نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
عرض عباسؔ نے کی جوش ہے جراروں کوتیر سب کھاتے ہیں، تولے ہوئے تلواروں کومیہمانوں کا نہیں پاس، ستمگاروں کومصلحت ہو تو رضا دیجیے، غمخواروں کورو سیاہوں کو مٹا دیں کہ بڑھے آتے ہیںہم جو خاموش ہیں وہ منہ پہ چڑھے آتے ہیں
About this couplet
This is couplet 41 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۱ / ۱۰۲