نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

وہ مرقع ہو کہ دیکھیں اسے گر اہل شعورہر ورق میں کہیں سایہ نظر آئے کہیں نورغل ہو یہ ہے کششِ مو قلم طرۂ حورصاف ہر رنگ سے ہو صنعت صانع کا ظہورکوئی ناظر جو یہ نایاب نظیریں سمجھےنقشِ ارژنگ کو کاواک لکیریں سمجھے

About this couplet

This is couplet 9 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹ / ۱۰۲