کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر

کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

۱

کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئےلاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئےامت کی مغفرت کا سر انجام کر گئےفیض اپنا مثلِ ابر کرم عام کر گئےپڑھتے ہیں سب درود جو ذکر ان کے ہوتے ہیںایسے بشر وہ تھے کہ ملک جن کو روتے ہیں

۲

دیندار و سرفروش و شجاع و خوش اعتقادہاتھوں میں تیغیں اور دلوں میں خدا کی یادزخموں کو نخلِ قد پہ وہ سمجھے گلِ مرادمرادنگی یہ پیاس میں فاقوں میں یہ جہادتیغوں سے بند کون سا ان کا کٹا نہ تھاپر معرکے سے پاؤں کسی کا ہٹا نہ تھا

۳

برسوں رہے گا چرخ میں، گر آسمانِ پیرلیکن نظر نہ آئے گا ان کا کہیں نظیرگورے نہ ان کے پاؤں، نہ روئے مہِ منیرخورشید جن کے سامنے اک ذرۂ حقیرپرخوں قبائیں جسم میں، سینے تنے ہوئےپہنچے ریاضِ خلد میں دولہا بنے ہوئے

۴

رستم اٹھا نہ سکتا تھا سر ان کے سامنےشیروں کے کانپتے تھے جگر ان کے سامنےپھیکی تھی روشنیِٔ قمر ان کے سامنےاڑتا تھا رنگ روئے سحر، ان کے سامنےبخشا تھا نور، حق نے ہر اک خوش صفات کوہوتا تھا دن، جو گھر سے نکلتے تھے رات کو

۵

پیشانیوں پہ جلوہ نما اختر سجوددیکھیں جو ان کا نور تو قدسی پڑھیں درودرخ سے عیاں جلال و جوانمردی و نمودشیدائے آل، شیفتۂ واجب الوجودجینے کی شاہ دیں کو دعا دے کے مر گئےایماں کے آئینہ کو جِلا دے کے مر گئے

۶

تاثیر کر گئی تھی انہیں صحبتِ امامتھا نزع میں بھی خشک لبوں پہ خدا کا ناملبریز تھے محبت حیدرؔ سے دل کے جامذی قدر، ذی شعور، دلاور خجستہ کاملشکر جو ان پہ ٹوٹ پڑے شام و روم کےتلواریں کھائیں جسم پہ کیا جھوم جھوم کے

۷

لاکھوں میں انتخاب ہزاروں میں لا جوابتھا خشک و تر پہ جن کا کرم صورتِ سحابوہ نور، وہ جلال، وہ رونق، وہ آب و تابزہراؔ کے گھر کے چاند، زمانے کے آفتاببس یک بہ یک جہاں میں اندھیرا سا چھا گیادن بھی ڈھلا نہ تھا کہ زوال ان پہ آ گیا

۸

گل ہو گئے عقیلؔ کی تربت کے جب چراغجعفر کے لاڈلوں نے دیئے شہ کے دل کو داغماتم سے بھانجوں کے ہوا تھا نہ انفراغپامال ہو گیا، حسنِؔ مجتبیٰ کا باغلاشے اٹھائے جنگ کرے یا بکا کرےجس پر گریں یہ کوہ مصیبت وہ کیا کرے

۹

صدمہ یہ تھا کہ لٹنے لگی دولتِ پدرنکلے نبرد کو اسد اللہ کے پسرمارے گئے جہاد میں جس دم وہ شیر نررخصت ہوئے حسینؔ سے عباسِؔ نام ورددریا بہے لہو کے بڑا کشت و خوں ہواڈھلتی تھی دوپہر کہ علم سر نگوں ہوا

۱۰

پیری میں قہر ہے، خبر مرگ نوجواںریتی پہ تھر تھرا کے گرے شاہِ انس و جاںنکلیں سروں کو پیٹتی، خیمے سے بیبیاںتھا خانۂ علی میں تلاطم کہ الا ماںیوں گھر الٹ پلٹ تھا امامِ حجاز کاجس طرح ٹوٹ جاتا ہے لنگر جہاز کا

۱۱

غل تھا کہ خوں میں بھر گیا سقائے اہل بیتدنیا سے کوچ کر گیا، سقائے اہل بیتہم لٹ گئے گذر گیا سقائے اہل بیتفریاد ہے کہ مر گیا، سقائے اہل بیتہے ہے کہاں سے اپنے بہشتی کو لائیں گےسوکھی زبان، اب کسے بچے دکھائیں گے

۱۲

ہلتا تھا خیمہ روتے تھے یوں اہل بیت شاہصدمے سے حالِ زوجۂ عباسؔ تھا تباہچلاتی تھی کہ نہر کی مجھ کو بتاؤ راہلوٹی گئی میں دشت پُر آفت میں آہ آہخم تھے گرا تھا کوہِ مصیبت حسینؔ پرماتم تھا بیبیوں میں سکینہؔ کے بین پر

۱۳

ماتم ادھر تھا، جشن میں تھے اہل شر اُدھربجتے تھے شادیانۂ فتح و ظفر اُدھرانعام بانٹتا تھا ہر اک کو عمر ادھرروتے تھے دیکھ دیکھ کے حضرت اِدھر اُدھرغل تھا کہ بس حسینؔ بہت روئے بھائی کوکوئی جواں ہو اور تو بھیجو لڑائی کو

۱۴

باقی نہیں کوئی تو وِغا کو خود آیئےحیدرؔ کی ذوالفقار کے جوہر دکھایئےزخمِ سنان و خنجر و شمشیر کھایئےگرمی بڑی ہے آج لہو میں نہایئےآمادہ ہم تو دیر سے بہرِ ستیز ہیںتیغیں بھی ہیں اُپی ہوئی خنجر بھی تیز ہیں

۱۵

کاٹے ہیں جس نے بازوئے لخت دلِ امیرہے خوب آبدار، وہ شمشیرِ بے نظیرچھیدا ہے جس سے مشک کو موجود ہے وہ تیرہر گرز وہ ہے، ضرب سے جس کی ہوئے اخیرتڑپے تھے جس سے مشک کو دانتوں سے چھوڑ کربرچھی یہ ہے جو نکلی تھی پہلو کو توڑ کر

۱۶

صابر بڑے ہیں آپ تو یا شاہِ انس و جاںاک بھائی کے فراق میں یہ نالہ و فغاںرونے سے جی اٹھیں گے نہ عباسِ نوجواںحضرت پکارتے ہیں کسے، بھائی اب کہاںملتا ہے کب جہاں میں بھلا جو گزر گیااب فکر اپنی کیجئے وہ شیر مر گیا

۱۷

اکبر نے کی غضب کی نظر سوئے فوج شامکانپے یہ غیظ سے کہ اگلنے لگی حسامکی عرض ہاتھ جوڑ کے اے قبلۂ انامسنتے ہیں آپ لشکرِ اعدا کا یہ کلامخوں تن میں جوش کھاتا ہے ہنگام جنگ ہےمولا بس اب تو حوصلۂ صبر تنگ ہے

۱۸

ان کے کلام سننے کی کس کے جگر میں ہے تابخادم زبانِ تیغ سے دے گا انہیں جوابکیا اپنے دل میں سمجھے ہیں، یہ خانماں خرابنعرہ کروں تو شیر کا زہرہ ہو آب آبآداب شاہ سے نہیں ہم بول سکتے ہیںزخمِ جگر پہ اب تو نمک یہ چھڑکتے ہیں

۱۹

ہم کو یہ طعن و طنز کی باتیں نہیں پسندکوفے میں لیں گے دم جو اٹھائیں گے پھر سمندہونٹوں پہ غم سے اب ہے، یہاں جانِ دردمندکاٹیں تبر سے، تیغ سے خنجر سے بند بندہنس ہنس کے جسم پر، تبر و تیر کھائیں گےتیغِ زباں کے زخم اٹھائے نہ جائیں گے

۲۰

گھبرا کے دیکھنے لگے بیٹے کے منہ کو شاہفرمایا خیر کہہ لیں جو کہتے ہیں روسیاہکیوں کانپتے ہو غیظ سے، اے میرے رشک ماہلازم ہے صبر و شکر کہ راضی رہے الٰہغصہ اسی طرح اگر آئے گا آپ کوخنجر کے نیچے دیکھو گے کس طرح باپ کو

۲۱

برہم نہ ہو تمہیں، سر شبیرؔ کی قسملو گھر میں جاؤ خیر سمجھ لیں گے ان سے ہمدیکھو ہمیں کہ بھائی کے بازو ہوئے قلمتلوار، دل پہ چل گئی، مارا نہ ہم نے دمسب جل کے خاک ہوں جو ابھی بد دعا کروںپر امت نبی ہے، بجز صبر کیا کروں

۲۲

یہ سن کے زرد ہو گئے ہم شکلِ مصطفیرو کر کہا یہ کرتے ہیں ارشاد آپ کاوہ وقت، وہ گھڑی، نہ دکھائے ہمیں خدابابا نہ ہو تو بیٹے کے جینے کا کیا مزہآمادۂ فنا ہیں، خوشی دل سے فوت ہےپھر خضرؔ کی حیات ملے گر تو موت ہے

۲۳

کیا پہلے سر کٹایئے گا یا شہِ زماںکس اشتیاق سے شہ دیں نے کہا کہ ہاںآگے جو کچھ رضائے خدا، اے پدر کی جاںجیتے ہیں پیر، سامنے مرتے ہیں نوجواںدیکھو کہ چھوٹے بھائی کے ماتم میں روتے ہیںپالا تھا جن کو ہم نے وہ دریا پہ سوتے ہیں

۲۴

یہ کہہ کے اٹھ کھڑے ہوئے سلطانِ بحر و برپٹکے سے باندھنے لگے، ٹوئی ہوئی کمرقدموں یہ گر پڑے، علیؔ اکبر بہ چشمِ ترکی عرض رحم کیجئے، مر جائے گا پسرآگے مرے جو ہو گی شہادت امام کیدنیا میں آبرو نہ رہے گی غلام کی

۲۵

چھوٹے تھے جو کہ سِن میں بڑے کر گئے وہ کامیا شاہ کیا لڑائی کے قابل نہیں غلامعمو کے خوں کا لیں گے لعینوں سے انتقامہم نے بھی تیغ باندھی ہے بچپن سے یا امامعزت ملی ہے خلق میں صدقے سے آپ کےبیٹا وہی جو رنج میں کام آئے باپ کے

۲۶

انصاف آپ کیجئے یا سرورِ عرببیٹا تو گھر میں بیٹھے، لڑے باپ تشنہ لبمارا گیا نہ آج، تو کل یہ کہیں گے سبکیسا لہو سفید ہے، دنیا کا ہے غضبسر کو کٹا کے باپ جہاں سے گزر گیابیٹا جوان، باپ کے آگے نہ مر گیا

۲۷

بہرِ رسول رن کی رضا دیجئے مجےصدقہ علی کا، اذن وغا دیجئے مجھےمرتا ہوں یا امام، جلا دیجئے مجھےیادِ خدا میں دل سے بھلا دیجئے مجھےکھولیں کمر، حضور تو دل کو قرار ہوکہہ دیجئے کہ جا! علیؔ اکبر نثار ہو

۲۸

شہ نے کہا تمہیں مرے دل کی نہیں خبرپیارے کہاں سے لاؤں میں اس طرح کا جگرہے باپ کو عصائے ضعیفی، جواں پسرجب تم نہ ہو گے پاس تو مر جائے گا پدرایسے ہنسے نہ تھے کہ ہمیں تم رلاتے ہوشادی کے دن جو آئے، تو مرنے کو جاتے ہیں

۲۹

راتیں یہ عیش کی ہیں مرادوں کے ہیں یہ دنپورے جواں نہیں، ابھی کیا ہے تمہارا سِناکبرؔ تری جوانی پہ روئیں گے انس و جنکیوں کر قرار آئے گا ماں کو تمہارے بنکیسی ہوا چلی، چمن روزگار میںسید کا باغ لٹتا ہے فصلِ بہار میں

۳۰

دیتا اگر تمہیں کوئی فرزند زوالجلالہوتی پدر کی قدر سمجھتے ہمارا حالرخصت کا آپ سے یوں ہی کرتا وہ جب سوالتب جانتے کہ دیتے اسے رخصتِ جدالکیا جانے وہ مزاج سے اس کا ملا نہیںاچھا سدھارو تم سے ہمیں کچھ گلا نہیں

۳۱

تسلیم کر کے بولے علیؔ اکبرِ غیورلاکھوں برس جہاں میں سلامت رہیں حضورفرمایا شہ نے خیر اجل بھی نہیں ہے دوربرچھی لگا کے دل پہ خوشامد یہ کیا ضرورتقریر میں پدر کو نہ اب بند کیجیےخیمے میں جا کے ماں کو رضامند کیجیے

۳۲

ہیں مبتلائے رنج بھلا کیا ہمارا پیارتم سے جو پسر ہوں تو اس راہ میں نثارہر دم خدا سے خیر کا ہوں میں امیدوارہاں ماں نہ جانے دے تو مرا کیا ہے اختیارسینے میں دل ہلے گا بدن تھرتھرائے گارخصت کا نام سنتے ہی غش اس کو آئے گا

۳۳

سب جانتے ہیں جو ہے پھوپھی کو تمہاری چاہمعلوم ہو گا جاؤ گے جب سوئے خیمہ گاہباہیں گلے میں ڈالے گی زینبؔ بہ اشک و آہقدموں پہ گر کے آپ کی ماں ہوگی سَدِ راہیہ مرحلہ بھی کم نہیں زنجیر و طوق سےدونوں رضا جو دیں تو چلے جاؤ شوق سے

۳۴

روتے ہوئے چلے علیؔ اکبر سوئے خیامکانپا یہ دل کہ بیٹھ گئے خاک پر امامروتا ہوا جو ڈیوڑھی سے آیا وہ نیک نامدوڑی پسر کو دیکھ کے بانوئے تشنہ کامدامن سے آ کے بالی سکینہؔ چمٹ گئیزینبؔ بلائیں لے کے گلے سے لپٹ گئی

۳۵

ماں گرد پھر کے بولی کہ اے میرے گلعذارتم صبح سے گئے تھے اب آئے یہ ماں نثاردر پر تڑپ تڑپ کے میں جاتی تھی بار بارکھولو بس اب کمر کہ مرا دل ہے بے قرارگرمی یہ اور قحط کئی دن سے آب کارخ تمتما گیا ہے مرے آفتاب کا

۳۶

تر ہے قبا پسینے میں پنکھا کوئی بلاؤسونلا گئے ہو دھوپ میں، واری ہوا میں آؤجھاڑوں ردا سے گرد میں، زلفوں کی، بیٹھ جاؤگھٹ جائے گا لہو مرا آنسو نہ تم بہاؤصدمہ جو دل پہ ہو اسے کچھ منہ سے کہتے ہیںکیا ہے جو اشک نرگسی آنکھوں سے بہتے ہیں

۳۷

صغراؔ کی تو وطن سے کچھ آئی نہیں خبرجلدی کہو کہ منھ سے نکلتا ہے اب جگراکبرؔ نے عرض کی کہ ہیں سب خیر سے مگرلٹتا ہے کوئی آن میں خیر النسا کا گھرملتی نہیں رضا ہمیں آنسو بہاتے ہیںبابا گلا کٹانے کو میداں میں جاتے ہیں

۳۸

اس وقت کس سے دردِ دل اپنا کہوں میں آہتم بھی ہو سدّ راہ پھوپھی بھی ہیں سدّ راہچھائی ہے واں گھٹا کی طرح شام کی سپاہاماں مدد کرو کہ کمر باندھتے ہیں شاہاب زندگی ہے تلخ بہت دق ہیں جان سےالفت نے آپ کی ہمیں کھویا جہان سے

۳۹

دیتے نہیں رضا جو امامِ فلک اساسخاطر فقط یہ آپ کی ہے اور پھوپھی کا پاساب غیرِ یاس کوئی نہیں ان کے آس پاسناطاقتی ہے ضعف ہے فاقہ ہے اور پیاسکیوں کر لڑیں گے وہ کہ سراپا ضعیف ہیںپیری ہے دل ضعیف ہے اعضا ضعیف ہیں

۴۰

عباس جب سے مر گئے روتے ہیں دم بہ دمرخ زرد ہے کماں کی طرح ہو گئے ہیں غمچلوں میں تیر جوڑے ہیں واں بانیٔ ستمقرباں ہوں کس طرح پسرِ خاطر فاطمہؔ پہ ہمسب روکتے ہیں رن کی طرف جائیں کس طرحماں کو پھوپھی کو بہنوں کو سمجھائیں کس طرح

۴۱

بابا کا حکم ہے کہ رضا جا کے ماں سے لاؤراضی پھوپھی ہوں جب تو لڑو اور زخم کھاؤمرضی ہے آپ کی کہ مرے پاس سے نہ جاؤیا فاطمہؔ تمہیں علیؔ اکبر کے کام آؤچلنے لگیں نہ تیر شہِ مشرقین پرنرغہ ہے ظالموں کا تمہارا حسینؔ پر

۴۲

دیکھی گئی نہ ماں سے یہ بیتابیِٔ پسروارث کی بے کسی پہ لگا کانپنے جگرہاتھوں سے دل کو تھام کے بولی وہ نوحہ گردولت پہ فاطمہؔ کی تصدق تمام گھرپہلے نہ کچھ کہا تھا نہ اب روکتی ہوں میںروتے ہو کس لیے تمہیں کب روکتی ہوں میں

۴۳

زہراؔ کے لال پر مرے مادر پدر نثارعابدؔ نثار اصغرِؔ تشنہ جگر نثارجانیں ہزار ہوں تو فدا لاکھ سر نثارقربان گھر، کنیز تصدق، پسر نثارکِسرائی گو کہ ہوں پہ بہو میں علیؔ کی ہوںمانگو گے جو وہ دوں گی کہ لونڈی سخی کی ہوں

۴۴

مجھ پر حوالہ کرتے ہیں گر شاہِ خوش خصالرخصت نہ تم کو دوں یہ بھلا ہے مری مجالصدقہ انہیں کا ہے کہ ملا تم سا نونہالرخصت کا صدقے جاؤں پھوپھی سے کرو سوالہم سب کنیزیں بنتِ امیر عرب کی ہیںاصغرؔ ہو یا کہ تم وہی مختار سب کی ہیں

۴۵

کہنے کو یوں ہیں چاہنے والے تمہارے سبلیکن ہے ان کے عشق سے نسبت کسی کو کبدن کو انہوں نے دن کبھی جانا نہ شب کو شبلیجے انہیں سے آپ کو جس شے کی ہے طلبمجھ سے نہ کچھ نہ سید عالی سے پوچھیےگر پوچھیے تو پالنے والی سے پوچھیے

۴۶

روتے ہوئے گئے علیؔ اکبر پھوپھی کے پاسدیکھا کہ غش پڑی ہے زمیں پر وہ حق شناسزانو پہ سر لیے ہوئے کبراؔ ہے بے حواساس حال میں بھی لب پہ یہی ہے کلام یاساب تاب و طاقت جسد و روح و دل گئیکیوں صاحبو! رضا علیؔ اکبر کو مل گئی

۴۷

اکبرؔ سے مجھ کو یہ نہ توقع تھی ہے غضباتنا نہیں خیال کہ ہے کون جاں بہ لباس گُل نے ہائے میری ریاضت بھلائی سبنامِ خدا جواں ہوئے کیا ہم سے کام ابہیں محو رن کے شوق میں رخصت کے دھیان میںسچ ہے کسی کا کون ہوا ہے جہان میں

۴۸

یا بے ہمارے چین نہ آتا تھا کوئی دممالک اب اور ہو گئے کوئی ہوئے نہ ہمکیا دخل تھا جو ڈیوڑھی سے باہر رکھیں قدمہے ہے وہ میرا دردِ مصیبت وہ رنج و غمجاگی ہوں میں جو چونک کے راتوں کو روئے ہیںپوچھو تو کس کی چھاتی پہ بچپن میں سوئے ہیں

۴۹

کنگھی کسی کے ہاتھ کی بھاتی نہ تھی کبھیبے میرے لیٹے نیند انہیں آتی نہ تھی کبھیبے ان کی ماں کی قبر پہ جاتی نہ تھی کبھیروئیں پسر، پہ ان کو رلاتی نہ تھی کبھیمیرے سوا کسی کو کبھی جانتے نہ تھےجو تھی سو میں تھی ماں کو تو پہچانتے نہ تھے

۵۰

ہر چند دونوں تھے مرے فرزند خورد سالپر اِن کے آگے اُن کا مجھے کچھ نہ تھا خیالراتوں کو جب لپٹتے تھے مجھ سے وہ نونہالمیں کہتے تھی ہٹو علیؔ اکبر ہے میرا لالوہ دونوں مرنے والے تو پہلو میں ہوتے تھےپھیلا کے پاؤں یہ مری چھاتی پہ سوتے تھے

۵۱

چھوٹا تو ضد بھی کرتا تھا راتوں کو بارہاپرعونؔ کیا عقیلؔ تھا بخشے اسے خدادن رات تھی خوشامدِ ہم شکل مصطفاسینے پہ جب یہ سوئے تو اس نے یہی کیاآقا کے نور عین ہیں عالی مقام ہیںاماں یہ شاہزادے ہیں اور ہم غلام ہیں

۵۲

رہتے تھے پاس باپ کے وہ غیرتِ قمرالفت میں ان کی مجھ کو کچھ ان کی نہ تھی خبرقرآن پڑھنے بیٹھتی تھی جب دمِ سحرصورت پہ تھی انہیں کی تلاوت میں بھی نظرغافل نہ ان کے پیار سے میں ایک آن تھیقرآں تو رحل پر تھا حمائل میں جان تھی

۵۳

میں نے انہیں پہ صدقے کئے اپنے دونوں لالتسکین تھی کہ باقی ہے اکبر سا نونہالمانگے تو آگے مجھ سے بھلا رخصتِ جدالنکلوں گی ساتھ خیمے سے بکھرا کے سر کے بالکیا خوب جیتے جی مَرے جائیں گے مرنے کوتلوار باندھ لی ہے ہمیں ذبح کرنے کو

۵۴

بچپن میں تھا نہ ہم سے زیادہ کسی کا پیاراب کیا غرض گزر گئی وہ فصل وہ بہاربھیگیں مسیں نمود ہوا سبزۂ عذارمالک ہیں خود بھلا مرا اب کیا ہے اختیارثابت ہوا اِدھر سے اُدھر مرنے جائیں گےمیں مر بھی جاؤں گی تو وہ یاں تک نہ آئیں گے

۵۵

باہر سدھارے یا ابھی ہیں ماں سے کچھ کلامبھابی نے کیوں لیا تھا ابھی رو کے میرا نامسینے پہ منہ کو رکھ کے یہ بولا وہ لالہ فامآنکھیں تو آپ کھولیے حاضر ہے یہ غلامخادم جدا نہ تھا شہِ گردوں سریر سےکس جرم پہ حضور خفا ہیں حقیر سے

۵۶

کیا ہے قصور جس پہ یہ غصہ ہے یہ عتابکرتا ہوں بات میں کوئی بے مرضیِٔ جنابروتا ہوں اب کہ صبر کی مجھ کو نہیں ہے تابشکوہ یہ خاکسار کا اے بنتِ بوترابہر دکھ میں ہر بلا میں مددگار آپ ہیںپالا ہے مجھ کو مالک و مختار آپ ہیں

۵۷

پیدا ہوا تو آپ کی صحبت مجھے ملیکرتی ہے روح شکر وہ راحت مجھے ملییوسف کو کب ملی تھی جو دولت مجھے ملیرکھا عزیز آپ نے عزت مجھے ملیصدقہ ہے اس قدم کا جو سر تا فلک گیاکی مہر آفتاب نے، ذرہ چمک گیا

۵۸

مرضی نہ ہو تو رن کو بھی جائے نہ یہ غلامبندے ہیں ہم اطاعتِ مالک سے ہم کو کامتکرار کی مجال نہ اصرار کا مقاممرتے اگر تو اس میں بھی تھا آپ ہی کا نامروتی ہیں آپ کس لیے اچھا نہ جائیں گےپر یاد رکھیے منہ نہ کسی کو دکھائیں گے

۵۹

یہ کہہ کے جھک گیا جو قدم پر وہ ذی وقاربس ہو گئیں محبتِ قلبی سے بے قرارپھیلا کے دونوں ہاتھوں کو اٹھیں بحال زارشکوے کے بدلے منہ سے یہ نکلا کہ میں نثارامڈا یہ دل کہ چشم کے ساغر چھلک پڑےدیکھا جو آفتاب کو آنسو ٹپک پڑے

۶۰

لے کر بلایں بولیں کہ واری خفا نہ ہوصدقے ہے تم پہ جان ہماری خفا نہ ہوباتیں تھیں یہ تو پیار کی ساری خفا نہ ہوروتے ہو کیوں منگاؤ سواری خفا نہ ہوآئے بلا حسینؔ پہ جو اس کو رد کرواچھا سدھارو دکھ میں پدر کی مدد کرو

۶۱

الفت کے جوش میں تو یہ منہ سے کہا مگراٹھا یہ دل میں درد کہ تھرا گیا جگرکبراؔ کو روتے دیکھ کے بولی وہ نوحہ گرکیا ماجرا ہوا مجھے مطلق نہیں خبرمیں روکنے نہ پائی کہ وار ان کا چل گیاکیا میں نے کہہ دیا کہ کلیجہ نکل گیا

۶۲

کیا جا کے اب نہ آئے گا گھر میں یہ نونہالہے ہے مری کمائی پہ آ جائے گا زوالجس وقت سے شہید ہوئے رن میں دونوں لالبیہوش ہوں، حواس میں ہے میرے اختلالایسا ہے اضطراب کہ کچھ جس کی حد نہیںجو آپ میں نہ ہو سخن اس کا سند نہیں

۶۳

میں ہوش میں نہ تھی یہ قدم پر گرے تھے جبمیں بھی کہوں، یہ پاؤں پہ گرنے کا کیا سببلو مجھ پہ اب کھلا کہ یہ رخصت کی تھی طلباکبرؔ کو میں نے ہاتھ سے کھویا تھا ہے غضباِصلا خبر نہیں مرے دلبر نے کیا کہامیں نے جواب کیا دیا اکبرؔ نے کیا کہا

۶۴

کیا کہہ دیا تھا مرنے کو جائے یہ گل بدنراضی ہوئی تھی میں کہ خزاں ہو مرا چمنبیخود ہوں جب سے رن میں سدھارے شہِ زمنکہتی ہوں کچھ زباں سے نکلتا ہے کچھ سخناتنی خبر نہیں علیؔ اکبر کے پیار میںقابو میں ہے نہ دل نہ زباں اختیار میں

۶۵

زندوں میں ہوتی گر تو یہ کہتی کہ مرنے جائیںاس پیاس میں شہید ہوں فاقوں میں زخم کھائیںاٹھا رواں برس ہے دلھن تو مجھے دکھائیںپالا ہے منتوں سے، مُرادیں مری برآئیںمرتی ہوں اشتیاق میں سہرا تو دیکھ لوںسہرے کے نیچے چاند سا چہرا تو دیکھ لوں

۶۶

رخصت کے نام سے مرا پھٹتا ہے اب جگرایسا نہ ہو کہ بانوئے بے کس کو ہو خبرگر سن لیا تو دل میں کہے گی وہ نوحہ گرپیارا ہوا نہ بنتِ علیؔ کو مرا پسرسمجھیں تھیں کیا جو دی اسے رخصت جدال کیزینبؔ نے ہائے قدر نہ کی میرے لال کی

۶۷

سچ ہے کہ اس کی چاہ سے نسبت مجھے کہاںہوں لاکھ ان کی چاہنے والی وہ پھر ہے ماںآنکھوں کا نور قلب کی طاقت بدن کی جاںآنچ آتما کی ہے وہ قیامت کہ، الاماںکیا سوچتے ہو صاحبو کچھ تم کو خیر ہےماں ہے تو ماں ہے خلق میں پھر غیر غیر ہے

۶۸

ماں کی نہ کم توجہی اور نہ کسی کا پیارغصہ ہو، یا کہ سخت کہے دل میں ہے نثاربلبل فدا ہے گل پہ، شکایت کرے ہزاردنیا میں عاشقوں کے دلوں کو کہاں قراردیں ماں کا ساتھ نامِ خدا اب جوان ہیںمیرا ہے جب یہ حال، پھر اس کی تو جان ہیں

۶۹

جس دم سنے یہ دُور سے بانو نے سب کلامآئی قریب حضرت زینب وہ نیک کامکی غرض ہاتھ جوڑ کے اے خواہر اماممیں ہوں کنیز آپ کی اور یہ پسر غلامکس کی مجال ہے جو کہے گا یہ کیا کیابی بی نے دی غلام کو رخصت، بجا کیا

۷۰

لونڈی ہے فاطمہ کی کنیزوں میں با وفاہو قطع وہ زباں جو کرے آپ کا گلاحضرت کو ان کے سر پہ سلامت رکھے خدامالک ہیں آپ اس میں کسی کو ہے دخل کیاکچھ جائے گفتگو ہے نہ ماں کو نہ باپ کوہے دخل اذن دینے نہ دینے کا آپ کو

۷۱

غم کھائیے نہ خونِ جگر آپ پیجئےعابدؔ کو بھیج دیجیے اصغرؔ کو بھیجئےہے اختیار دیجیے رخصت نہ دیجیےقربان جاؤں جو ہو مناسب وہ کیجیےشادی ہو یا کہ غم ہو شریکِ ثواب ہوںہر طرح سے میں تابع حکمِ جناب ہوں

۷۲

گھر میرا جب سے لٹ گیا اس گھر میں آئی ہوںشکوے کا کوئی حرف کبھی لب پہ لائی ہوںکسریٰ کی گو کہ پوتی ہوں سلطاں کی جائی ہوںلونڈی ہوں آپ کی علیؔ اکبر کی دائی ہوںصدقہ یہ آپ کا ہے جو شہ کو عزیز ہوںبھاوج نہ جانیے مجھے ادنیٰ کنیز ہوں

۷۳

آپ اس کی ماں ہیں آپ کا فرزند ہے یہ لالدخل اس معاملہ میں کوئی دے یہ کیا مجالیہ عازم جدال ہے اور آپ کا یہ حالقدموں کو چھوڑتا نہ کبھی یہ نکو خصالآپ اس کو چاہتی ہیں یہ صدقے ہے آپ پرپر کیا کرے کہ آج مصیبت ہے باپ پر

۷۴

قسمت بری ہے اس میں کسی کا قصور کیااچھا رہیں کہ جائیں ہمارا بھی ہے خداپروا ہماری ہے نہ خیال ان کو آپ کاتابع ہم آپ کے بھی ہیں ان پر بھی ہیں فداعابدؔ ہوں یا کہ یہ سبھی، آنکھوں کے تارے ہیںپر اب تو یہ نہ آپ کے ہیں، نہ ہمارے ہیں

۷۵

یہ سن کے کانپنے لگی زینبؔ جگر فگارآئی صدائے فاطمہؔ بیٹی یہ ماں نثاراللہ یہ محبتِ فرزند اور یہ پیارتنہا ستم کی فوج میں ہے میرا گل عذاررخصت نہ دے گی تو اگر اس نور عین کوکون اب بچائے گا مرے بیکس حسینؔ کو

۷۶

آواز سن کے کانپ گئی بنتِ مرتضابانوؔ کے منہ کو دیکھ کے اکبرؔ سے یہ کہاواری سدھارو خیر جو کچھ مرضیِٔ خداترکِ ادب ہے تم کو اگر اب نہ دوں رجایاں والدہ بہشت سے تشریف لائی ہیںبنتِ نبی تمہاری سفارش کو آئی ہیں

۷۷

تسلیم کرکے خیمے سے وہ سیم بر چلاپیچھے حرم کا قافلہ سب ننگے سر چلابانوؔ پکارتی تھی کہ پیارا پسر چلاچلاتی تھی پوپھی مرا لختِ جگر چلالٹتے ہیں اہلِ بیت دہائی امام کیتصویر گھر سے جاتی ہے خیر الانام کی

۷۸

بھائی کے غم سے عابدِ بیکس تھے بے قراراٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے بارباربہنیں پکارتی تھیں کہ بھیا ترے نثارسینوں کو پیٹتی تھیں خواصیں بہ حال زاراک حشر تھا جدا علیؔ اکبر جو ہوتے تھےجھولے میں پھوٹ پھوٹ کے اصغرؔ بھی روتے تھے

۷۹

ہلتا تھا خیمہ رانڈوں میں تھی، یہ دھڑا دھڑیآہوں کی بجلیاں تھیں تو اشکوں کی تھی جھڑیکوئی ادھر کو غش تھی کوئی تھی اُدھر پڑیآفت کا وقت تھا تو قیامت کی تھی گھڑیماتم تھا یہ حسینؔ کے تازہ جوان کاجاتا ہے گھر سے جیسے جنازہ جوان کا

۸۰

نکلا حرم سرا سے جو وہ نورِ حق کا نورخادم نے دی صدا کہ برآمد ہوئے حضورحضرت کھڑے تھے خیمے کی ڈیوڑھی سے کچھ جو دوردستِ ادب کو جوڑ کے بولا وہ ذی شعوررخصت ہوں اب جو حکم شہ نامدار ہورو کر کہا حسینؔ نے اچھا سوار ہو

۸۱

گھوڑے پہ شاہزادۂ عالم ہوا سوارگویا چلے جہاد کو محبوب کردگارتھا ثانیِٔ براق فلک سیر راہوارصرصر سے تند و تیز تو بجلی سے بے قراریوں سامنے سے وہ دمِ جولاں نکل گیاگویا ہوا پہ تختِ سلیماں نکل گیا

۸۲

حضرت تو یاں زمیں پہ گرے تھام کر جگرجاسوس نے یہ لشکر اعدا کو دی خبرآتا ہے اک جوانِ حسیں غیرت قمرچہرہ پہ اس کے نور محمد ہے جلوہ گرشان و شکوہ سب اسدِ کبریا کی کی ہےکہتے ہیں سب بشر نہیں قدرت خدا کی ہے

۸۳

ہے دھوم ذرے ذرے میں اس آفتاب کیخوشبو ہے زلف و جسم میں مشک و گلاب کیسر تا قدم ہے شان رسالت مآب کیتصویر ہے رسولِ خدا کے شباب کیگھوڑے کے گرد جن و ملک کا ہجوم ہےصلّو علی النبی کی بیاباں میں دھوم ہے

۸۴

روشن کیا ہے روئے منور نے راہ کورخ پر نہیں ٹھہرنے کا یارا نگاہ کوحیراں ہے عقل دیکھ کے زلفِ سیاہ کوآغوش میں لیے ہے شبِ قدر ماہ کوچہرے کے نور سے شبِ مہتاب ماند ہےخالق گوا ہ ہے کہ اندھیرے کا چاند ہے

۸۵

یہ ذکر تھا کہ نورِ خدا جلوہ گر ہواگویا رسولِ پاک کا رن میں گذر ہواچلائے اہلِ شام کہ طالع قمر ہواہنگامِ ظہر تھا پہ گمانِ سحر ہواجلوہ دکھایا برق تجلیِٔ طور نےخورشید کو چھپا دیا چہرے کے نور نے

۸۶

غش کھا گیا کوئی کوئی گر کر سنبھلا گیاصلِّ علیٰ کسی کی زباں سے نکل گیاخجلت سے آفتاب کا نقشبہ بدل گیاچمکا جو نور دھوپ کا جو بن بھی ڈھل گیادریائے نور حق کا فقط اوج موج تھاسب پست تھے زمیں کے ستارے کا اوج تھا

۸۷

صحرا کو شمعِ حسن نے تابند کر دیاجو مردہ دل تھے دم میں انہیں زندہ کر دیاذروں کو آفتاب درخشندہ کر دیاگردوں کو اس زمین نے شرمندہ کر دیاپایہ زمیں کا عرش کے ہم دست ہو گیاجادے سے اوجِ کاہکشاں پست ہو گیا

۸۸

اللہ رے نبیرۂ مشکل کشا کی شانتھی جس کے عضو عضو سے پیدا خدا کی شانحیراں تھے لوگ دیکھ کے اس مہ لقا کی شانحمزہ کا رعب زورِ علی مصطفی کی شانپاکیزگی نسب میں بزرگی صفات میںشیرینیٔ کلام حسنؔ بات بات میں

۸۹

کچھ حسن بچپنے کا تو کچھ آمد شبابوہ گل سا جسم اور وہ چہرے کی آب و تاباپنی جگہ یہ خال کے نقطے ہیں انتخابپتلی کا نور جن کی سیاہی سے بہرہ یابگردن کی ضو میں طَور تجلیٔ طُور کےسب عضو تن ڈھلے ہوئے سانچے میں نور کے

۹۰

دل پاک روح پاک نطر پاک جسم پاکطینت میں آبِ خلد تھا اور کربلا کی خاکغرفوں سے جس کے حسن کی حوروں کو جھانک تاکیوسف جو دیکھ لیں تو کہے روحنا فداکنام اس کا لوح پر جو قلم نے رقم کیاسو بار پڑھ کے سورۂ نور اس پہ دم کیا

۹۱

کیا دخل، چار ہو، جو کسی بے ادب کی آنکھرکھتی تھی رعب یہ، نہ عجم نہ عرب کی آنکھلاکھوں تھے اس طرف پہ جھپکتی تھی سب کی آنکھغصہ ستم کا، قہر کی چتون غضب کی آنکھپانی تھا، خوف جاں سے جگر، ہر دلیر کاآہو شکار کرتے تھے میداں میں شیر کا

۹۲

غل تھا رسولِ پاک کے ثانی کو دیکھناحسنِ بہار باغ جوانی کو دیکھناکھلتے ہیں گل شگفتہ بیانی کو دیکھنایہ سب تو ہے پہ غنچہ دہانی کو دیکھنانازک لب اس صفت کے دہن اس طریق کاخاتم پہ جڑ دیا ہے نگینہ عقیق کا

۹۳

کچھ عمر بھی نہیں ابھی اٹھارواں ہے سالیہ باغ کس بہار میں ہوتا ہے پائمالقامت یہ ہے کہ سروِ گلستانِ اعتدالماں باپ دیکھ دیکھ کے کیوں کر نہ ہوں نہالآنکھوں کے سامنے جو یہ قامت نہ ہوئے گیبتلاؤ ماں کہ دل پہ قیامت نہ ہوئے گی

۹۴

زخمی جو ہوگی تیر سے یہ چاند سی جبیںپٹکے گی سر کو خاک پہ بانوئے دل حزیںتیغوں سے جب کٹیں گے یہ رخسار نازنیںپیٹیں گے دونوں ہاتھوں سے منہ اپنا شاہِ دیںسینہ چھدے پسر کا تو کیا دل کو کل پڑےایوبؔ بھی جو ہوں تو کلیجہ نکل پڑے

۹۵

ناگاہ فوج کیں سے عمرؔ نے کیا کلامیہ وقت کار زار ہے اے ساکنانِ شامبس ہے یہی بساط شہنشاہِ خاص و عاممارا گیا یہ شیر تو مر جائیں گے اماملُوٹو جناب فاطمہؔ زہرا کے باغ کوٹھنڈا کرو حسینؔ کے گھر کے چراغ کو

۹۶

تصویر مصطفی کی مٹائے گا آج جوکہتا ہوں میں کہ صاحب جاگیر ہوگا وہمحبوب کبریا کے مشابہ ہے گر تو ہواب مصلحت یہی ہے کہ مہلت اسے نہ دوہے اس سے کیا مراد حسیں ہے کہ نیک ہےدو لاکھ اس طرف ہیں دلاور وہ ایک ہے

۹۷

دنیا نہ جائے دین کا گر ہو تو ہو ضررٹکڑے کرو اسے کہ یہ دشمن کا ہے پسرتم آب دیدہ ہو لبِ خشک اس کے دیکھ کرقطرہ نہ دوں میں گھٹنیوں اصغرؔ بھی آئے گرغیر از یزیدؔ اور کوئی حکمراں نہ ہواولاد مرتضیٰ میں کسی کا نشاں نہ ہو

۹۸

ہاں غازیو نہ اس کی جوانی کا غم کرونیزے پہ نیزے مارو ستم پر ستم کروبرچھی اٹھاؤ ہاتھوں پہ تیغیں علم کرونخلِ مرادِ سبطِ نبی کو قلم کروبیٹا نہ جب رہا تو کدھر جائیں گے حسینؔگھوڑے سے یہ گرے گا تو مرجائیں گے حسینؔ

۹۹

چھد جائے گا سناں سے جو اس شیر کا جگرتڑپیں گے کیا زمیں پہ شہنشاہ بحر و برڈیوڑھی سے ماں پکارے گی ہے ہے مرا پسرنکلے گی خیمہ گاہ سے زینبؔ برہنہ سرحضرت تو پیٹتے ہوئے لاشے پہ آئیں گےہم لوٹنے کو خیمۂ اقدس میں جائیں گے

۱۰۰

یہ گل عذار دخترِ حیدرؔ کی جان ہےبہنوں کی زندگی ہے برادر کی جان ہےبابا کی روح ہے تنِ مادر کی جان ہےبے جاں کرو اسے کہ یہ سب گھر کی جان ہےجوشن یہی ہے بازوئے برناوپیر کابعد اس کے خاتمہ ہے صغیر و کبیر کا

۱۰۱

یہ سن کے فوجِ کیں ہوئی آمادۂ نبرددردِ دل حسین کا تھا ایک کو نہ دردغل سن کے ہو گیا شہ والا کا رنگ زردکانپے جو پاؤں بیٹھ گئے بھر کے آہ سردماں گر پڑی زمیں پہ پھوپھی بلبلا گئیبدلی ستم کی واں علیؔ اکبر پہ چھا گئی

۱۰۲

قرنا پھکی سپاہ میں طبلِ وغا بجاباندھے پرے سواروں نے بڑھ بڑھ کے جابجاپیدل، چلے نبرد کو باجے بجابجاچلاے اہلِ بیت کہ ہے ہے یہ کیا بجاحضرت پکارے لال پہ اعدا کے ریلے ہیںرانڈو دعا کرو علیؔ اکبر اکیلے ہیں

۱۰۳

لڑنے کو اس طرف سے عدو سب کے سب بڑھےتنہا ادھر سے اکبرؔ عالی نسب بڑھےچومے قدم نہیب نے جھک کر یہ جب بڑھےگویا پئے جہاد امیر عرب بڑھےدہشت سے فوج شام کی بدلی سمٹ گئیقدرت خدا کی دن جو بڑھا رات گھٹ گئی

۱۰۴

ڈھالوں کو رکھ کے چہروں پہ گر گر پڑے حسودگو تھے کئی ہزار پہ کیا ان کی ہست و بودتھرا گیا تمام جنودِ سقر و رودنورِ خدا کے سامنے ظلمت کی کیا نمودعبرت سپاہ شام پہ دِہ چند ہو گئیباجوں کی فوجِ کیں کے صدا بند ہو گئی

۱۰۵

جرار کی زرہ پہ لگے جب کئی خدنگصفدر نے پڑھ کے فاتحہ، لی تیغ شعلہ رنگچمکا اک آئینہ کہ ہوئی فوجِ شام دنگدکھلائے تیغ تیز نے بجلی کے رنگ ڈھنگتھی کس کو تاب صاعقۂ شعلہ بار کییاد آ گئی ہر اک کو چمک ذوالفقار کی

۱۰۶

تھم تھم کے یوں گیا صفِ اعدا پہ وہ دلیرجاتا ہے داؤں کر کے غزالوں پہ جیسے شیرغازی جو بھوک پیاس میں تھا زندگی سے سیرکشتوں کے پشتے ہو گئے دم میں سروں کے ڈھیراک سیل زور شور سے آئی گذر گئیثابت نہ یہ ہوا صفِ اول کدھر گئی

۱۰۷

جب یہ بڑھے لہو تنِ اعدا کا گھٹ گیاباقی تھا جو حساب وہ لاشوں سے پٹ گیالشکر میں فرد فرد کا چہرا جو کٹ گیاپس دفعتاً سپاہ کا دفتر الٹ گیاسر داخلِ خزانۂ سرکار ہوگئےپہلا ہی جائزہ تھا کہ بیکار ہوگے

۱۰۸

چہرے پہ ایک کے نہ بحالی نظر پڑیجو صف بھری ہوئی تھی وہ خالی نظر پڑیسر پر سبھوں کے تیغ ہلالی نظر پڑیسوئے جنوب فوجِ شمالی نظر پڑیغل تھا کہ تیغ تیز نہیں موت آتی ہےکیوں کر قدم تھمیں کہ زمیں سرکی جاتی ہے

۱۰۹

ٹکڑے پڑے تھے خاک پہ بھالے اِدھر اُدھرچھپتے تھے ڈر کے برچھیوں والے اِدھر اُدھرپیشِ نظر تھے خون کے تھالے اِدھر اُدھرابتر تھے دشتِ کیں میں رسالے اِدھر اُدھرملتا تھا فصل کا نہ ٹھکانا نہ باب کاشیرازہ کھل گیا تھا ستم کی کتاب کا

۱۱۰

بڑھ کر کسی نے وار جو روکا سپر کٹیچار آئینہ کٹا زرہِ خیرہ سر کٹینیزے کی ہرگرہ صفتِ نیشکر کٹیسینہ کٹا جگر ہوا زخمی کمر کٹیرہوار بھی دو نیم میانِ مصاف تھاان سب کے بعد منہ کو جو دیکھا تو صاف تھا

۱۱۱

وہ گھاٹ باڑھ اور وہ اس کی چمک دمککانپی کبھی زمیں کبھی تھرا گئے فلکشعلے میں یہ چمک تھی نہ بجلی میں یہ لپکہر ضرب میں سما سے تلاطم تھا تا سمککونین میں حواس بجا تھے نہ ایک کےگاوِ زمیں سمٹتی تھی گھنٹوں کو ٹیک کے

۱۱۲

سیدھی چلی وہ جب صفِ دشمن الٹ گئیباقی تھی جتنی عمر تہِ تیغ کٹ گئیآ کر زمیں پہ جب سوئے گردن پلٹ گئیبجلی سے رعد رعد سے بجلی لپٹ گئیگرتے تھے جن، زمین پہ منہ ڈھانپ ڈھانپ کےہٹتے تھے جبرئیل امیں کانپ کانپ کے

۱۱۳

ملتا نہ تھا صفوں میں عَلم کا نشاں کہیںچلے کہیں تھے شست کہیں اور کماں کہیںنیزے کہیں تھے ڈانڈ کہیں اور سناں کہیںجمدھر کہیں کمند کہیں برچھیاں کہیںاک اک سیاہ رو کا جگر داغ داغ تھاجنگل تمام ڈھالوں کے پھولوں سے باغ تھا

۱۱۴

چمکی گری اٹھی ادھر آئی اُدھر گئیخالی کیے پرے تو صفیں خوں میں بھر گئیکاٹے کبھی قدم کبھی بالائے سر گئیندی غضب کی تھی کہ چڑھی اور اتر گئیاک شور تھا یہ کیا ہے جو قہر صمد نہیںایسا تو رودِ نیل میں بھی جزر و مد نہیں

۱۱۵

سر خود سروں کے چنبر گردن سے اڑ گئےہاتھ آستیں سے اڑ گئے سر تن سے اڑ گئےڈر ڈر کے سب پرند نشیمن سے اڑ گئےپائی جو راہ طائرِ جاں سَن سے اڑ گئےتھے قتلِ عام پر علیؔ اکبر تلے ہوئےرستے تھے بند زخموں کے کوچے کھلے ہوئے

۱۱۶

اللہ رے دو زبانیٔ تیغ دو دم کا کاٹآفت تھی جس کی باڑھ قیامت تھا جس کا گھاٹمقتل سے تا بہ نہر تھا دریائے خوں کا پاٹہر دم تھی اس کو تازہ لہو چاٹنے کی چاٹسختی کو جوڑ بند کے کب مانتی تھی وہہر استخواں کو مغز قلم جانتی تھی وہ

۱۱۷

آئی جدھر پلٹ کے صفوں کو بچھا گئیتن سے اڑا دیا وہی سر جس کو پا گئیہر اک کڑی کو نرم سمجھ کر چبا گئیفولاد کی زرہ کو اشارے میں کھا گئیچار آئینہ کا کاٹ بھی اس پر حوالہ تھاذکر اس کا کیا ہے خود تو منہ کا نوالہ تھا

۱۱۸

یارا قرار کا تھا نہ صورت فرار کیپیدل کی موت تھی تو خرابی سوار کیروئیں تنوں کو، تاب نہ تھی ایک وار کیٹکڑے تھے دو کے ہاتھ یہ گھائی تھی چار کیآگے بڑھے تو منہ وہیں کٹ جائے گیو کابجلی کی تھی کڑک کہ طمانچہ تھا دیو کا

۱۱۹

اتری زمیں پہ وہ سر دشمن پہ جب چڑھیدم بھر میں آبِ تیغ کی ندی غضب چڑھیاک شور تھا صفوں میں کب اتری یہ کب چڑھیسب کو بخارِ تیغ سے لرزے کی تپ چڑھیمقتل سے بھاگنے پہ تنک ظرف تُل گئےکانپے یہ نیزہ باز کہ سب بند کُھل گئے

۱۲۰

زندہ کسی کو تیغ دو دم چھوڑتی نہ تھیپیاسی یہ تھی کہ جسم میں دم چھوڑتی نہ تھیبے دم کیے گلا کوئی دم چھوڑتی نہ تھیبھاگیں کہاں کہ موت قدم چھوڑتی نہ تھیخود وہ دبے جو لڑتے تھے گھوڑوں کو داب کےبیڑی قدم میں بن گئے، حلقے رکاب کے

۱۲۱

قعرِ سقر میں کشتۂ ضربِ نخست تھےبے سر ہوئے بہت جو لڑائی میں چست تھےقبضہ میں تھا نہ زور نہ بازو درست ھےکھینچیں کسے کمانوں کے بازو بھی سست تھےہر کج نہاد تیر اجل کا نشانہ تھاشانے بھی تھے قلم یہ نیا شاخسانہ تھا

۱۲۲

تیغوں کو ڈر کے عربدہ جو پھینکنے لگےمغفر سروں سے مثل سبو پھینکنے لگےحلقے کماں کے سب لب جو پھینکنے لگےتنکا سمجھ کے تیر عدو پھینکنے لگےترکش بھی اہل ظلم کے آفت رسیدہ تھےچلّے بھی کشمکش میں کماں سے کشیدہ تھے

۱۲۳

کرتے تھے فتح جنگ کو جو ایک آن میںرعشہ تھا ان کے ہاتھ میں لکنت زبان میںالجھاتے تھے کمند کمینے کمان میںترکش میں تیغیں رکھتے تھے تیروں کو میان میںتلوار رکھ کے ہاتھ سے منہ ڈھانپ لیتے تھےآتی تھی تیغ جب تو سپر پھینک دیتے تھے

۱۲۴

بڑھتے تھے جو پرے سے بڑے بول بول کےپہلے انہیں کو مار لیا رول رول کےحملہ کیا جو تیغِ دو دم تول تول کےہتھیار سب نے پھینک دیے کھول کھول کےاس شان سے کبھی نہ عجم نہ عرب لڑےدو دن کی پیاس میں علیؔ اکبر غضب لڑے

۱۲۵

دہشت سے کتنے ڈوب کے دریا میں مر گئےاس گھاٹ پر جو آئے سر ان کے اتر گئےرستہ تھا ایک اِدھر وہ گئے یا اُدھر گئےہر پھر کے ہر طرف سے میانِ سقر گئےنار ان کے اشتیاق میں آب ان کی لاگ میںپھینکا ہوا نے آب میں پانی نے آگ میں

۱۲۶

وہ حرب وہ شکوہ وہ شان پیمبرینعرے وہ زور و شور کے وہ ضرب حیدریؔوہ تیغ خوں چکاں وہ جلالِ غضنفریراکب جو رشکِ حور تو رہوار بھی پریچالاک آہوانِ ختن اس قدر نہ تھےاڑ جاتا تھا ہما کی طرح اور پر نہ تھے

۱۲۷

باریک جلد وہ کہ نظر آئے تن کا خوںکنڈے کو دیکھ کر مہِ نو ہووے سرنگوںرفتار میں وہ سحر کہ پریوں کو ہو جنوںغنچے بھی کچھ بڑے ہیں کنوتی کو کیا کروںقرباں ہزار جان، فرس بے نظیر پرپیکان دو چڑھے ہوئے ہیں ایک تیر پر

۱۲۸

کوتاہ و گرد و صاف کنوتی کمر کفلکیا خوشنما کشادگیِٔ سینہ و بغلسیماب کی طرح نہیں آرام ایک پلپھرتا تھا اس طرح کہ پھرے جس طرح سے کَلراکب نے سانس لی کہ وہ کوسوں روانہ تھاتارِ نفس بھی اس کے لیے تازیانہ تھا

۱۲۹

وہ جست خیز سرعتِ چالاکیِٔ سمندسانچے میں تھے ڈھلے ہوئے سب اس کے جوڑ بندسُم قرص ماہتاب سے روشن ہزار چندنازک مزاج و شوخ و سیہ جسم سر بلندگر ہل گئی ہوا سے ذرا باگ اڑ گیاپُتلی سوار کی نہ پھری تھی کہ مُڑ گیا

۱۳۰

آہو کی جست شیر کی آمد پری کی چالکبکِ دری خجل پر طاؤس پائمالسبزہ سبک روی میں قدم کے تلے نہالاک دو قدم میں بھول گئے چوکڑی غزالجو آ گیا قدم کے تلے گرد برد تھاچھل بل غضب کی تھی کہ چھلاوا بھی گرد تھا

۱۳۱

بجلی کبھی بنا کبھی رہوار بن گیاآیا عرق تو ابر گہر بار بن گیاگہ قطب، گاہ گنبد دوّار بن گیانقطہ کبھی بنا کبھی پرکار بن گیاتیراں تھے اس کے گشت پہ لوگ اس ہجوم کےتھوڑی سی جا میں پھرتا تھا کیا جھوم جھوم کے

۱۳۲

جب اس جری نے قتل کیے پانچ سو جواںہر صف سے ہر پرے سے اٹھا شور الاماںچلایا ابن سعدِ سیہ قلب و سخت جاںنکلیں وہ دس ہزار کماندار ہیں کہاںبرچھی کا اب ہے کام نہ تلوار چاہیےاس نوجواں پہ تیروں کی بوچھار چاہیے

۱۳۳

یہ سن کے تشنہ لب پہ چلے چار سو سے تیرپتھر عقب سے پڑنے لگے رو برو سے تیرآتے تھے فوج فوج، سپاہِ عدو سے تیزسب سرخ تھے شبیہ نبی کے لہو سے تیرمقتل میں کیا ہجوم تھا اس نور عین پرپروانے گر رہے تھے چراغِ حسینؔ پر

۱۳۴

سینے پہ تیر کھا کے اٹھایا جو راہواربجلی چمک کے ہو گئی گویا فلک کے پارسر خاک پر گرانے لگی تیغِ آبدارتیروں کو پھینک پھینک کے بھاگے خطا شعارحملہ کیا تھا جن پہ رخ ان کے تو پھر گئےپر یہ پلٹ کے برچھیوں والوں میں گھر گئے

۱۳۵

یوں آ گیا سنانوں میں وہ آسماں جنابہو جس طرح خطوطِ شعاعی میں آفتابسوکھی زباں میں پڑ گئے کانٹے بغیر آبطاقت بھی فرط ضعف سے دینے لگی جوابآمد ہوئی جو غش کی سرِ پاک جھک گیاواحسرتا کہ ہاتھ بھی لڑنے سے رک گیا

۱۳۶

اس حال میں بھی تیغ سے کیں برچھیاں قلملیکن جگر پہ لگ گیا اک نیزۂ ستمزخمِ جگر سے بہنے لگا خون دم بہ دمنکلے ہوئے رکابوں سے تھراتے تھے قدمکھینچا جو اس نے سینے سے نیزہ تکاں کے ساتھدو پارۂ جگر نکل آئے سناں کے ساتھ

۱۳۷

نیزہ لگا کے بھاگ چلا تھا وہ نابکارقربان جرأتِ پسرِ شاہِ نامدارزخمِ سناں تھا سینۂ انور کے وار پارماری شقی کو دوڑ کے اک تیغ آبدارپہونچوں سے اس کے ہاتھ قلم ہو کے گر پڑےلیکن فرس سے آپ بھی خم ہو کے گر پڑے

۱۳۸

گرنا تھا بس کہ سر پہ لگا گرز ہے ستمیوں جھک گئے کہ ہوتے ہیں سجدے میں جیسے خمرکھ دی گلے پر شیثؔ نے شمشیر تیز دمتلوار اک پڑی کہ ہوئیں پسلیاں قلمغل تھا کرو نہ رحم تنِ پاش پاش پردوڑا دو گھوڑے اکبرؔ مہرو کی لاش پر

۱۳۹

حضرت کھڑے تھے خیمے کی پکڑے ہوئے طنابسن کر یہ غل رہی نہ دلِ ناتواں کو تابناگاہ رن سے آئی صدا اے فلک جناببیٹا جہاں سے جاتا ہے اب آئیے شتابلاشے پہ ظلم و جور بد افعال کرتے ہیںگھوڑوں سے اہل کیں ہمیں پامال کرتے ہیں

۱۴۰

سن کر یہ استغاثۂ فرزند خوش خصالسید نے آہ کی کہ ہلا عرش ذو الجلالکھولے جناب فاطمہؔ کی بیٹیوں نے بالبانوؔ پکاری خیر تو ہے اے علیؔ کے لالہے ہے پسر سے کون سی مادر بچھڑ گئیصاحب بتاؤ کیا مری بستی اجڑ گئی

۱۴۱

نیزے سے کس کے لال کا زخمی ہوا جگرکرتے ہیں کس کی لاش کو پامال اہلِ شرکہتا ہے کون رن میں تڑپ کر پدرپدراب گھر سے میں نکلتی ہوں ہے ہے مرا پسرپردہ نہ مجھ سے کیجیے سب جانتی ہوں میںآواز یہ اسی کی ہے پہچانتی ہوں میں

۱۴۲

بانوؔ کو قسمیں دے کے چلے شاہِ نامداروہ پیاس اور وہ دھوپ کا صدمہ وہ اضطراردل تھا الٹ پلٹ تو کلیجہ تھا بے قراراٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربارچلاتے تھے شبیہ پیمبر ہم آتے ہیںگھبرائیو نہ اے علیؔ اکبر ہم آتے ہیں

۱۴۳

بیٹا پکارو پھر کہ بصارت میں فرق ہےاے نور عین جسم کی طاقت میں فرق ہےتم یہ نہ جانیو کہ محبت میں فرق ہےزخمی ہے قلب روح کی راحت میں فرق ہےداغِ جگر ملا ہمیں گودی میں پال کےکس کو دکھاؤں اپنا کلیجہ نکال کے

۱۴۴

آؤں کدھر کو اے علیؔ اکبر جواب دوچلا رہی ہے ڈیوڑھی پہ مادر جواب دواکبرؔ برائے خالقِ اکبر جواب دوبیٹا جواب دو مرے دلبر جواب دوگرتے ہیں ہم ثواب کا ہاتھوں سے کام لوبیٹا ضعیف باپ کے بازو کو تھام لو

۱۴۵

کچھ سوجھتا نہیں کہ کدھر جاؤں کیا کروںاے نورِ چشم تجھ کو کہاں پاؤں کیا کروںمضطر ہے جان و دل کسے سمجھاؤں کیا کروںکیوں کر پسر کو ڈھونڈھ کے میں لاؤں کیا کروںپایا تھا مدتوں میں جسے خاک چھان کےوہ لال ہم نے کھو دیا جنگل میں آن کے

۱۴۶

بس اب خبر حسینؔ کی لے جلد اے اجلاے جسم زار، زیست کا باقی نہیں محلاے جانِ ناتواں تنِ مجروح سے نکلہاں اے نفس چھری کی طرح سے گلے پہ چلچھوٹے نہ اس کا ہاتھ جو پیری کی آس ہولاشہ بھی لاشۂ علیؔ اکبر کے پاس ہو

۱۴۷

جنگل سے بے حواس پھرے نہر پر گئےواں بھی جو وہ گہر نہ ملا سوئے بر گئےدوڑے کسی طرف تو کسی جا ٹھہر گئےتھالے ملے لہو کے برابر جدھر گئےٹپکا ہوا زمیں پہ جگر کا لہو ملالیکن کہیں نہ وہ پسر ماہ رو ملا

۱۴۸

جا کر صفوں کے پاس پکارے باشکِ آہہے کس طرف مرے علیؔ اکبر کی قتل گاہاے ظالمو، یہ شب ہے کہ دن ہو گیا سیاہکس ابر میں چھپا ہے مرا چودھویں کا ماہبتلاؤ جان ہے کہ نہیں جسم زار میںزخمی پڑا ہے شیر مرا کس کچھار میں

۱۴۹

لاش پسر کو ڈھونڈھتے تھے شاہِ بحر و برسر پیٹنے کی جا ہے کہ ہنستے تھے اہل شہرکہتا تھا شمر اے پسر سید البشرکس کو حضور ڈھونڈھتے ہیں مر گیا پسرخود ڈھونڈھ لیجیے جسد پاش پاش کوبتلائیں گے نہ ہم علیؔ اکبر کی لاش کو

۸۹ / ۹۰