کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے
جنگل سے بے حواس پھرے نہر پر گئےواں بھی جو وہ گہر نہ ملا سوئے بر گئےدوڑے کسی طرف تو کسی جا ٹھہر گئےتھالے ملے لہو کے برابر جدھر گئےٹپکا ہوا زمیں پہ جگر کا لہو ملالیکن کہیں نہ وہ پسر ماہ رو ملا
About this couplet
This is couplet 147 of 149 in “کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴۷ / ۱۴۹