کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے
ٹکڑے پڑے تھے خاک پہ بھالے اِدھر اُدھرچھپتے تھے ڈر کے برچھیوں والے اِدھر اُدھرپیشِ نظر تھے خون کے تھالے اِدھر اُدھرابتر تھے دشتِ کیں میں رسالے اِدھر اُدھرملتا تھا فصل کا نہ ٹھکانا نہ باب کاشیرازہ کھل گیا تھا ستم کی کتاب کا
About this couplet
This is couplet 109 of 149 in “کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۰۹ / ۱۴۹