فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
عوراتِ محلہ چلی آتی ہیں بصد غمکہتی ہیں یہ دن رحلتِ زہراؔ سے نہیں کمپُرسے کی طرح رونے کا غل ہوتا ہے ہر دمفرش اٹھتا ہے کیا بچھتی ہے گویا صفِ ماتمغل ہوتا ہے ہر سمت، جدا ہوتی ہے زینبؔہر اک کے گلے ملتی ہے اور روتی ہے زینبؔ
About this couplet
This is couplet 10 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۰ / ۱۱۴