نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
سن کے ان باتوں کا اعدا نے دیا جو کہ جوابگر لکھوں اس کو تو ہو جائے جگر سنگ کا آبقلب تھرا گیا ہر گز نہ رہی ضبط کی تابدیکھ کر رہ گئے گردوں کو، شۂ عرش جناباشک خالی اسے کرتے ہیں جو دل بھر آئےآپ رونے کے لیے خیمے کے در پر آئے
About this couplet
This is couplet 56 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۶ / ۱۰۲