کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

نیزہ لگا کے بھاگ چلا تھا وہ نابکارقربان جرأتِ پسرِ شاہِ نامدارزخمِ سناں تھا سینۂ انور کے وار پارماری شقی کو دوڑ کے اک تیغ آبدارپہونچوں سے اس کے ہاتھ قلم ہو کے گر پڑےلیکن فرس سے آپ بھی خم ہو کے گر پڑے

About this couplet

This is couplet 137 of 149 in “⁨کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۳۷ / ۱۴۹