کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

سینے پہ تیر کھا کے اٹھایا جو راہواربجلی چمک کے ہو گئی گویا فلک کے پارسر خاک پر گرانے لگی تیغِ آبدارتیروں کو پھینک پھینک کے بھاگے خطا شعارحملہ کیا تھا جن پہ رخ ان کے تو پھر گئےپر یہ پلٹ کے برچھیوں والوں میں گھر گئے

About this couplet

This is couplet 134 of 149 in “⁨کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۳۴ / ۱۴۹