نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
شیر سے تھے کبھی جنگل میں، ترائی میں کبھیڈھال کو چہرے پہ روکا نہ لڑائی میں کبھیتیغ حیدر نے کمی کی نہ صفائی میں کبھیفرق آیا نہ سر و تن کی جدائی میں کبھیکبھی ابرو کا بھی ایسا نہ اشارا دیکھاجس پہ اک وار کیا اس کو دوبارا دیکھا
About this couplet
This is couplet 84 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۴ / ۱۰۲