کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

کاٹے ہیں جس نے بازوئے لخت دلِ امیرہے خوب آبدار، وہ شمشیرِ بے نظیرچھیدا ہے جس سے مشک کو موجود ہے وہ تیرہر گرز وہ ہے، ضرب سے جس کی ہوئے اخیرتڑپے تھے جس سے مشک کو دانتوں سے چھوڑ کربرچھی یہ ہے جو نکلی تھی پہلو کو توڑ کر

About this couplet

This is couplet 15 of 149 in “⁨کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵ / ۱۴۹