کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

بانوؔ کو قسمیں دے کے چلے شاہِ نامداروہ پیاس اور وہ دھوپ کا صدمہ وہ اضطراردل تھا الٹ پلٹ تو کلیجہ تھا بے قراراٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربارچلاتے تھے شبیہ پیمبر ہم آتے ہیںگھبرائیو نہ اے علیؔ اکبر ہم آتے ہیں

About this couplet

This is couplet 142 of 149 in “⁨کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۴۲ / ۱۴۹