کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

باہر سدھارے یا ابھی ہیں ماں سے کچھ کلامبھابی نے کیوں لیا تھا ابھی رو کے میرا نامسینے پہ منہ کو رکھ کے یہ بولا وہ لالہ فامآنکھیں تو آپ کھولیے حاضر ہے یہ غلامخادم جدا نہ تھا شہِ گردوں سریر سےکس جرم پہ حضور خفا ہیں حقیر سے

About this couplet

This is couplet 55 of 149 in “⁨کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۵ / ۱۴۹