couplet
This is couplet 37 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۷ / ۱۰۲