نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
نہ رکی خود پہ وہ، اور نہ سر پر ٹھہرینہ کسی تیغ پہ دم بھر، نہ سپر پر ٹھہرینہ جبیں پر نہ گلے پر، نہ جگر پر ٹھہریکاٹ کر زین کو، گھوڑے کی کمر پر ٹھہریجان گھبرا کے تنِ دشمنِ دیں سے نکلیہاتھ بھر ڈوب کے تلوار، زمیں سے نکلی
About this couplet
This is couplet 79 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۹ / ۱۰۲