کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

کیا کہہ دیا تھا مرنے کو جائے یہ گل بدنراضی ہوئی تھی میں کہ خزاں ہو مرا چمنبیخود ہوں جب سے رن میں سدھارے شہِ زمنکہتی ہوں کچھ زباں سے نکلتا ہے کچھ سخناتنی خبر نہیں علیؔ اکبر کے پیار میںقابو میں ہے نہ دل نہ زباں اختیار میں

About this couplet

This is couplet 64 of 149 in “⁨کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۶۴ / ۱۴۹