نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

کبھی ڈھالوں پہ گری اور کبھی تلواروں پرپیدلوں پر کبھی آئی کبھی اسواروں پرکبھی ترکش پہ رکھا منہ، کبھی سوفاروں پرکبھی سر کاٹ کے آ پہنچی کمانداروں پرگر کے اس غول سے اٹھی تو اس انبوہ میں تھیکبھی دریا میں، کبھی بر میں، کبھی کوہ میں تھی

About this couplet

This is couplet 77 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۷ / ۱۰۲