نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
کیوں نہ ہو بندۂ موروثیٔ مولا ہوں میںقلزم رحمت معبود کا قطرہ ہوں میںجس میں لاکھوں در و مرجاں ہیں وہ دریا ہوں میںمدح خوانِ پسرِ حضرتِ زہرا ہوں میںوصف جوہر کا کروں یا صفت ذات کروںاپنے رتبے پہ نہ کیوں آپ مباہات کروں
About this couplet
This is couplet 7 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷ / ۱۰۲