کلامِ انیسمثنویات، مراثی و دیگر
فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہےسادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہےدر پیش ہے وہ غم، کہ جہاں زیر و زبر ہےگل چاک گریباں ہیں صبا خاک بہ سر ہےگل رو صفتِ غنچہ کمر بستہ گھڑے ہیںسب ایک جگہ صورتِ گلدستہ کھڑے ہیں
آراستہ ہیں بہر سفر، سروِ قبا پوشعمامے سروں پر ہیں عبائیں بسر دوشیارانِ وطن ہوتے ہیں آپس میں ہم آغوشحیراں کوئی تصویر کی صورت کوئی خاموشمنہ ملتا ہے رو کر کوئی سرور کے قدم پرگر پڑتا ہے کوئی علیؔ اکبر کے قدم پر
عباسؔ کا منہ دیکھ کے کہتا ہے کوئی آہاب آنکھوں سے چھپ جائے گی تصویر یداللہکہتے ہیں گلے مل کے یہ قاسم کے ہوا خواہواللہ دلوں پر ہے عجب صدمۂ جانکاہہم لوگوں سے شیریں سخنی کون کرے گایہ انس، یہ خُلقِ حسنی کون کرے گا
روتے ہیں وہ، جو عون و محمد کے ہیں، ہم سنکہتے ہیں کہ مکتب میں نہ جی بہلے گا تم بناس داغ سے چین آئے ہمیں، یہ نہیں ممکنگرمی کا مہینہ ہے سفر کے یہ نہیں دنتم حضرتِ شبیرؔ کے سایے میں پلے ہوکیوں دھوپ کی تکلیف اٹھانے کو چلے ہو
ہم جولیوں سے کہتے تھے وہ دونوں برادرہاں بھائیو تم بھی ہمیں یاد آؤ گے اکثرپالا ہے ہمیں شاہ نے، ہم جائیں نہ کیوں کرماموں رہیں جنگل میں تو اپنا ہے وہی گھروہ دن ہو کہ ہم حقِّ غلامی سے ادا ہوںتم بھی یہ دعا مانگو کہ ہم شہ پہ فدا ہوں
رخصت کے لئے لوگ چلے آتے ہیں باہمہر قلب حزیں ہے، تو ہر اک چشم ہے پُر نمایسا نہیں گھر کوئی کہ جس میں نہیں ماتمغل ہے کہ چلا دلبرِ مخدومۂ عالمخدام کھڑے پیٹتے ہیں قبر نبی کےروضہ پہ اداسی ہے رسولِ عربی کے
ہے جب سے کھلا حالِ سفر بند ہے بازاریہ جنسِ غم ارزاں ہے کہ روتے ہیں دکاں دارخاک ارتی ہے ویرانیِ یثرب کے ہیں آثارہر کوچے میں ہے شور، کہ ہے ہے شہِ ابراراب یاں کوئی والی نہ رہا آہ ہماراجاتا ہے مدینے سے شہنشاہ ہمارا
تدبیر سفر میں ہیں ادھر سبطِ پیمبرگھر میں کبھی آتے ہیں کبھی جاتے ہیں باہراسباب نکلواتے ہیں عباسؔ دلاورتقسیم سواری کے تردد میں ہیں اکبرؔشہ کو جنہیں لے جانا ہے، وہ پاتے ہیں گھوڑےخالی ہوا اصطبل، چلے آتے ہیں گھوڑے
حاضر درِ دولت پہ ہیں، سب یاور و انصارکوئی تو کمر باندھتا ہے اور کوئی ہتھیارہودج بھی کسے جاتے ہیں، محمل بھی ہیں تیارچلاتے ہیں درباں، کؤی آئے نہ خبردارہر محمل و ہودج پہ گھٹا ٹوپ پڑے ہیںپردے کی قناتیں لئے فراش کھڑے ہیں
عوراتِ محلہ چلی آتی ہیں بصد غمکہتی ہیں یہ دن رحلتِ زہراؔ سے نہیں کمپُرسے کی طرح رونے کا غل ہوتا ہے ہر دمفرش اٹھتا ہے کیا بچھتی ہے گویا صفِ ماتمغل ہوتا ہے ہر سمت، جدا ہوتی ہے زینبؔہر اک کے گلے ملتی ہے اور روتی ہے زینبؔ
لے لے کے بلائیں یہی سب کرتی ہیں تقریراس گرمی کے موسم میں کہاں جاتے ہیں شبیرؔسمجھاتی نہیں بھائی کو اے شاہ کی ہمشیرمسلم کا خط آ لے تو کریں کوچ کی تدبیرللّٰلہ ابھی قبر پیمبرؐ کو نہ چھوڑیںگھر فاطمہؔ زہرا کا ہے اس گھر کو نہ چھوڑیں
وہ گھر ہے ملک رہتے تھے جس گھر کے نگہباںکیوں اپنے بزرگوں کا مکاں کرتے ہیں ویراںکوفے کی بھی خلقت تو نہیں صاحب ایماںبی بی یہ مدینے کی تباہی کا ہے ساماںایک ایک شقی دشمنِ اولادِ علیؔ ہےشمشیر ستم واں سرِ حیدر پہ چلی ہے
اجڑے گا مدینہ جو یہ گھر ہوئے گا خالیبربادیِ یثرب کی بنا چرخ نے ڈالیکیا جانیں پھر آئیں کہ نہ آئیں شہِ عالیحضرت کے سوا کون ہے اس شہر کا والیزہراؔ ہیں نہ حیدرؔ نہ پیمبر نہ حسنؔ ہیںاب ان کی جگہ آپ ہیں یا شاہِ زمن ہیں
گرمی کا یہ دن اور پہاڑوں کا سفر آہان چھوٹے سے بچوں کا نگہبان ہے اللہرستے کی مشقت سے کہاں ہیں ابھی آگاہان کو تو نہ لے جائیں سفر میں شہِ ذی جاہقطرہ بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں ملتاکوسوں تلک اس راہ میں پانی نہیں ملتا
منہ دیکھ کے اصغر کا چلا آتا ہے روناآرام سے مادر کی کہاں گود میں سوناجھولا یہ کہاں اور کہاں نرم بچھونالکھا تھا اسی سن میں مسافر انہیں ہوناکیا ہوگا جو میداں میں ہوا گرم چلے گییہ پھول سے کمھلائیں گے، ماں ہاتھ ملے گی
ان بیبیوں سے کہتی تھی یہ شاہ کی ہمشیربہنوں ہمیں یثرب سے لئے جاتی ہے تقدیراس شہر میں رہنا نہیں ملتا کسی تدبیریہ خط پہ خط آئے ہیں کہ مجبور ہیں شبیرؔمجھ کو بھی ہے رنج ایسا کہ کچھ کہہ نہیں سکتیبھائی سے جدا ہو کے مگر رہ نہیں سکتی
اماں کی لحد چھوڑ کے میں یاں سے نہ جاتیفاقے بھی اگر ہوتے تو غم اس کا نہ کھاتیبھائی کی طرف دیکھ کے شق ہوتی ہے چھاتیبے جائے، مجھے بات کوئی بن نہیں آتیظاہر میں تو مابین لحد سوتی ہیں اماںمیں خواب میں جب دیکھتی ہوں روتی ہیں اماں
ہے روح پہ اماں کی قلق کرتی ہیں زاریسر پیٹتے میں نے انہیں دیکھا کئی باریروداد بیاں کر گئی ہیں مجھ سے وہ ساریفرماتی تھیں بھائی سے خبر دار میں واریغم خوار ہے تو اور خدا حافظِ جاں ہےنہ باپ ہے سر پر مرے بچے کے نہ ماں ہے
یاد آتی ہے ہر دم مجھے اماں کی مصیبتکچھ جان کی تھی فکر نہ ان کو دمِ رحلتآہستہ یہ فرماتی تھیں باصد غم و حسرتشبیرؔ سدھارے جو سوئے وادیِٔ غربتاس دن مری تربت سے بھی منہ موڑیو زینبؔاس بھائی کو تنہا نہ کبھی چھوڑیو زینبؔ
اماں کی وصیت کو بجا لاؤں نہ کیوں کرگھر بھائی سے تھا بھائی نہ ہوگا تو کہاں گھردو بہنیں ہیں ماں جائیاں اور ایک برادررسی سے بندھے ہاتھ کہ بلوے میں کھلے سرجو ہووے سو ہو بھائی کے ہمراہ ہے زینبؔاس کوچ کے انجام سے آگاہ ہے زینبؔ
یہ کہتی تھی زینبؔ کہ پکارے شہِ عادلتیار ہیں دروزاے پہ سب ہودج و محملطے شام تلک ہوگی کہیں آج کی منزلرخصت کرو لوگوں کو بس اب رونے سے حاصلچلتی ہے ہوا سرد ابھی وقت سحر ہےبچے کئی ہمراہ ہیں گرمی کا سفر ہے
رخصت کرو ان کو جو کہ ہیں ملنے کو آئےکہہ دو کوئی گہوارۂ اصغر کو بھی لائےنادان سکینہؔ کہیں آنسو نہ بہائےجانے کی خبر میری نہ صغراؔ کہیں پائےڈر ہے کہیں گھبرا کے نہ دم اس کا نکل جائےباتیں کرو ایسی کہ وہ بیمار بہل جائے
رخصت کو ابھی قبر پیمبر پہ ہے جاناکیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہوئے مرا آنااماں کی لحد پر ہے ابھی اشک بہانااس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگاناآخر تو لئے جاتی ہے، تقدیر وطن سےچلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسن سے
سن کر یہ سخن بانوئے ناشاد پکاریمیں لٹتی ہوں کیسا سفر اور کیسی سواریغش ہو گئی ہے فاطمہؔ صغرا مری پیارییہ کس کے لئے کرتے ہیں سب گریہ و زاریاب کس پہ میں اس صاحبِ آزار کو چھوڑوںاس حال میں کس طرح سے بیمار کو چھوڑوں
ماں ہوں میں، کلیجہ نہیں، سینہ میں سنبھلتاصاحب مرے دل کو ہے کوئی ہاتھوں سے ملتامیں تو اسے لے چلتی، یہ کچھ بس نہیں چلتارہ جاتیں جو بہنیں بھی تو دل اس کا بہلتادروازے پہ تیار سواری پہ کھڑی ہےپر اب تو مجھے جان کی صغراؔ کی پڑی ہے
چلاتی تھی کبراؔ کہ بہن آنکھ تو کھولوکہتی تھی سکینہؔ کہ ذرا منہ سے تو بولوہم جاتے ہیں تم اٹھ کے بغل گیر تو ہو لوچھاتی سے لگو باپ کی دل کھول کے رو لوتم جس کی ہو شیدا وہ برادر نہ ملے گاگھر بھر میں جو ڈھونڈو گی تو اکبر نہ ملے گا
ہشیار ہو کیا صبح سے بیہوش ہے خواہراصغرؔ کو کرو پیار کلیجے سے لگا کرچھاتی سے لگو اٹھ کے کھڑی روتی ہیں مادرہم روتے ہیں دیکھو تو ذرا آنکھ اٹھا کرافسوس، اسی طور سے غفلت میں رہو گیکیا آخری بابا کی زیارت نہ کرو گی
سن کر یہ سخن شاہ کے آنسو نکل آئےبیمار کے نزدیک گئے سر کو جھکائےمنہ دیکھ کے بانو کا سخن لب پہ یہ لائےکیا ضعف و نقاہت ہے، خدا اس کو بچائےجس صاحبِ آزار کا یہ حال ہو گھر میںدانستہ میں کیوں کر اسے لے جاؤں سفر میں
کہہ کر یہ سخن بیٹھ گئے سید خوش خواور سورۂ الحمد پڑھا تھام کے بازوبیمار نے پائی گلِ زہراؔ کی جو خوش بوآنکھوں کو تو کھولا پہ ٹپکنے لگے آنسوماں سے کہا مجھ میں جو حواس آئے ہیں اماںکیا میرے مسیحا مرے پاس آئے ہیں اماں
ماں نے کہا ہاں ہاں وہی آئے ہیں مری جاںجو کہنا ہو کہہ لو کہ یہاں اور ہے ساماںدیکھو تو ادھر روتے ہیں بی بی شہِ ذی شاںصغراؔ نے کہا ان کی محبت کے میں قرباںوہ کون سا ساماں ہے جو یوں روتے ہیں باباکھل کر کہو مجھ سے کہ جدا ہوتے ہیں بابا
یہ گھر کا سب اسباب گیا کس لئے باہرنہ فرش، نہ ہے مسندِ فرزند پیمبردالان سے کیا ہوگیا گہورۂ اصغرؔاجڑا ہوا لوگو نظر آتا ہے مجھے گھرکچھ منہ سے تو بولو مرا دم گھٹتا ہے اماںکیا سبطِ پیمبر سے وطن چھٹتا ہے اماں
شبیرؔ کا منہ تکنے لگی بانوئے مغمومصغراؔ کے لئے رونے لگیں زینبؔ و کلثومؔبیٹی سے یہ فرمانے لگی سیدِ مظلومپردہ رہا اب کیا تمہیں خود ہوگیا معلومتم چھٹتی ہو اس واسطے سب روتے ہیں صغراؔہم آج سے آوارہ وطن ہوتے ہیں صغراؔ
اب شہر میں اک دم ہے ٹھہرنا مجھے دشوارمیں پا بہ رکاب، اور ہو تم صاحبِ آزارپھر آتا ہے وہ گھر میں، سفر میں جو ہو بیمارتکلیف تمہیں دوں یہ مناسب نہیں زنہارغربت میں بشر کے لئے سو طرح کا ڈر ہےمیرا تو سفر رنج و مصیبت کا سفر ہے
لُو چلتی ہے خاک اڑتی ہے گرمی کے ہیں ایامجنگل مین نہ راحت، نہ کہیں راہ میں آرامبستی میں کہیں صبح، تو جنگل میں کہیں شامدریا کہیں حائل، کہیں پانی کا نہیں نامصحّت میں گوارا ہے جو تکلیف گذر جائےاس طرح کا بیمار نہ مرتا ہو تو مرجائے
صغراؔ نے کہا کھانے سے خود ہے مجھے انکارپانی جو کہیں راہ میں مانگوں تو گنہگارکچھ بھوک کا شکوہ نہیں کرنے کی یہ بیمارتبرید فقط آپ کا ہے شربتِ دیدارگرمی میں بھی راحت سے گزر جائے گی باباآئے گا پسینہ تپ اتر جائے گی بابا
کیا تاب اگر منہ سے کہوں درد ہے سر میںاف تک نہ کروں، بھڑکے اگر آگ جگر میںبھولے سے بھی شب کو نہ کراہوں گی سفر میںقربان گئی، چھوڑ نہ جاؤ مجھے گھر میںہو جانا خفا راہ میں گر روئے گی صغراؔیاں نیند کب آتی ہے جو واں سوئے گی صغراؔ
وہ بات نہ ہوگی، کہ جو بے چین ہوں مادرہر صبح میں پی لوں گی دوا آپ بنا کردن بھر، مری گودی میں رہیں گے علی اصغرؔلونڈی ہوں سکینہؔ کی، نہ سمجھو مجھے دخترمیں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دوبابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو
شہہ بولے کہ واقف ہے مرے حال سے اللہمیں کہہ نہیں سکتا مجھے درپیش ہے جو راہکھل جائے گا یہ راز بھی، گو تم نہیں آگاہایسا بھی کوئی ہے جسے بیٹی کی نہ ہو چاہناچار یہ فرقت کا الم سہتا ہوں صغراؔہے مصلحتِ حق یہی جو کہتا ہوں صغراؔ
اے نورِ بصر آنکھوں پہ لے کر تجھے چلناتو مجھ سے بہلتی، مرا دل تجھ سے بہلتاتپ ہے تجھے، اور غم سے جگر ہے مرا جلتایہ ضعف کہ دم تک نہیں سینے میں سنبھلتاجز ہجر علاج اور کوئی ہو نہیں سکتادانستہ تمہیں ہاتھ سے میں کھو نہیں سکتا
منہ تکنے لگی ماں کا وہ بیمار بصد غمچتون سے عیاں تھا کہ چلیں آپ موئے ہمماں کہتی تھی مختار ہیں، بی بی شہ عالممیرے تو کلیجے پہ چھری چلتی ہے اس دموہ درد ہے جس درد سے چارا نہیں صغراؔتقدیر سے کچھ زور ہمارا نہیں صغراؔ
صغراؔ نے کہا کوئی کسی کا نہیں زنہارسب کی یہی مرضی ہے کہ مر جائے یہ بیماراللہ نہ وہ آنکھ کسی کی ہے، نہ وہ پیاراک ہم ہیں کہ ہیں، سب پہ فدا سب کے ہیں غم خواربیزار ہیں سب ایک بھی شفقت نہیں کرتاسچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا
ہمشیر کے عاشق ہیں سلامت رہیں اکبرؔاتنا نہ کہا مر گئی یا جیتی ہے خواہرمیں گھر میں تڑپتی ہوں وہ ہیں صبح سے باہروہ کیا کریں برگشتہ ہے اپنا ہی مقدرپوچھا نہ کسی نے کہ وہ بیمار کدھر ہےنہ بھائیوں کو دھیان نہ بہنوں کو خبر ہے
کیا ان کو پڑی تھی جو وہ غم کھانے کو آتےمیں کون جو صورت مجھے دکھلانے کو آتےہوتی جو غرض چھاتی سے لپٹانے کو آتےزلفیں جو الجھتی تو، سلجھوانے کو آتےکل تک تو مرے حالِ پریشاں پہ نظر تھیتقدیر کے اس پیچ کی مجھ کو نہ خبر تھی
مانوس سکینہؔ سے ہیں عباسؔ دلاورمیں کون ہوں جو میری خبر پوچھتے آ کرسرسبز رہے خلق میں نو بادۂ شبّرشادی میں بلائیں مجھے یہ بھی نہیں باوربے دولہا بنے منہ کو چھپاتے ہیں ابھی سےمیں جیتی ہوں اور آنکھ چراتے ہیں ابھی سے
کس سے کہوں اس درد کو میں بیکس و رنجوربہنیں بھی الگ مجھ سے ہیں اور بھائی بھی ہیں دوراماں کا سخن یہ ہے کہ بیٹی میں ہوں مجبورہمراہیٔ بیمار کسی کو نہیں منظوردنیا سے سفر، رنج و مصیبت میں لکھا تھاتنہائی کا مرنا مری قسمت میں لکھا تھا
سب بیبیاں رونے لگیں سن سن کے یہ تقریرچھاتی سے لگا کر اسے کہنے لگے شبیرؔلو صبر کرو، کوچ میں اب ہوتی ہے تاخیرمنہ دیکھ کے چپ رہ گئی وہ بیکس و دلگیرنزدیک تھا دل چیر کے پہلو نکل آئےاچھا تو کہا منہ سے پہ آنسو نکل آئے
بانو کو اشارہ کیا حضرت نے کہ جاؤاکبر کو بلاؤ، علیؔ اصغر کو بھی لاؤآئے علیؔ اکبر تو کہا شاہ نے آؤروٹھی ہے بہن تم سے گلے اس کو لگاؤچلتے ہوئے جی بھر کے ذرا پیار تو کر لولینے انہیں کب آؤ گے اقرار تو کر لو
پاس آن کے اکبرؔ نے یہ کی پیار کی تقریرکیا مجھ سے خفا ہوگئیں صغراؔ مری تقصیرچلانے لگی، چھاتی پہ منہ رکھ کے، وہ دلگیرمحبوب برادر ترے قربان یہ ہمشیرصدقے ترے سر پر سے اتارے مجھے کوئیبل کھائی ہوئی زلفوں پہ وارے مجھے کوئی
رخساروں پہ سبزے کے نکلنے کے میں صدقےتلوار لئے شان سے چلنے کے میں صدقےافسوس سے ان ہاتھوں کے ملنے کے میں صدقےکیوں روتے ہو اشک آنکھوں سے ڈھلنے کے میں صدقےجلد آن کے بھینا کی خبر لیجیو بھائیبے میرے کہیں بیاہ نہ کر لیجیو بھائی
لکھنا مجھے نسبت کا اگر ہو کہیں سامانحقدار ہوں میں نیگ کی میرا بھی رہے دھیاناور مر گئی پیچھے تو رہے دل میں سب ارمانلے آنا دولہن کو مری تربت پہ میں قربانخوشنود مری روح کو کر دیجیو بھائیحق نیگ کا تم قبر پہ دھر دیجیو بھائی
پیارے مرے بھیا مرے مہ رو، علیؔ اکبرچھپ جائیں گے آنکھوں سے یہ گیسو، علیؔ اکبریاد آئے گی یہ جسم کی خوشبو، علیؔ اکبرڈھونڈھیں گی یہ آنکھیں تمہیں، ہر سو علیؔ اکبردل سینے میں کیوں کر تہہ و بالا نہ رہے گاجب چاند چھپے گا تو اجالا نہ رہے گا
کیا گذرے گی جب گھر سے چلے جاؤ گے بھائیکیسے مجھے ہر بات میں یاد آؤ گے بھائیتشریف خدا جانیے کب لاؤ گے بھائیکی دیر تو جیتا نہ ہمیں پاؤ گے بھائیکیا دم کا بھروسہ کہ چراغِ سحری ہیںتم آج مسافر ہو تو ہم کل سفری ہیں
ہا سچ ہے کہ بیمار کا بہتر نہیں جاناصحت سے جو ہیں ان میں کہاں میرا ٹھکانابھیا جو اب آنا تو مری قبر پہ آناہم گور کی منزل کی طرف ہوں گے رواناکیا لطف کسی کو نہیں گر چاہ ہماریوہ راہ تمہاری ہے تو یہ راہ ہماری
مرنا تو مقدم ہے، غم اس کا نہیں زنہارڈھڑکا ہے کہ جب ہوں گے عیاں موت کے آثارقبلہ کی طرف، کون کرے گا رخِ بیماریٰسین بھی پڑھنے کو نہ ہوگا کوئی غم خوارسانس اکھڑے گی جس وقت تو فریاد کروں گیمیں ہچکیاں لے لے کے تمہیں یاد کروں گی
ماں بولی یہ کیا کہتی ہے صغراؔ ترے قربانگھبرا کے نہ اب تن سے نکل جائے مری جانبیکس مری بچی، ترا اللہ نگہبانصحّت ہو تجھے میری دعا ہے یہی ہر آنکیا بھائی جدا بہنوں سے ہوتے نہیں بیٹاکنبے کے لئے جان کو کھوتے نہیں بیٹا
میں صدقے گئی بس نہ کرو گریہ و زاریاصغرؔ مرا روتا ہے صدا سن کے تمہاریوہ کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ پکاریآ آ مرے ننھے سے مسافر ترے واریچھٹتی ہے یہ بیمار بہن جان گئے تماصغرؔ مری آواز کو پہچان گئے تم
تم جاتے ہو اور ساتھ بہن جا نہیں سکتیتپ ہے تمہیں چھاتی سے میں لپٹا نہیں سکتیجو دل میں ہے لب پر وہ سخن لا نہیں سکتیرکھ لوں تمہیں اماں کو بھی سمجھا نہیں سکتیبیکس ہوں مرا کوئی مددگار نہیں ہےتم ہو سو تمہیں طاقتِ گفتار نہیں ہے
معصوم نے جس دم یہ سنی درد کی گفتارصغراؔ کی طرف ہاتھوں کو لٹکا دیا اک بارلے لے کے بلائیں یہ لگی کہنے وہ بیمارجھک جھک کے دکھاتے ہو مجھے آخری دیداردنیا سے کوئی دن میں گذر جائے گی صغراؔتم بھی یہ سمجھتے ہو کہ مر جائے گی صغراؔ
عباس نے اتنے میں یہ ڈیوڑھی سے پکاراچلنے کو ہے اب قافلہ تیار ہمارالپٹا کے گلے فاطمہؔ صغرا کو دوبارااٹھے شہِ دیں، گھر تہہ و بالا ہوا ساراجس چشم کو دیکھا سو وہ پر نم نظر آئیاک مجلسِ ماتم تھی، کہ برہم نظر آئی
بیت الشرفِ خاص سے نکلے شہِ ابرارروتے ہوئے ڈیوڑھی پہ گئے عترتِ اطہارفراشوں کو عباس پکارے یہ بہ تکرارپردے کی قناتوں سے خبردار! خبردارباہر حرم آتے ہیں، رسول دوسرا کےشقہ کوئی جھک جائے نہ جھونکے سے ہوا کے
لڑکا بھی جو کوٹھے پہ چڑھا ہو وہ اتر جائےآتا ہو ادھر جو وہ، اسی جا پہ ٹھہر جائےناقے پہ بھی کوئی نہ برابر سے گذر جائےدیتے رہو آواز جہاں تک کہ نظر جائےمریمؔ سے سوا حق نے شرف ان کو دیئے ہیںافلاک پہ آنکھوں کو ملک بند کیے ہیں
عباسؔ علی سے علیؔ اکبر نے کہا تبہیں قافلہ سالارِ حرم حضرت زینبؔپہلے وہ ہوں اسوار تو محمل میں چڑھیں سبحضرت نے کہا ہاں یہی میرا بھی ہے مطلبگھر میں مرنے زہراؔ کی جگہ بنتِ علیؔ ہےمیں جانتا ہوں ماں مرے ہمراہ چلی ہے
پہنچی جو ہیں ناقے کے قریں دخترِ حیدرؔخود ہاتھ پکڑنے کو بڑھے سبطِ پیمبرفضہ تو سنبھالے ہوئے تھی گوشۂ چادرتھے پردۂ محمل کو اٹھائے علیؔ اکبرفرزند کمر بستہ چپ و راس کھڑے تھےنعلین اٹھا لینے کو عباسؔ کھڑے تھے
اک دن تو مہیا تھا، یہ سامانِ سواریاک روز تھا وہ، گرد تھے نیزے لئے ناریمحمل تھا، نہ ہودج، نہ کجاوہ، نہ عماریبے پردہ تھی وہ حیدر کرار کی پیاریننھے کئی بچوں کے گلے ساتھ بندھے تھےتھے بال کھلے چہروں پہ اور ہاتھ بندھے تھے
زینت دہِ محمل جو ہوئی دخترِزہراؓناقوں پہ چڑھے سب حرمِ سیدِ والاآنے لگے رہوار، کھلا گرد کا پرداعباسؔ سے بولے یہ شہِ یثرب و بطحاصدمہ ہے بچھڑنے کا مرے روحِ نبی پررخصت کو چلو قبرِ رسولِ عربی پر
ہے قبر پہ نانا کی مقدم مجھے جاناکیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہو شہر میں آنااماں کی ہے تربت پہ ابھی اشک بہانااس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگاناآخر تو لیے جاتی ہے تقدیرِ وطن سےچلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسنؔ سے
پیدل شہِ دیں روضۂ احمد کو سدھارےتربت سے صدا آئی کہ آ آ مرے پیارےتعویذ سے شبیرؔ لپٹ کر یہ پکارےملتا نہیں آرام نواسے کو تمہارےخط کیا ہیں اجل کا یہ پیام آیا ہے ناناآج آخری رخصت کو غلام آیا ہے نانا
خادم کو کہیں امن کی اب جا نہیں ملتیراحت کوئی ساعت مرے مولا نہیں ملتیدکھ کون سا اور کون سی ایذا نہیں ملتیہیں آپ جہاں، راہ وہ اصلا نہیں ملتیپابندِ مصیبت ہوں گرفتارِ بلا ہوںخود پاؤں سے اپنے طرفِ قبر چلا ہوں
میں اک تنِ تنہا ہوں ستم گار ہزاروںاک جان ہے اور درپئے آزار ہزاروںاک پھول سے رکھتے ہیں، خلشِ خار ہزاروںاک سر ہے فقط اور خریدار ہزاروںواں جمع کئی شہر کے خوں ریز ہوئے ہیںخنجر مری گردن کے لئے تیز ہوئے ہیں
فرمایے اب جائے کدھر آپ کا شبیرؔیاں قید کی ہے فکر ادھر قتل کی تدبیرتیغیں ہیں کہیں میرے لئے اور کہیں زنجیرخوں ریزی کو کعبہ تلک آ پہنچے ہیں بے پیربچ جاؤں، جو پاس اپنے بلا لیجئے ناناتربت میں نواسے کو چھپا لیجئے نانا
یہ کہہ کے مَلا قبر سے شہہ نے جو رخِ پاکہلنے لگا صدمے سے مزارِ شہِ لولاکجنبش جو ہوئی قبر کو تھرا گئے افلاککانپی جو زمیں صحنِ مقدس میں اڑی خاکاس شور میں آئی یہ صدا روضۂ جد سےتم آگے چلو ہم بھی نکلتے ہیں لحد سے
باتوں نے تری دل کو مرے کر دیا مجروحتو شہر سے جاتا ہے تڑپتی ہے مری روحبے تیغ کیا، خنجرِ غم نے ترے مذبوحہے کشتیِٔ امت پہ تباہی، کہ چلا نوحافلاکِ امامت کا تجھے بدر نہ سمجھےبے قدر ہیں ظالم کہ تری قدر نہ سمجھے
مارا گیا جس روز سے شبرؔ مرا پیارااس روز سے ٹکڑے ہے کلیجہ مرا سارااب قتل میں ہوتا ہوں ترے ساتھ دوباراامت نے کیا پاسِ ادب خوب ہمارازہراؔ کی جو بستی کو اجاڑیں تو عجب کیااعدا مجھے تربت سے اکھاڑیں تو عجب کیا
اس ذکر پہ رویا کیے شہہ سر کو جھکائےواں سے جو اٹھے فاطمہؔ کی قبر پہ آئےپائینِ لحد گر کے بہت اشک بہائےآواز یہ آئی کہ میں صدقے مرے جائےہے شور ترے کوچ کا جس دن سے وطن میںپیارے میں اسی دن سے تڑپتی ہوں کفن میں
تربت میں جو کی میں نے بہت گریہ و زاریگھبرا کے علیؔ آئے نجف سے کئی باریکہتے تھے کہ اے احمدِ مختار کی پیاریتم پاس ہو تربت ہے بہت دور ہماریگھر لٹتا ہے کیوں کر ہمیں چین آئے گا زہراؓکیا ہم سے نہ رخصت کو حسینؔ آئے گا زہراؓ
میں نے جو کہا قبر سے کیوں نکلے ہو باہرنہ سر پہ عمامہ ہے نہ ہے دوش پہ چادرفرمایا کہ ماتم میں ہوں اے بنتِ پیمبرمرنے کو پسر جاتا ہے برباد ہوا گھرترسیں گے وہ پانی کو جو نازوں کے پلے ہیںتلواریں ہیں اب اور مرے بچوں کے گلے ہیں
پھرتا ہے مری آنکھوں میں شبیرؔ کا مقتلوہ نہرِ فرات اور کئی کوس کا جنگلوہ بجلیاں تلواروں کی اور شام کا بادلدریا سے وہ پیاسوں کے ہٹا دینے کی ہلچلشبیرؔ کے سر پر سے یہ آفت نہ ٹلے گیدسویں کو محرم کی چھری مجھ پہ چلے گی
سن کر یہ بیاں باپ کا مادر کی زبانیرو رو کے پکارا اسد اللہ کا جانیہاں والدہ سچ ہے نہ ملے گا مجھے پانیپیاسے ہیں مرے خون کے یہ ظلم کے بانیبچپن میں کیا تھا، مرا ماتم شہ دیں نےنانا کو خبر دی تھی مری روح امیں نے
پہلو میں جو تھی فاطمہؔ کے تربتِ شبرؔاس قبر سے لپٹے بہ محبت شہِ صفدرچلائے کہ شبیرؔ کی رخصت ہے برادرحضرت کو تو پہلو ہوا اماں کا میسرقبریں بھی جدا ہیں تہِ افلاک ہماریدیکھیں ہمیں لے جائے کہاں خاک ہماری
یہ کہہ کے چلے قبر حسن سے شہِ مظلومرہوار جو مانگا تو سواری کی ہوئی دھومیارانِ وطن گرد تھے افسردۂ مغمومچلاتے تھے خادم کہ چلا خلق کا مخدومخالی ہوا گھر آج رسول عربی کاتابوت اسی دھوم سے نکلا تھا بنی کا
جب اٹھ گئی تھیں خلق سے مخدومۂ عالمسر پیٹتے تھے لوگ اسی طرح سے باہمبرپا تھا جنازے پہ علیؔ کے یونہیں ماتمتھا رحلتِ شبرؔ میں محبوں کا یہی غمبس آج سے بے وارث و والی ہے مدینہاب پنجتن پاک سے خالی ہے مدینہ
چلاتی تھیں رانڈیں کہ چلی شہہ کی سواریلے گا خبر اب کون مصیبت میں ہماریآنکھوں سے یتیموں کی دُرِ اشک تھا جاریمضطر تھے اپاہج ضعفا کرتے تھے زاریکہتے تھے گدا، ہم کو غنی کون کرے گامحتاجوں کی فاقہ شکنی کون کرے گا
تھا، ناکے تلک شہر کے اک شورِ قیامتسمجھاتے ہوئے سب کو چلے جاتے تھے حضرترو رو کے وہ کہتا تھا جسے کرتے تھے رخصتپائیں گے کہاں ہم، یہ غنیمت ہے زیارتآخر تو بچھڑ کر کفِ افسوس ملیں گےدس بیس قدم اور بھی ہمراہ چلیں گے
قسمیں انہیں دے دے کے کہا شہ نے کہ جاؤتکلیف تمہیں ہوتی ہے اب ساتھ نہ آؤاللہ کو سونپا تمہیں آنسو نہ بہاؤپھرنے کے نہیں، ہم سے بس اب ہاتھ اٹھاؤاس بیکس و تنہا کی خبر پوچھتے رہنایارو مری صغراؔ کی خبر پوچھتے رہنا
روتے ہوئے وہ لوگ پھرے شاہ سدھارےجو صاحبِ قسمت تھے وہ ہمراہ سدھارےکس شوق سے مردانِ حق آگاہ سدھارےعابد طرفِ خانۂ اللہ سدھارےاترے نہ مسافر کسی مخلوق کے گھر میںعاشق کو کشش لے گئی معشوق کے گھر میں
روشن ہوئی کعبہ کی زمیں نورِ خدا سےمکہ نے شرف اور بھی پایا شرفا سےجھک جھک کے ملے، سبطِ پیمبر غربا سےآباد ہوا شہر، نمازوں کی صدا سےخوش ہو کے ہوا خواہ یہ کہتے تھے علیؓ کےسب باپ کی خو بو ہے نواسے میں نبی کے
کعبے مین بھی اک دن نہ ملا شاہ کو آرامکوفے سے چلے آتے تھے نامے سحر و شاماعدا نے گذرنے نہ دیے، حج کے بھی ایامکھولا پسرِ فاطمہ نے باندھ کے احرامعازم طرفِ راہِ الٰہی ہوئے حضرتتھی ہشتم ذی الحجہ کہ راہی ہوئے حضرت
جاتے تھے دل افسردہ و غمگیں شہِ ابرارہر گام پہ ہوتے تھے عیاں موت کے آثارقبریں نظر آتیں کسی صحرا میں جو دو چارفرماتے تھے شہ فاعتبرو یا اولی الابصارجز خاک نہ ہوئے گا نشان بھی بدنوں کاانجام یہ ہے ہم سے غریب الوطنوں کا
احباب کہیں، گھر ہے کہیں، آپ کہیں ہیںآگے تو زمیں پر تھے پر اب زیرِ زمیں ہیںخالی ہیں مکاں آپ تہِ خاک مکیں ہیںجو دور نہ رہتے تھے وہ اب پاس نہیں ہیںحسرت یہ رہی ہوگی کہ پہنچے نہ وطن میںکیا منہ کو لپیٹے ہوئے سوتے ہیں کفن میں
باتیں تھیں یہی یاس کی اور درد کی تقریرمنزل پہ بھی آرام سے سوتے تھے نہ شبیرؔشب کو کہیں اترے، تو سحر کو ہوئے رہگیرجلدی تھی کہ، ہو جائے شہادت میں نہ تاخیرمقتل کا یہ تھا شوق شہِ جن و بشر کوجس طرح سے ڈھونڈھے کوئی معشوق کے گھر کو
ملتا تھا کوئی مرد مسافر جو سر راہیوں پوچھتے تھے اس سے بہ حسرت شہہ ذی جاہایسا کوئی صحرا بھی ہے اے بندۂ اللہاک نہر سوا جس میں ہو چشمہ نہ کوئی چاہکیا ملتا ہے، اس دشت میں اور کیا نہیں ملتاہم ڈھونڈھتے پھرتے ہیں، وہ صحرا نہیں ملتا
وہ عرض یہ کرتا تھا کہ سبطِ شہِ لولاکہے سخت پُر اندوہ، وہ صحرا تہہ افلاکہنستا ہوا واں جائے تو ہو جاتا ہے غمناکسنتا ہوں وہاں دن کو اڑاتا ہے کوئی خاکواں راتوں کو آتی ہے صدا سینہ زنی کیدرویش کی ممکن ہے سکونت نہ غنی کی
چلاتی ہے عورت کوئی ہے ہے مرے فرزنداس دشت میں ہو جائے گا تو خاک کا پیوندتلواروں سے ٹکرے یہیں ہوں گے ترے دلبندپانی یہیں ہو جائے گا بچوں پہ ترے بندپیارے تو اسی خاک پہ گھوڑے سے گرے گاہے ہے یہیں خنجر تری گردن پہ پھرے گا
اک شیر ترائی میں یہ چلاتا ہے دن راتکٹ جائیں گے یاں ہاتھ مرے لال کے ہیہاتکیا حال کہوں نہر کا، اے شاہِ خوش اوقاتپانی تو نہیں شور، پہ مشہور ہے یہ باتطائر بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں پیتےوحشی کبھی واں آن کے پانی نہیں پیتے
اس جا نہ اترتا ہے نہ دم لیتا ہے رہ گیرہے شور کہ اس آب میں ہے آگ کی تاثیرپیاسوں کے لئے اس کی ہر اک موج ہے شمشیراس طرح ہوا چلتی ہے جس طرح چلیں تیربجھتی نہیں واں پیاس کس تشنہ گلو کیبو آتی ہے اس نہر کے پانی میں لہو کی
اس شخص سے یہ کہہ کے چلے قبلۂ عالماللہ نے چاہا تو بسائیں گے اسے ہمعاشق پہ بلا بعد بلا آتی ہے ہر دمغم اور بڑھا، وصل کا عرصہ جو رہا کمآفت یہ نئی فوج شہنشاہ میں آئیمسلم کی شہادت کی خبر راہ میں آئی
غربت میں نہ ماتم کی سنائے خبر اللہطاری ہوا حضرت پہ عجب صدمۂ جانکاہگوندھے ہوئے سر کھول کے پیٹے حرمِ شاہفرماتے تھے شہ سب کو ہے درپیش یہی راہہو گا وہی اللہ کو جو مدِ نظر ہےآج ان کا ہوا کوچ، کل اپنا بھی سفر ہے
وارث کے لئے زوجۂ مسلم کا تھا یہ حالمحمل سے گری پڑتی تھی بکھرائے ہوئے بالروتے تھے بہن کے لئے عباس خوش اقبالوہ کہتی تھی ساتھ آئے تھے چھوٹے مرے دو لالپوچھو تو کدھر وہ مرے پیارے گئے دونوںفرماتے تھے شبیرؔ کہ مارے گئے دونوں
محمل تھے سب اس بی بی کے ہودج کے برابرتھا شور کہ بیوہ ہوئی شبیرؔ کی خواہرگھبرا گئی تھی مسلمِؔ مظلوم کی دخترہر بار یہی پوچھتی تھی ماں سے لپٹ کرکیوں پیٹتی ہو کون جدا ہو گیا اماںغربت میں مرے باپ پہ کیا ہو گیا اماں
اس دن سے تو اک ابر ستم فوج پہ چھایاکھانا کئی دن قافلہ والوں نے نہ کھایارستے میں ابھی تھا اسداللہ کا جایاجو چاند محرم کا فلک پر نظر آیاسب نے مہِ نو لشکرِ شبیرؔ میں دیکھامنہ شاہ نے آئینۂ شمشیر میں دیکھا
خویش و رفقا چاند کی تسلیم کو آئےمجرے کو جھکے اور سخن لب پہ یہ لائےیہ چاند مبارک ہو یداللہ کے جائےکفار پہ تو فتح، اسی چاند میں پائےرتبہ مہہ و خورشید سے بالا رہے تیراتا حشر زمانے میں اجالا رہے تیرا
حضرت نے دعا پڑھ کے یہ کی حق سے مناجاتکر رحم گنہگاروں پہ اے قاضیِٔ حاجاتسر دینے کا مشتاق ہوں عالِم ہے تری ذاتخنجر مری آنکھوں میں پھرا کرتا ہے دن راتباقی ہیں جو راتیں وہ عبادت میں بسر ہوںیہ زیست کے دس دن تری طاعت میں بسر ہوں
پہنچا دے مجھے جلدی بس اے خالقِ افلاکاُس خاک پہ جس خاک سے ملتی ہے مری خاکطالب ہے ترے قرب کا سبطِ شہہ لولاکنہ ملک کی خواہش ہے نہ درکار ہے املاکبیتاب ہے دل صبر کا یارا نہیں مجھ کواب فصل بجز وصل گوارا نہیں مجھو کو
اتنے میں یہ فضہؔ علیؔ اکبر کو پکاریلو دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاریعادت ہے کہ وہ دیکھتی ہیں شکل تمہاریآنکھوں کو کیے بند یہ فرماتی ہیں واریآئے تو رخِ اکبرِ ذی قدر کو دیکھوںشکل مہِ نو دیکھ چکی بدر کو دیکھوں
شہ داخلِ خیمہ ہوئے فرزند کے ہمراہمنہ دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیارییہ چاند ہے کس طرح کا اے فاطمہؓ کے ماہفرمانے لگے رو کے بہن سے شہہِ ذی جاہسر تن سے مرا اس مہِ پُر غم میں کٹے گازینبؔ یہ مہینہ تمہیں ماتم میں کٹے گا
یہ آل نبی کی ہے مصیبت کا مہینایہ ظلم کا عشرہ ہے یہ آفت کا مہیناپہنچا ہے غریبوں کی شہادت کا مہیناآخر ہے بس اب عمر کی مدت کا مہینایہ بار امامت مری گردن سے اتر جائےہو خاتمہ بالخیر جو سر تن سے اتر جائے
گردوں پہ مہِ نو جو نمایاں ہے یہ ہمشیرچڑھتی ہے مرے سر کے لئے چرخ پہ شمشیراس چاند میں کٹ جائے گا سب لشکرِ شبیرنیزہ کوئی کھائے گا کلیجہ پہ، کوئی تیربرچھی کسی جانباز کے پہلو میں لگے گیشمشیر، کسی شیر کے پہلو میں لگے گی
خیمے کو جلا دیں گے، لٹے گا زر و زیوراس ماہ میں ہوں گے نہ پدر اور نہ برادرماؤں سے پسر چھوٹیں گے بہنوں سے برادربیوہ کئی سیدانیاں ہوویں گی مقررگھڑکیں گے ستمگار جو رووے گی سکینہؔاس ماہ میں بے باپ کی ہووے گی سکینہؔ
دولہا کوئی ٹاپوں کے تلے ہوئے گا پامالپیٹے گی کوئی تازہ دلہن کھولے ہوئے بالتیروں سے کسی ماں کا جگر ہووئے گا غربالنکلے گی کوئی کہتی ہوئی ہائے مرا لالمعصوموں کے سونے کی جگہ پائیں گے خالیبچوں سے بھری گودیاں ہو جائیں گی خالی
اس عشرۂ اوّل میں نہ ہوئیں گے بہن ہمتاریخِ سفر ہے دہم ماہِ محرمعشرہ یہ وہ عشرہ ہے کہ اے زینبِؔ پُر غمجس لال کی عاشق ہو وہ ہو جائے گا بے دمدیکھو گی نہ پھر منہ علیؔ اکبر سے پسر کااب شام میں ہوئے گا تمہیں چاند صفر کا
رونے کے لئے حق نے بنائے ہیں یہ دس دنان روزوں خوشی ہو کہ کسی کو نہیں ممکنلیویں گے مرا تعزیہ ہر شہر کے ساکناکبر کو جواں روئیں گے معصوموں کو کم سنبھولیں ہمیں ایسے نہیں غم خوار ہمارےہوئیں گے سیہ پوش عزادار ہمارے
غش ہو گئی سن کر یہ بیاں زینبؔ پُر غمخیمے میں اسی رات سے برپا ہوا ماتمبیدار رہیں صبح تلک بیبیاں باہمخیموں کو اکھڑوا کے چلے قبلۂ عالمآخر وہی صحرا، وہی جنگل نظر آیاتھی دوسری تاریخ کہ مقتل نظر آیا
اترے اسی میدانِ بلا خیز میں سروراستادہ ہوئے، خیمۂ ناموسِ پیمبرصحرا کی طرف دیکھ کے خوش ہو گئے اکبرؔدریا پہ ٹہلنے لگے عباسِؔ دلاورشہہ بولے ہوا نہر کی بھائی تمہیں بھائیہاں شیر ہو دریا کی ترائی تمہیں بھائی
خامے کو بس اب روک انیسؔ جگر افگارخالق سے دعا مانگ کہ اے ایزدِ غفارزندہ رہیں دنیا میں شہہ دیں کے عزادارغیر از غمِ شہ، ان کو نہ غم ہو کوئی زنہارآنکھوں سے مزارِ شہِ دلگیر کو دیکھیںاس سال میں بس روضۂ شبیرؔ کو دیکھیں
۹۰ / ۹۰