کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے
اکبر نے کی غضب کی نظر سوئے فوج شامکانپے یہ غیظ سے کہ اگلنے لگی حسامکی عرض ہاتھ جوڑ کے اے قبلۂ انامسنتے ہیں آپ لشکرِ اعدا کا یہ کلامخوں تن میں جوش کھاتا ہے ہنگام جنگ ہےمولا بس اب تو حوصلۂ صبر تنگ ہے
About this couplet
This is couplet 17 of 149 in “کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۷ / ۱۴۹